fbpx

قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے نے تجاوزات کے خلاف آپریشن کرنے والےافسران کوجھاڑپلادی

باغی ٹی وی ؛ قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے نے تجاوزات کے خلاف آپریشن کرنے والےافسران کوجھاڑپلادی

قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے نے تجاوزات کے خلاف آپریشن کرنے والےافسران کوجھاڑپلاتے ہوئے ہدایت کہ کہ ریلوے کی طرف سے تجاوزات کے خلاف ہونے والاآپریشن پورے ملک میں فوری طور پر بندکرکے متاثرین کوریلیف دیاجائے ،سیل کی گئی عاراضی کو ڈی سیل کیاجائے،ریلوے نے تجاوزات کے خلاف آپریشن پہلے کئے نہیں اوراب ظالمانہ آپریشن کررہی ہے ۔کمیٹی نے وزارت ریلوے کے منصوبوں میں رکاوٹیں ڈالنے پر سیکرٹری منصوبہ بندی کواگلے اجلاس میں طلب کرلیا۔

حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ تجاوزات کے خلاف آپریشن سپریم کورٹ کے حکم پر ہورہاہے کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اس کو دیکھناہوگا،ریلوے زمینوں کے مسائل حل کرنے کے لیے قانون سازی کرلی ہے آرڈیننس جاری کیاجائے گا،صرف زمین نہیں ریلوے کے دفاتر،کالونیوںپربھی قبضہ کئے گئے ہیں،پی ایس ڈی پی 30ارب روپے کی رکھی ہے ،بصیرپور،احمدآبادویگر جگہوں پر واگزارکمرشل زمین کاکرایہ 8سو روپے ماہانہ بھی قابضین نہیں دیناچاہتےہیں ۔ریل کوپ اگلے سال 11ارب روپے کے منصوبے شروع کرئے گی۔استنبول تہران اسلام آباد فریٹ ٹرین کے لیے پاکستان نے تیاری مکمل کرلی ہے ریٹس بھی طے ہوگئے ہیں ۔واضح رہے کہ قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کی سب کمیٹی نے ریلوے کوتجاوزات کے خلاف بلاتفریق اور پہلے کمرشل زمینوں پر آپریشن کی ہدایت بھی کی تھی اور آپریشن نہ کرنے پر تین ڈی ایس کو سروس سے برطرف کرنے کی سفارش کی تھی ۔

جمعرات کو قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی ریلوے کا اجلاس چیرمین قائمہ کمیٹی محمد معین وٹو کی زیرصدارت شروع ہوا۔اجلاس میں شیخ راشد شفیق،ڈاکٹر محمدافضل خان ،طاہراقبال ،آفتاب جہانگیر،نصرت وحید،صابر قائمہ خانی ،چوہدری محمدحامد حبیب،علی پرویز،نعمان اسلام شیخ،رمیشن لال او رعبدالواسع نے شرکت کی ۔جبکہ وزارت ریلوے کی طرف سے سیکرٹری ریلوے حیبب الرحمن گیلانی ،سی ای او نثارمیمن،سیکرٹری ریلوے بورڈ ظفرزمان رانجھا،ڈی ایس سکھر میاںطارق لطیف ڈی ایس لاہور ناصر خلیلی،ڈی ایس راولپنڈی انعام الحق ودیگر حکا م نے شرکت کی ۔

