fbpx

قدرتی وسائل سے بھرپور بلوچستان پرتوجہ دے رہے ہیں عمران خان

وزیرِ اعظم عمران خان نے گوادر میں جنوبی بلوچستان ترقیاتی پیکیج پر پیش رفت کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کی ہے، بریفنگ میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، وفاقی وزراء میں اسد عمر، مخدوم شاہ محمود قریشی، فواد چوہدری، علی زیدی، زبیدہ جلال، معاونِ خصوصی ڈاکٹر شہباز گل، مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف، وزیرِاعلی بلوچستان جام کمال، چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹینینٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ، صوبائی وزراء اور متعلقہ اعلی افسران نے شرکت. کی ہے.

اجلاس کو حکومت کے بلوچستان پر خصوصی توجہ کے ویژن کے تحت تاریخی بلوچستان پیکیج پر پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے، وفاقی اورصوبائی ادارے مل کر پیکیج پر جاری کام کی نگرانی کررہے ہیں، منصوبوں کی ترجیحی تکمیل کو یقینی بنا رہے ہیں، 654 ارب کے مجموعی پیکیج میں سے رواں مالی سال میں 99.38 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے، جس میں ٹرانسپورٹ و بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، صاف پانی کی فراہمی و بہتراستعمال، زراعت و لائیو سٹاک، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی، صنعت و تجارت، افرادی قوت و تعلیم اوردیگر ترقیاتی منصوبے شامل ہیں، پیکیچ میں کل 1100 کلومیٹرکا سڑکوں کا جال بچھایا جا رہا ہے، جو بلوچستان کے لوگوں کو نقل و حرکت میں آسانی کے ساتھ ساتھ زرعی اجناس کو منڈیوں تک پہنچانے میں اہم کردارادا کرے گا، پیکیج میں پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے سات بڑے ڈیمز اور100 کے قریب چھوٹے ڈیمز کی تعمیر بھی شامل ہے، انکرا، سواد اور شادی کورڈیم گوادرمیں صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہونگے، اسکے علاوہ آبپاشی کے نظام کی بہتری اور زراعت کیلئے پانی کی فراہمی ایگریکلچرل ٹرانسفارمیشن پلان کے نفاذ میں معاونت اورزرعی پیداوارمیں اضافے کا وسیلہ بنیں گے، اسکے علاوہ اجلاس کو بتایا گیا کہ پیکیج کے تحت موجودہ بجلی کی فراہمی کو 12 فی صد سے بڑھا کر 57 فی صد کیا جائے گا، اسکے علاوہ ایل پی جی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا.

تعلیم کیلئے ایسپائر کے نام سے ایک جامع منصوبہ شروع کیا گیا ہے، جس کے تحت ٹیلی سکولنگ سے دوردراز کے علاقوں کے طلباء کو فاصلاتی تعلیم کی فراہمی کی جا رہی ہے، وسیلہِ تعلیم کے تحت 25000 بچوں کو تعلیم دی جا رہی ہے، جبکہ گوادراورخاران میں کیڈت کالجزاورتربت، پشین اور خضدار میں خواتین کیلئے یونیورسٹیوں کا قیام بھی منصوبے میں شامل ہیں، فاصلاتی تعلیم کے ذریعے 6 لاکھ 40 ہزار بچے تعلیم سے مستفید ہو سکیں گے، مزید منصوبے میں احساس کے تحت پانچ ہزار خاندانوں کی مالی معاونت بھی کی گئی ہے، جبکہ مزید بیس ہزار خاندانوں کیلئے سروے جاری ہے.

ڈیجیٹل بلوچستان کے تحت کیچ، گوادر، چاغی اور نوشکی میں ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی کو بہتربنانا، بڑی شاہراہوں کے اطراف ہائی سپیڈ انٹر نیٹ کی فراہمی اور35 ہزارنوجوانوں کواگنائیٹ پروگرام کے تحت ڈیجیٹل سکلزکی فراہمی یقینی بنائی جائے گی، صنعت اورتجارت کے حوالے سے گبد، مند اورچیدگی میں مشترکہ بارڈر مارکیٹس، وشوک، ماشکیل اور تربت میں کھجوروں کی پروسیسنگ کے پلانٹس، ماربل کی بین الاقوامی معیار کی صنعتیں، خضدارمیں زیتون کے تیل کے پلانٹ، گوادر میں کشتی بانی کی صنعت کا استحکام و جدت اور مائننگ کی جدید مشینری کی فراہمی کے منصوبوں پر بھی اجلاس کو آگاہ کیا ہے.

وزیرِ اعظم نے اس موقع پر کہا کہ بلوچستان کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہے، تاریخ میں پہلی بار ہے کہ کوئی حکومت قدرتی وسائل اور باصلاحیت افرادی قوت سے بھرپور صوبے بلوچستان پرتوجہ دے رہی ہے، سڑکوں کے جال، صنعتی ترقی سے روزگار کی فراہمی، زراعت کی ترقی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنا رہے ہیں.