ورلڈ ہیڈر ایڈ

قائداعظم ٹرافی، پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کے ماتھے کا جھومر، 47 سالہ سفر کی کہانی باغی کی زبانی

                قائداعظم ٹرافی، پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کے ماتھے کا جھومر

فرسٹ کلاس کرکٹ کسی بھی کرکٹ کھیلنے والے ملک کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور ٹیسٹ کھیلنے والے تمام بڑے ممالک میں ایک فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ ایسا ضرور ہوتا ہے جس کے گرد اس ملک کی ڈومیسٹک کرکٹ گردش کرتی ہے۔ پاکستان میں یہ مقام قائداعظم ٹرافی کو حاصل ہے جو بانیِ پاکستان کے نام سے منسوب ہے۔

قومی کرکٹ کی تاریخ میں پہلا فرسٹ کلاس کرکٹ میچ آزادیِ پاکستان کے چند ماہ بعد 2 صوبائی ٹیموں پنجاب اور سندھ کے درمیان کھیلا گیا۔ باغِ جناح لاہور میں کھیلا گیا میچ 27تا 29 دسمبر 1947 تک جاری رہا تاہم پاکستانی تاریخ کے پہلے فرسٹ کلاس کرکٹ ٹورنامنٹ کا باقاعدہ آغاز 6 سال بعد ہوا۔ بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے نام سے منسوب قائداعظم ٹرافی کے پہلا ایڈیشن کا انعقاد 1953-54 میں کیا گیا۔

ابتدائی ایڈیشن:

قائد اعظم ٹرافی کے پہلے ایڈیشن میں 3 صوبائی اور 2 ڈیپارٹمنٹل سمیت کل 7 ٹیموں نے شرکت کی۔ ایونٹ میں پنجاب، سندھ، سرحد، بہاولپور، کراچی، کمبائنڈ سروسز اور پاکستان ریلویز نے شرکت کی۔ ٹورنامنٹ کے میچز کے جی اے گراؤنڈ کراچی میں کھیلے گئے۔ قائداعظم ٹرافی کے پہلے ایڈیشن کی فاتح ٹیم بہالپور ٹھہری۔ فائنل میچ میں بہاولپور نے پنجاب کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا۔7 ٹیموں سے شروع ہونے والے اس ایونٹ میں ٹیموں کی تعداد آنے والے برسوں میں 26 تک پہنچ چکی تھی تاہم آئندہ سیزن میں قائداعظم ٹرافی میں 6 ٹیمیں ٹائٹل کے حصول کے لیے مدمقابل آئیں گی۔ ٹیموں کی محدود تعداد میں شرکت سے ایونٹ میں معیاری کرکٹ کو فروغ ملے گا۔

ڈومیسٹک سیزن 1967-68 تک مختلف وجوہات کی بناء پر قائداعظم ٹرافی کے 4 ایڈیشنز کا انعقاد ممکن نہیں ہوسکا۔ 1960-61 میں قائداعظم ٹرافی کی بجائے ایوب ٹرافی کا انعقاد کیا گیا۔ 1965 میں جنگ کے باعث قائداعظم ٹرافی 1965-66 کے ایڈیشن کا انعقاد ممکن نہیں ہوسکا۔ 1967-68 اور 1971-72 ڈومیسٹک سیزن میں بھی قائداعظم ٹرافی کے میچز کا انعقاد ممکن نہیں ہوسکا تھا تاہم گذشتہ 47 سالوں سے قائداعظم ٹرافی کے میچز بلا تعطل جاری ہیں۔

کراچی کی حکمرانی:

ڈومیسٹک سیزن 1954-55 میں کراچی کرکٹ ٹیم نے پہلی مرتبہ قائداعظم ٹرافی کا ٹائٹل اپنے نا م کیا۔ ڈومیسٹک سیزن 1971-72 تک کراچی سے تعلق رکھنے والی ٹیموں نے قائداعظم ٹرافی کے 14 میں سے 9 ٹائٹل اپنے نام کیے جبکہ قائداعظم ٹرافی کے 1958-59 سے 1966-67 تک مسلسل 7 ایڈیشنز شہرِ قائد کے نام رہے۔ مجموعی طور پر کراچی کی نمائندگی کرنے والی مختلف ٹیموں نے 20 مرتبہ قائداعظم ٹرافی کا ٹائٹل جیتا۔ یہ قائداعظم ٹرافی کی تاریخ میں کسی بھی علاقائی ٹیم کی ریکارڈ تعداد میں جیت ہے۔

کراچی بلیوز سب سے زیادہ 9 مرتبہ ایونٹ اپنے نام کرچکی ہےتاہم مسلسل 3 مرتبہ قائداعظم ٹرافی جیتنے کا ریکارڈ کراچی وائٹس کی ٹیم کے پاس ہے۔ کراچی وائٹس کی ٹیم سیزن 1990-91 سے 1992-93 تک مسلسل 3 مرتبہ ٹائٹل جیت کر فتوحات کی ہیٹ ٹرک کرنے والی واحد ٹیم ہے۔