چیرمین قائمہ کمیٹی محمدمعین وٹو نے کہاکہ جس دن سے سینیٹر اعظم سواتی وزیربنے ہیں ان کی سرگرمیاں نظرآرہی ہیں سکریب کابھی مسئلہ حل کرنے میں انہوں نے اہم کردار ادا کیاہے وزارت میں پہلے سے زیادہ کام ہورہاہے ریلوے کے مسائل کمیٹی اور وزارت مل کرحل کرئے گی کمیٹی کی طرف سے مکمل تعاون ہوگا ریلوے کے ریسٹ ہاوسز کی حالت دن بدن خراب ہورہی ہےاس پر توجہ دی جائے ۔ریلویز کی زمینوں پر غیر قانونی قبضہ کے حوالے سے معاملہ پر سیکرٹری وزارت ریلوے نے کمیٹی کوبتایاکہ نوشہرہ مین ریلویز کی زمین پر قبضہ کے معاملہ کو متعلقہ فورمز پر اٹھایاتاہم جواب ملا کہ ریلویے کوڈ نافذ العمل نہیں اگر قانون ہوتا تو قابل عمل ہوتااب قانون سازی حتمی مراحل میں ہےریلویز کی زمینوں کی واگزاری کے لیے پالیسی تیار کر کی گئی ہےجلد یہ قانون منطوری اسمبلی میں پیش کیا جایے گااگر اسمبلی کاسیشن نہیں ہوگا توآرڈیننس جاری کردیں گے اس سے ریلوے کے زیادہ تر مسائل زمینوں کے حوالے سے حل ہوجائیں گے ۔رکن کمیٹی افضل خان نے کہاکہ جو لوگ ریلوے زمین پر قابض ہیں ان کو نیلامی کے بعد ان کے حوالے کردیا جائے ۔

رکن کمیٹی آفتاب جہانگیر نے کہاکہ جہاں گھر ہیں ان کو نہ گرایا جائے بلکہ قابضین سے کچھ پیسے لے کر اس کو قانونی کیا جائے۔ رکن کمیٹی نعمان اسلام شیخ نے سکھر میں تجاوزارت کے خلاف آپریشن پر ریلوے حکام پر شدید برہمی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ ریلوے کیسے پہلے زمین لیز پر دے کر بعد میں آپریشنز کر سکتی ہےمیں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ زمینیں قبضہ کرنے والوں کو دے دی جاہے میں اتنا کہہ رہا ہوں کہ اس معاملے پر وفاق صوبوں کے ساتھ بیٹھ کر غور کرےاس کے حوالے سے باقایدہ قانون سازی تک ریلویز اپنی تجاوزات کے خلاف کاروائیوں کی رفتار کم کر لےسندھ حکومت نے بعض علاقون کو رہائشی علاقے قرار دے دیا ہےریلوے کی زمینوں پر قبضہ کر کہ شادی ھال کھول دیے گئے ۔جس کے بعد نعمان اسلام شیخ نے ریلویز سیکریٹری حبیب گیلانی کو ریلویز زمین واگزار کرنے کے دوران تشدد کی ویڈیو دکھائی ۔جس پر ڈی ایس سکھر نے بات کرنے کی اجازت چاہی کہ ان کانام لیاجارہاہے ان کوبھی صفائی کا موقع دیاجائے آپریشن کے دوران ہم پر گولیاں چلائی گئیں ہیں مگر کمیٹی نے ڈی ایس کو جھاڑ پلادی اور ان کوصفائی کاموقع نہیں دیا۔ڈی ایس سکھر نے کہاکہ 5سو ریلوےکے گھروں پر سکھر میں قبضہ ہوا ہے ۔

سیکرٹری نے کہاکہ ریلوے زمین کی محافظ ریلوے ہے ۔ریلوے زمین کمرشل پر دے سکتی ہے ۔رکن کمیٹی چوہدری محمد حامد حبیب نے کہاکہ میری ایک سب کمیٹی میں سفارشات بھی موجود ہین جبکہ میں کسی اجلاس میں شریک ہی نہیں ہوا ہمیں ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ریلویز حکام ہمارے سامنے پیش نہیں ہوئے کمیٹی ان کے سامنے پیش ہوئی ہےتجاوزات کے خلاف ہونے والاآپریشن صرف بھکر، حیدرآباد، سکھر، سندھ کا مسئلہ نہیں پورے ملک کا مسئلہ ہےاگر خوابوں میں کمیٹی اراکین کی سفارشات شامل ہونا ہیں تو مسئلے حل ہو چکے۔ رکن رمیش لال نے کہاکہ ریلوے کے ملازمین خود قبضہ میں ملوث ہے ریلوے کے افسروں کی انوال منٹ ختم نہیں ہو گی مسئلہ حل نہیں ہوگا ۔ریلوے کے افسران تجاوزات کرنے والوں سے بھتہ لیتے ہیں ۔ تین ڈی ایس سکھر تجاوزات میں خود ملوث ہیں ۔مافیہ کو کوئی ہاتھ نہیں لگا رہاہے ۔ چیرمین کمیٹی نے کہاکہ پورے پاکستان میں تجاوزات کے خلاف آپریشن فوری روکا جائے ۔کمرشل اور گھروں کے خلاف آپریشن روکا جائے اور سب کو ڈی سیل کیا جائے ۔رکن کمیٹی صابر قائم خانی نے کہاکہ حیدرآباد کے ایک پیٹرول پمپ کو عدالت نے ڈی سیل کیا مگر ریلوے نے دوبارہ سیل کردیا ہے ۔حکام نے بتایا کہ پمپ مالکان نے زبردستی سیل توڑے ہیں اور ریلوے ملازمین پر تشدد کیا گیا جس پر ایف آئی آر درج کی گئی۔

