fbpx

قرۃالعین اور انصاف : تحریر عینی سحر

حیدر آباد کے علاقے بیراج کالونی کے رہائشی عمر خالد میمن نے اپنی بیوی قرۃالعین کو تشدد کرکے ہلاک کر دیا _ انکی میڈیکل رپورٹ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کے انھیں بہیمانہ تشددکرکے ہلاک کیا گیا _ بہت ممکن ہے کے یہ گھناؤنا جرم چھوٹے بچوں کے سامنے کیا گیا ہے _

میاں بیوی ایک دوسرے کے خوشی اور غم کے ساتھی ہوتے ہیں جنھیں قرآن میں ایکدوسرے کا لباس قرار دیا گیا ہے

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بیوی کو اکثر پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا اور اسکا استحصال کیا جاتا ہے _ چاہے وو کتنی پڑھی لکھی اور خودمختار ہو اکثر مرد اسے برابری کا مقام نہیں دیتے اور اپنی ملکیت سمجھتے ہوۓ اسکی تذلیل اور اسکے حقوق کی پامالی کرتے
ہیں

آخر کسی کی اس مظلوم بیٹی کا کیا قصور تھا کے نہ عدالت لگی نہ گواہ پیش ہوۓ اور نہ ہی کوئی منصف فیصلہ دے سکا اور محض عام گھریلو تکرار پر اسکے شوہر نے خود ہی عدالت لگائی تشدد کیا اور ایک بے بس اور مظلوم کی زندگی ختم کر دی

بیٹیاں ماں باپ کی جان اور انکا مان ہوتی ہیں _ کتنے ارمانوں سے وہ اپنی بیٹیوں کو پروان چڑھاتے ہیں اور محنتوں سے انکا جہیز تیار کرکے اللہ سے انکے بسنے اور آباد رہنے کی دعائیں کرتے ہوۓ انھیں سسرال بھیجتے ہیں _ وہ بیٹی اپنے والدین کا جگر کا ٹکڑا ہوتی ہے جو والدین کسی اور گھر میں رخصت کرتے ہوۓ صرف یہ خواہش کرتے ہیں کے انکی بیٹی خوش اور آباد رہے

ان بہیمانہ جرائم کیوجہ سے جو سسرال میں ہوتے ہیں والدین کو چاہئیے کے اپنی بیٹیوں کو باور کرائیں کے ظلم سہنے کی ضرورت نہیں اگر اس کے حقوق کی پامالی ہوتی ہے اس کیساتھ کوئی ظلم ہوتا ہے تو میکے کا دروازہ کھلا ہے لوٹ آنا_ اس لیے کے کہیں کوئی زور بیٹی قرۃالعین کیطرح بے بسی سے اپنے ظالم شوہر کے ہاتھ نہ مر سکے

اسلام بھی اس چیز کی اجازت نہیں دیتا کے بیویوں کے حقوق ضبط کرکے ان پر ظلم ڈھایا جاۓ بلکے ناچاقی کی صورت میں راستے الگ کرلینے کی اجازت بھی ہے کوئی شک نہیں طلاق اسلام میں پسندیدہ فعل نہیں لیکن اسلام ظالم شوہر کے ہاتھوں ظلم سہنے کو نہیں کہتا

بربریت کی یہ مثالیں معاشرے میں کب تک رہیں گیں ؟ ضروری ہے کے ایسے ظالم لوگوں کو کڑی سزا دی جاۓ جو جرم کرتے ہوۓ خوفزدہ نہیں ہوتے کے وہ قانون کے شکنجے میں آئیں گے یا اللہ کا غضب کا شکار ہونگے _ قرۃالعین کے شوہر کو پھانسی ہو بھی جاۓ تو نہ تو ان معصوم بچوں کو انکی ماں واپس ملے گی نہ وہ دنیا میں لوٹ کر آے گی اور نہ ہی اسکے والدین کو انکی بیٹی واپس ملے گی لیکن مظلوم کو انصاف ملنا چاہئیے

سوشل میڈیا سمیت ہر جگہ یہ آواز اٹھائی جارہی ہے کے قرۃالعین کو انصاف دو _ #justiceforquratulain

قانون اور انصاف سے یہ معاشرہ دہائی دیتا ہے کے قانون کی عملداری کروائیں اور ایسے بہیمانہ جرائم کا خاتمہ کریں