وکٹوریہ نولینڈ جوبائیڈن کی کارخاص مقرر:مسلم ممالک میں قتل عام کی ماسٹرمائنڈ ماضی بھی خون آلود،مستقبل بھی خطرناک

نیویارک:خونخوار وکٹوریہ نولینڈ جوبائیڈن کی انڈرسیکرٹری مقرر:ماضی بھی خون آلود،وکٹوریہ نولینڈ جوبائیڈن کی انڈرسیکرٹری مقرر:عراق،افغانستان ،شام ،لیبیا میں قتل عام کی ماسٹرمائنڈ ماضی بھی خون آلود،مستقبل بھی خطرناک ،اطلاعات کے مطابق صدر جو بائیڈن کی سیاسی امور کے انڈر سکریٹری کے لئے وکٹوریہ نولینڈ کی نامزدگی نے دنیا میں ایک تہلکہ مچادیا ہے ، جو محکمہ خارجہ کا تیسرا اعلی عہدہ ہے۔

جوبائیڈن کی انڈرسیکرٹری وکٹوریہ نولینڈ نے اس قدرجنگی جرائم کیے کہ دنیا اب یہ منظردوبارہ نہیں دیکھنا چاہتی مگراس کے باوجود اس خونخوارطبعیت کی حامل خاتون کواتنا بڑا عہدہ دے گیا ہے ،

ماہرین کہتے ہیں کہ وکٹوریا نولینڈ جنہوں نے پچھلے 30 سالوں سے امریکی خارجہ پالیسی کو ایک تباہی سے لے کر ایک اور تباہی تک پہنچایا ، اس کے باوجود وہ کسی بھی طرح کے احتساب سے بچ گئں‌ہیں ، یہ بڑی حیرانی کی بات ہے ۔

ذرائع کے مطابق اعلی سطح کے تقرری کے طور پر نولینڈ کی تصدیق ابھی سینیٹ کے ذریعہ کرنی ہوگی۔ان بے رحم خاتون کی تقرری کوروکنے کے لیے انسانی حقوق کی تنظیموں نے کوششیں شروع کردی ہیں ،

جہاں تک اس بے رحم خاتون کی مجرمانہ زندگی کا ماضی ہے تو اس پرسرسری نظرڈالتے ہیں

افغانستان اور عراق
2000 سے 2003 تک جب سابق امریکی صدر بش نے عراق پر اور پھر افغانستان پر حملہ کیا ، نوولینڈ نیٹو میں بش کے مستقل نمائندے کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھیں ۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس وقت کی افغان حکومت نے القاعدہ کو ختم کرنے کے لئے امریکیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی پیش کش کی ، لیکن پیش کش مسترد کردی گئی۔اس پیش کش کومسترد کرنے میں وکٹوریا نولینڈ کا مرکزی کردار ہے جس کی سزا اب امریکہ دہائیوں سے برداشت کررہا ہے

2003 سے 2005 تک نولنڈ نائب صدر ڈک چینئی کے وزیر خارجہ پالیسی کی مرکزی کردارتھیں جس نے عراق کے صدر صدام حسین کو گرانے والی جنگ کے منصوبے اور انتظام میں مدد کی ، بشمول عراق کے مبینہ ہتھیاروں پر مبنی فوجی کارروائی کے لئے اس خاتون نے بش کو مجبور کیا اورپھردنیا دیکھ رہی کہ عراق اس وقت سے لیکراب تک مذبح خانہ بنا ہوا ہے

وکٹوریہ نولینڈ 2005 سے 2008 تک نیٹو میں امریکی سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکی ہیں جہاں اس کا مقصد نیٹوکو امریکہ کی طرف سے مقاصد کے حصول کے لیے مدد فراہم کرنا اوران کی رہنمائی کرنا تھی

۔

ذرائع کے مطابق وکٹوریہ نولینڈ کے تعلقات کو اس طاقتور اورمالی طورپربہت مضبوط شخص سے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا جسے عراق جنگ کے سب سے زیادہ منافع بخش افراد میں ایک آئل فیلڈ سروسز کارپوریشن ، ہیلیبرٹن تھا۔”

ہالیبرٹن نے عراق جنگ سے متعلق وفاقی معاہدوں میں 39.5 بلین ڈالر کی رقم حاصل کی۔’ نولینڈ کے باس نائب صدر ڈک چینی ، اس ہالیبرٹن کے سابق سی ای او تھے۔

ذرائع کے مطابق صرف یہ ہی نہیں بلکہ لیبیا کی تباہی میں وکٹوریہ نولینڈ کا مرکزی کردار ہے اوریہ وہ خاتون ہے جن نے اپنے مخصوص ایجنڈے کے تحت پرامن لیبیا کوخون کے سمندرمیں بدل کررکھ دیا

یہ خاتون اس وقت کی سیکرٹری کارجہ ہلیری کلنٹن کی ترجمان کے طورپرسامنے آئیں‌ اورلیبیا کی تباہی کا سبب بن گئیں‌

ایسے ہی شام کی تباہی میں اس خاتون نے اپنا حصہ ڈالا اورپھردنیا دیکھ رہی ہے کہ روشن شام ملک میں کئی سالوں سے شام ہوگئی اندھیرے چھا گئے اورلاکھوں شامی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے لاکھوں ہی بے وطن ہوگئے اس سارے کھیل میں جوبائیڈن کی اس خاص انڈرسیکرٹری کا مرکزی کردار ہے

وکٹوریہ نولینڈ نے دنیا میں ایک نیا ٹرینڈ دیا ، دیگرملکوں میں مداخلت ، بغاوت ، پراکسی جنگوں ، جارحیت ، اور قبضے کی خارجہ پالیسی کو فروغ دیا ہے اور اس پالیسی کو افغانستان ، عراق ، لیبیا ، شام اور یوکرین میں خونی اور تباہ کن نتائج کے ساتھ نافذ کیا گیا ہے۔

انتہائی منافقت کے ساتھ ، وہ روس پر امریکہ میں غلط فہمی پھیلانے کا الزام عائد کرتی ہے ، جبکہ وہ کھلے عام "پوتن پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتی ہے جہاں وہ اپنے ہی شہریوں سمیت ، کمزور ہے۔” وہ "نیٹو کی مشرقی سرحد کے ساتھ مستقل اڈے قائم کرنا اور مشترکہ تربیتی مشقوں کی رفتار اور مرئیت کو بڑھانا چاہتی ہے۔”

نولنڈ چکن ہاکس کی رانی ہے ، جو ہمیشہ کی جنگ کی لیڈی میکبیتھ ہے۔ ان کی جو پالیسیوں نے فروغ دیا ہے اس سے سیکڑوں ہزاروں متاثرین موجود ہیں۔ پھر بھی اسے ایک نوچ نہیں ملی ہے۔ اس کے برعکس ، اس نے فوجی ٹھیکیداروں سے بھرا ہوا اسٹاک پورٹ فولیو سے فائدہ اٹھایا ہے۔

ان حالات و واقعات کو دیکھا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ وکٹوریہ نولینڈ کی تقرری ایک خطرناک پیغام ہے دنیا کو پھرجنگوں ، تصادم اورتباہیوں کی طرف پھر سے لے جانے کے لیے ایک چال ہے جس کا کنٹرول پینٹا گان میں ہے نہ کے جوبائیڈن کے پاس جوخود ہروقت شراب کے نشے میں دھت رہتا ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.