سی ای او ریلوے نے کہاکہ ریلوے آفس وگھروں پر لوگ قابض ہیںدوسرے وہ ہیں جوجن کے ریلوے کی زمین پر گھر ہیں وہ قابض ہیں تیسرے کمرشل ہیں ۔سیکریٹری ریلویز حبیب گیلانی نےریلوے زمینوں کے حوالے سے قانون سازی کے حوالے سے بتایاکہ پالیسی تیار کر لی گئی ہے تاہم ابھی منظور نہیں ہوئی کابینہ سے قوانین منظور ہوئے ہیں پالیسی نہیںہم نے اپنی بیوروکریٹک ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔ چیئرمین کمیٹی معین وٹو نے کہاکہ تجاوزات کے خلاف آپریشن روک کر وزارت ریلوے متاثرین کو انٹیرم ریلیف فراہم کرےبعد ازاں کچھ عرصے بعد فیصلہ کرلیں۔ریلوے نے پہلے تو نوٹس لیا ہی نہیں اور اب لیا ہے تو بہت ظالمانہ لیا ہےایک کھوکھے والے سے ریلوے کیا لے گی۔عوامی نمائندگان کا شامل کر کہ پرامن اور بہتر انداز میں مقامی افراد کے ساتھ معاملات طے ہو سکتے ہیں۔ریلوے حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ تجاوزات کے خلاف آپریشن کاحکم سپریم کورٹ نے دیاہے ہمیں کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے اس کوبھی دیکھناہوگا ۔سیکریٹری ریلویز حبیب گیلانی نےریلوے زمینوں کے حوالے سے قانون سازی کے حوالے سے بتایاکہ پالیسی تیار کر لی گئی ہے تاہم ابھی منظور نہیں ہوئی کابینہ سے قوانین منظور ہوئے ہیں پالیسی نہیںہم نے اپنی بیوروکریٹک ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔ڈی ایس لاہورناصر خلیل نے کہاکہ منڈی احمد آباد میں تین چار مرتبہ آپریشنز ہو چکے اور ایک اے ایس آئی شہید بھی ہوچند افراد نے اس اے ایس آئی کو بیدردی سے قتل کیا تھا پہلی بار قبضہ ختم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں چئیرمین کمیٹی نے ان کوروکتے ہوئے کہاکہ آپ ایسی بات مت کریں کہ ہمیں رونا آ جایے جو بات آپ کر رہے ہیں وہ کوئی پرانی بات ہو گی معاملے کو اتنا سنجیدہ رنگ نہ دیں ہم چاہتے ہیں جو بندے راہ راست پر آنا چاہتے ہیں ان کو ایک موقع دیا جاہے۔حکام نے بتایاکہ آخری آپریشن 2016 میں ہواتھا اس میں بھی کامیابی نہیں ملی تھی ۔

