fbpx

قوم کوموٹرسائیکل سے گاڑی کی طرف لا رہے ہیں، فیصل سبزواری

اسلام آباد(محمداویس) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی صنعت و پیداوارمیں حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ ٹریکٹرکی قیمتوں میں اضافہ کا وزیراعظم نے نوٹس لے لیا ہے، قیمتوں کی کمی کے لیے اقدامات کررہے ہیں، حکومت چھوٹی فیملی کاروں کی قیمتوں میں کمی کے لیے اقدامات کررہی ہے، تا کہ لوگ موٹرسائیکل سے گاڑیوں کی طرف آئیں، کامیاب کسان میں 10کڑور روپے تک کا قرض لیا جاسکتا ہے، عالمی منڈی میں لوہا کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے ٹریکٹرکی قیمت بڑہی ہے، اون منی کے سسٹم کو ختم کرنے کے لیے نیا ٹیکس لگایا ہے، گاڑی ایک بندہ خریدتا ہے اوررجسٹرڈ کسی اورکے نام ہورہی ہوگی تو50ہزارسے 2لاکھ اضافی ٹیکس دینا ہوگا، 60 فیصد پارٹس پاکستان میں بنتے ہیں جبکہ ٹریکٹرکے 90 فیصد پرزے پاکستان میں بنتے ہیں.

چیرمین کمیٹی سینیٹرفیصل سبزواری نے کہا کہ سیل ٹیکس کم کردیا گیا ہے مگر ٹریکٹرکی قیمت بڑھ گئی ہے، گاڑیوں کی قیمتوں میں خاطرخواہ کمی نہیں ہوئی ہے.

چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل سبزواری کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی صنعت و پیداوارکا اجلاس پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا ہے، قائمہ کمیٹی برائے انڈسٹری اینڈ پروڈکشن کا اجلاس سنیٹر فیصل سبزواری کی سربراہی میں ہوا اجلاس میں ولید اقبال، فدا محمد، فیصل سلیم رحمان، ہدایت اللہ امام الدین شوقین نے شرکت کی ہے، چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ کمیٹی اپنا آئندہ اجلاس کراچی میں منعقد کرے گی، سیکریٹری صنعت و پیداوارنے کمیٹی کوبتایا کہ 21 موبائل کمپنیاں پاکستان میں آچکی ہیں، سام سنگ پاکستان میں موبائل اسمبلنگ یونٹ لگانے جا رہا ہے، اگلے چھ ماہ میں سام سنگ پاکستان میں موبائل اسمبلنگ یونٹ لگائے گا، دو کمپنیاں شارٹ لسٹ کرلی ہیں، کیا اورابراہیم سنز کے ساتھ جوائنٹ وینچر کرنے کی درخواست دی ہے، پاکستان ماہانہ 10 لاکھ موبائل فون تیارکررہا ہے، پاکستان کی ماہانہ طلب 3.6 ملین موبائل فون کی طلب ہے.

سیکرٹری وزارت نے کہا کہ ہائبرڈ گاڑیوں پرٹیکس الیکٹرک گاڑیوں سے زیادہ ہے ہم چاہتے ہیں کہ الیکٹرک گاڑیاں آئیں جب تک انفرسٹکچرنہیں بنتا تو یہ گاڑیاں زیادہ ترشہروں میں استعمال ہوں گے، شہروں کے اندریہ گاڑیاں چلیں گی، جو الیکٹرک گاڑیاں درآمد کرتا ہے تو اس کو مراعات دیتے ہیں ابھی پالیسی میں یہ نہیں ہے کی جو گاڑیاں لے کرآرہے ہیں وہ انفرسٹکچربھی لگائیں.

سینیٹرفیصل سلیم رحمان نے کہاکہ ایسا نہ ہو سرمایہ کارگاڑیاں مراعات حاصل کرنے کے لیے لے آئیں اور بعد میں ان گاڑیوں کے پرزے جات ہی نہ ملیں ان سرمایہ کاروں پرشرط لگائیں کہ وہ انفرسٹکچر بھی لگائیں، سیکریٹری صنعت و پیداوار نے کمیٹی کوبتایاکہ الیکٹرک وہیکلز کو ٹیکس مراعات دی گئی ہیں الیکٹرک وہیکلز کے لیے چارجنگ انفرا اسٹرکچر قائم کیا جائے گاچارجنگ اسٹیشن پرٹیکسز اور ڈیوٹیزختم کردیے گئے ہیں، ہیںالیکٹرک وہیکلز میں انڈرانوائسنگ کے الزامات ہیں کسٹمز نے الیکٹرک وہیکلزکی اوسط درآمدی قیمت کا تعین کردیا ہے، اون منی کی حوصلہ شکنی کے لیے اضافی ٹیکسز لگائے گئے ہیں جتنی مراعات دی گئی گاڑیوں کی قیمت میں اتنی کمی نہیں ہوئی حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ اگرکارسازکمپنیاں عوام کو ریلیف فراہم نہیں کریں گی مراعات واپس لے لیں گے.

