fbpx

مینڈھے، چھترے اور بکرے کی قربانی پر پانچ سال کیلئے کیوں نا پابندی لگا دی جائے؟ تحریر: نویداختربھٹی

قربانی کا فلسفہ اپنی جگہ ایک مسلمہ حقیقت ہے لیکن ہمیں تھوڑا وقت نکال کر غور کرنا ہوگا کہ ہر سال عیدالاضحٰی سے پہلے چھوٹا گوشت آخر مہنگا کیوں ہوجاتا ہے؟

چھوٹا گوشت ہر گزرتے سال کے ساتھ عام پاکستانی کی پہنچ سے دور کیوں ہوتا جا رہا ہے؟
چھوٹے گوشت کے شوقین لوگ بھی گائے کی قربانی دینے کو کیوں ترجیح دینے لگے ہیں؟

دنبہ جو کہ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت اسمٰعیل کی جگہ قربان ہونے کیلئے جنت سے آیا تھا، موجودہ دور میں مسلمان اس کی قربانی کیوں نہیں کر رہے؟
یہ حقیقت تو سب مسلمان جانتے ہیں کہ عیدالاضحٰی کے موقع پر ایک حلال جانور کی قربانی سنت ابراہیمی ہے اور سنت بھی ان کیلئے ہے جو قربانی کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔
ابتدائے اسلام میں مسلمان کعبہ کے احاطے میں مینڈھوں کی قربانی پیش کیا کرتے تھے اور یہ سلسلہ تب تک جاری رہا جب تک مینڈھوں کی پیداوار پریشان کن حد تک کم نا ہوگئی۔ منڈیوں میں مینڈھوں کی کمی کو دیکھتے ہوئے لوگ بکروں، چھتروں اور اونٹوں کی طرف آئے اور قربانی کے سلسلے کو آگے بڑھایا۔ اب چونکہ حالات کا فیصلہ یہی تھا کہ جو بھی حلال چوپایہ ملے اسے قربان کردیا جائے اس لئے کئی سو سال تک مسلمانوں کے کسی ملک میں جانوروں کی کمی کا سامنا نہیں کیا گیا۔
برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کے علاقوں میں بکرے اور چھترے کا گوشت خصوصی طور پر پسند کیا جاتا رہا ہے اس لئے اس خطے میں قربانی کیلئے بھی بکروں یا چھتروں کو ہی منتخب کیا جاتا تھا۔
بکروں اور چھتروں کی قربانی کے اس رجحان نے آہستہ آہستہ آنے والے ہر سال کے ساتھ ان کی کمی کا سبب بننا شروع کردیا اور اصول معاشیات کے مطابق جس چیز کی رسد کم اور طلب زیادہ ہوگی، اس کی قیمت بھی زیادہ طلب کی جائے گی یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان میں عام دنوں میں گوشت 1300 روپے سے 1500 روپے فی کلو بک رہا ہے اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس قیمتوں پر عمل کروانے میں بری طرح سے ناکام ہیں۔
اس حقیقت میں بھی کوئی شک نہیں کہ قیام پاکستان کے بعد مویشیوں کی افزائش کے حوالے سے کبھی کسی حکومت نے کوئی ٹھوس پالیسی نہیں بنائی جس کا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ ہر جاتے سال کے ساتھ ان جانوروں کی افزائش میں کمی اور قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہا۔
حکومت وقت کے سربراہ وزیراعظم عمران خان نے چند ماہ قبل جب مرغیاں، انڈے اور مویشی پالنے کیلئے قوم کو متحرک کیا اور باقاعدہ پالیسی بنانے کا وعدہ کیا تو پاکستان کے نام نہاد سکالرز اور میڈیا پر بیٹھی کالی بھیڑوں نے اس فلسفے کا مزاق اڑایا اور کہا کہ عمران خان دو کروڑ نوکریاں دینے کے وعدے سے یو ٹرن لیتا ہوا مرغیوں اور انڈوں تک آگیا ہے۔
موجودہ حالات یہ ہیں کہ پاکستان میں آج بھی لائیو اسٹاک پر قابل قدر توجہ نہیں دی جارہی خصوصاً چھتروں اور بکروں کی افزائش جدید ریسرچ اور سائنسی بنیادوں پر نہیں کی جا رہی جس کی وجہ سے اس عیدالاضحٰی کے موقع پر دس سے پندرہ کلو گرام گوشت والا چھترا 20 ہزار جبکہ اسی وزن کا بکرا 30 ہزار میں فروخت ہوا ہے۔
گائے کی پیداوار بھی خطرناک حد تک کم ہوچکی ہے جس کی وجہ سے ایک طرف تو ملک میں دودھ کی کمی کا بحران ہے تو دوسری طرف جو کروڑ پتی لوگ ہیں ان کے درمیان زیادہ سے زیادہ گائے قربان کرنے کا ایسا مقابلہ چل پڑا ہے جو آنے والے دنوں میں مارکیٹ میں بڑے گوشت کے مہنگا ہونے کی بڑی وجہ بن سکتا ہے اور اس گوشت کے بھی متوسط اور غریب طبقے کی پہنچ سے باہر جانے کا خطرہ سر اٹھا سکتا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کو چاہیئے کہ ایک طرف تو لائیو اسٹاک میں بکرے پالنے والوں کو بلا سود قرضے دیں اور دوسری طرف بینکوں کو ہدایات دیں کہ وہ ان مویشی پال حضرات کی ماہرین کی مدد سے راہنمائی اور نگرانی کرائیں تاکہ ریاست کے اس بڑے مقصد کو نقصان نا پہنچے جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔
وزیراعظم کو جو غیر مقبول اور دیرپا فیصلہ کرنا ہوگا وہ یہ ہے کہ علماء اکرام کی مشاورت سے کم از کم تین سے پانچ سال کیلئے بکرے، مینڈھے اور چھترے کی قربانی پر مکمل پابندی عائد کر دیں۔
ہوسکتا ہے کہ جنونی مذہبی رجحان رکھنے والا طبقہ اس تحریر کو ناپسند کرے اور ایک لمبی بحث چھڑ جائے۔۔۔ مگر ان کو میری دعوت ہے کہ تاریخی اور معاشی حقائق کو مدنظر رکھ کر اس تحریر پر غور فرمائیں!