160دکانیں منڈی احمدہ آباد میں ہیں 7دکانوں کی نیلامی ہوئی ۔یہ نیلامی میں نہیں آرہے ہیں بصیر پور میں 2لاکھ روپے اس کا کرایہ ہے جو 20سال سے بغیر کرائے دیئے وہاں بیٹھے ہیں لاہور میں دس لاکھ کرایہ ہے جبکہ بسیر پور میں دو لاکھ ہے ان کو قسطوں پر بھی کہاتھا کہ یہ رقم دے دیں ڈی ایس لاہور نے کہاکہ منڈی احمدآباد میں دکان کا کرایہ 800روپے ماہانہ ہے مگر وہ وہ بھی نہیں دینا چاہتے ہیں۔پی ایس ڈی پی کے حوالے سے حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ وژن 2025کے تحت مال برداری کو 4فیصدسے 20فیصدکرناچاہتے ہیں ۔مالی سال 2021-22 میںپی ایس ڈی پی کی کل مالیت 30ارب روپے رکھی گئی ہے ۔جن میںسے 40فیصدرولنگ سٹاک ،انفرسٹرکچر پر 54فیصدبزنس پر 2فیصد اور گورننس کوبہترکرنےکے لیے 4فیصدخرچ کریں گے۔ریلوے کی کمپنی ریل کوپ پر بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایاکہ ریل کوپ ملک کے اندراور بیرون ملک ریل کے منصوبے لیتی ہے ریل کوپ کے اثاثون کی کل مالیت 2ارب70کڑور روپے سے زائدہےاور 6سو کے قریب ملازمین کام کرتے ہیں۔اب تک 9 ارب روپے سے زائد کے منصوبے پاکستان میں مکمل کئے ہیں جبکہ دوسرے ممالک میں121ملین ڈالرکے منصوبے مکمل کئے ہیں اگلے مالی سال 11ارب روپے کے منصوبے حاصل کرناچاہتی ہے کروناکی وجہ سے ہمارے بزنس میں کمی ہوئی ہے مگر کمپنی اس کے باوجود خسارے میں نہیں گئی اور 7 کڑور کامنافع ہواہےکروناسے پہلے سالانہ منافع33کڑور روپے تھا ۔ایم ایل ون کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کمیٹی کوسیکرٹری ریلوے نے بتایاکہ ایم ایل ون سی پیک کا منصوبہ ہے چین نے لون کی منظوری نہیں دی ہے 5آگست سے مسلسل ان کو کہے رہے ہیں ۔ چین نے وعدہ کیا ہے کہ اس کی جلدمنظوری دیں گے ۔چیرمین کمیٹی نے کہاکہ سی پیک کے ایم ایل ون کو گراؤنڈ پر کچھ بھی نہیں ہے ۔ٹریک کی خستہ حالی کے حوالے سے جواب دیتے ہوئے سیکرٹری ریلوے نے کہاکہ ایم ایل ون کے پروجیکٹ جب ہم منصوبہ بندی کمیشن لے کرجاتے ہیں تو منصوبہ بندی کمیشن اس کو مسترد کردیتی ہے کہ اس پر ایم ایل ون پروجیکٹ بنے گا جس کی وجہ سے ٹریک کی حالت ٹھیک نہیں ہے ۔

پبلک پرائیوٹ پاٹنرشپ ( PPP)کے حوالے سے سکولوں اور ہسپتالوں کودیناچاہتے ہیں مگر ہر باروزارت منصوبہ بندی اس پر اعتراض لگادیتی ہے جس کی وجہ سے یہ منصوبہ6 ماہ سے لٹکا ہواہے وہ باربار اس میں کیڑے نکال رہے ہیں اصل میں کیڑان کے دماغ میں ہے جو نکل نہیں رہااور ہمارا منصوبہ تاخیر کاشکار ہورہاہے اس کے ساتھریلوے کی آمدن بڑھانے کے لیے ایک بندے کوبھرتی کرلیاہے اگلے چھ ماہ میں واضح تبدیلی نظر آئے گی ساری ٹرنیں آوٹ سورس کررہے ہیں جبکہ ریل گاڑیوں پر اشتہار بھی نظر آئیں گئے ۔کمیٹی نے اگلے اجلاس میں سیکرٹری وزارت منصوبہ بندی کو کمیٹی میں طلب کرلیا۔
محمد اویس

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.