سیکرٹری نے کہاکہ ایک گاڑی بننے پر5خاندانوں کو روزگار ملتاہے، 2016 میں نئی پالیسی آئ جس کی وجہ سے آٹو سیکٹر میں مزید سرمایہ کاری آئی ہے۔گاڑیوں کے 60 فیصد پارٹس پاکستان میں بنتے ہیں جبکہ ٹریکٹر کے 90 فیصد پرزے پاکستان میں بنتے ہیں، ٹریکٹر برآمدبھی کررہے ہیں جو پرزے پاکستان میں بنتے ہیں وہ اگر کوئی درآمد کرے گا تو اس پر ڈیوٹی بھی بڑھ جائے گی.

فدا محمد خان نے کہاکہ انوائس میں کمی کرکے ٹیکس چوری کیا جارہا ہے، اس کے لیے کیا کیاجا رہا ہے ایک بڑی کمپنی پربھی یہ الزام ہے، حکام ای ڈی بی عاصم نے کہاکہ انڈرانوائسنگ کو روکنے کے لیے کام ہورہا ہے اس کے لیے اوسط قیمت طے کی جاتی ہے، سیکرٹری نے کہاکہ اون منی کے سسٹم کو ختم کرنے کے لیے اگر کوئی گاڑی ایک بندہ خریدتا ہے اور رجسٹرڈ کسی اورکے نام ہورہی ہوگی تو50 ہزارسے 2لاکھ اضافی ٹیکس دینا ہوگا، گاڑی کی بکنگ کے لیے صرف 20 فیصد رقم ایڈونس دینا ہوگا، نئی کمپنیاں بھی پاکستان آرہی ہیں ہم موٹرسائیکل برآمد کررہے ہیں.

اے ڈی بی حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ4لاکھ 70ہزارسے زائد گاڑیاں پاکستان میں سالانہ بن رہی ہیں۔فدا محمد نے کہاکہ 6ماہ کے بعد بھی گاڑیاں لوگوں کو نہیں مل رہی ہیں جبکہ ایڈونس بھی لوگوں نے دی ہیں۔ براون فیلڈ بند انڈسٹری کو چلانے کے لیے لائی گئی اس میں بھی وہی مراعات دیئے گئے جو نئی انڈسٹری کے لیے تھے مگر یہ 4انڈسٹریاں چل نہیں سکیں اور کچھ عرصہ چلنے کے بعد دوبارہ بند ہوگئیں۔سیکرٹری نے کہاکہ ڈیمانڈ سپلائی کی وجہ سے اون منی کا سسٹم موجود ہے جبکہ تک یہ ڈیمانڈ سپلائی کا فرق ختم نہیں ہوتا یہ رہے گا۔وزارت فیملی کار کی قیمتیں کم کرنے پر کام کررہے ہیں تاکہ جو موٹرسائیکل پرجاتے ہیں ان کو کارکا آپشن دے رہے ہیں ای ڈی بی حکام نے بتایاکہ دنیا کی کم قیمت چھوٹی کارچاپان میں بنائی جاتی ہے چھوٹی گاڑی کو سستا کیا جارہاہے کامیاب کسان میں 10کڑور روپے تک کا قرض لیا جاسکتا ہے، فدا محمد نے کہاکہ 50سال پرانی ٹیکنالوجی کے ٹریکٹر چل رہے ہیں ان میں کوئی جدت نہیں آئی ہے، ای ڈی بی نے کہاکہ نئے ماڈل کے ٹریکٹر بنانے کے لیے مراعات دے رہے ہیں.

چیرمین کمیٹی نے کہاکہ سیل ٹیکس کم کردیا گیا ہے مگرٹریکٹر کی قیمت بڑھ گئی ہے۔سیکرٹری نے کہاکہ لوہے کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے ٹریکٹر کی قیمت بڑھی ہے لوہا کی قیمت ڈبل ہوگئی ہیں۔ ٹریکٹر کی قیمت بڑھنے کا معاملہ وزیراعظم نے بھی اٹھایاہے اس کو کم کرنے پر کام کررہے ہیں ۔سینیٹر عبدالقادر نے کہاکہ دو سے چار ماہ درآمدات کھول دیئے جائیں تولو ہے کی قیمت کم ہوجائے گی۔سیکرٹری صنعت و ہیداوار نے کمیٹی کوبتایاکہ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن 4ہزار 987 اسٹورز چلا رہی ہے۔یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے 12ہزار 256 ملازمین اور 1 ہزار 201 فراینچائزڈ ہیں کارپویشن نے 2019 میں 1.5ارب, 2020 میں 8.7 ارب اور رواں برس 16.1 ارب کے ٹیکس ادا کیئے آیندہ دو برس میں ہمارا ارادہ اسٹورز کی تعداد اور فرینچائزدوگنی کرنے کا ارادہ ہے ۔گذشتہ مالی سال 70کڑور روپے منافع ہوا۔ یوٹیلیٹی سٹورز کا خسارہ 6ارب روپے رہے گیا ہے۔رکن کمیٹی عمادالدین شوقین نے کہاکہ یوٹیلٹی اسٹورزپردستیاب اشیاءکے معیارات کو بہتربنایا جائےعوام کا اشیاءکے معیارپرشدید تحفظات موجود ہیں۔