ڈیپارٹمنل ٹیموں کا عروج:

قائداعظم ٹرافی کے پہلے ایڈیشن میں 2 ڈیپارٹمنٹل ٹیموں پاکستان ریلویز اور کمبائنڈ سروسز نے شرکت کی تاہم پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز قائداعظم ٹرافی جیتنے والی پہلی ڈیپارٹمنٹل ٹیم تھی۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز قائداعظم ٹرافی 1969-70 کی فاتح ٹیم تھی تاہم قومی ڈومیسٹک کرکٹ کی تاریخ میں 70 اور 80 کی دہائیوں کو ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کے عروج کا دور کہا جاتا ہے۔ان 20 سالوں میں 15مرتبہ قائداعظم ٹرافی کا ٹائٹل کسی نہ کسی ڈیپارٹمنٹل ٹیم نے جیتا۔ اس دوران 4 مرتبہ ایونٹ کی فاتح پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی ٹیم نے مجموعی طور پر 7 مرتبہ قائداعظم ٹرافی کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔

70 اور 80 کی دہائیوں میں قائداعظم ٹرافی میں میچز راؤنڈ رابن یا گروپ مرحلے پر مشتمل فارمیٹ میں کھیلے جاتے تھے۔ ایونٹ میں ٹیموں کی تعداد بھی 10 سے 12 ہوتی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب قائداعظم ٹرافی کو صرف ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کے لیے مختص کردیا گیاتھا جبکہ علاقائی ٹیمیں پیٹرنز ٹرافی میں نبرد آزما ہوتی تھیں۔

اس کے بعد 9 سیزنز میں قائداعظم ٹرافی میں شہروں کی کرکٹ ایسوسی ایشنز کو ایک بار پھرشامل کرلیا گیا۔ اب ٹیموں کی تعداد کم سے کم 8 اور زیادہ سے زیادہ 11 رکھی گئی تھی۔

دیگر شہروں کی کامیابیاں:

قومی ڈومیسٹک کرکٹ کے پریمیئر ٹورنامنٹ، قائداعظم ٹرافی سےجہاں معیاری کرکٹ کوفروغ ملا تو وہیں اس ٹورنامنٹ کے انعقاد سے کرکٹ کو ملک کے کونے کونے تک پہنچانے میں بھی مدد ملی۔ یہ قائداعظم ٹرافی کاہی ثمر تھا کہ 90 کی دہائی میں قومی کرکٹ ٹیم کے لیے کئی ایسے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا گیا جو لاہور یا کراچی سے نہیں بلکہ ملک کے دیگر شہروں میں رہائش پذیر تھے۔ محدود سہولیات کے حامل ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں نے قائداعظم ٹرافی میں بھی اپنی قابلیت کا بھرپور اظہار کیا۔

2000-01 سے 2013-14 تک سیالکوٹ نے 2 جبکہ پشاور، فیصل آباد اور راولپنڈی نے ایک ایک مرتبہ قائداعظم ٹرافی کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔ 1986-87 میں راولپنڈی نے حبیب بنک لمیٹیڈ کی مضبوط ٹیم کو زیر کرکے ٹائٹل اپنے نام کیا تھا جبکہ 1998-99 میں پشاور کی ٹیم نے کراچی وائٹس کو ایک اننگ کے بھاری مارجن سے شکست دی تھی۔

قائداعظم ٹرافی کی تاریخ میں 6 ایڈیشنز ایسے بھی رہے جب یہ ٹورنامنٹ 2 ڈویژنزمیں کھیلا گیا۔ 2005-06 اور 2006-07 میں یہ ٹورنامنٹ گولڈ اور سلور ڈویژنز کی طرز پر کھیلا گیا۔ قائداعظم ٹرافی میں 14 ریجنز کے درمیان ہونے والے مقابلوں میں دونوں گروپس کی 4 بہترین ٹیموں نے "سپر ایٹ” جبکہ آخری 6 ٹیموں نے "باٹم سکس” کی بنیاد پر میچز کھیلے۔

قائداعظم ٹرافی کے آئندہ ایڈیشن کا آغاز 14 ستمبر سے ہورہا ہے۔ ایونٹ میں 6 کرکٹ ایسوسی ایشنز کی فرسٹ اور سیکنڈ الیون ٹیمیں 2 مختلف ٹورنامنٹس میں شرکت کریں گی۔

نئے ڈومیسٹک کرکٹ اسٹرکچر سے معیاری کرکٹ کو فروغ دیا جائے گا جس سے قومی اور بین الاقوامی کرکٹ کے درمیان فرق کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.