fbpx

قربانی کرنے والوں کے لئے اہم احکامات

جن وانس کی تخلیق کا حقیقی مقصد اللہ تبارک وتعالیٰ کی بندگی بجا لانا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ کی بندگی کے لیے مختلف طریقے قرآن وسنت میں متعین کیے گئے ہیں‘ جن میں نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، صدقات، نوافل، ذکرِ الٰہی، دعا اور دیگر بہت سی عبادات شامل ہیں۔

اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی بندگی کے لیے بعض ایام کو خصوصی اہمیت اور فضیلت بھی عطا فرمائی ہے جن میں ایام ذی الحجہ کو بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ توبہ کی آیت نمبر 36میں ارشاد فرماتے ہیں: ”بے شک مہینوں کا شمار اللہ کے نزدیک بارہ ہے‘ اللہ کی کتاب میں جس دن اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور اُن میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں‘‘۔ حرمت والے چار مہینوں میں رجب، ذو الحج، ذی القعد اور ـمحرم شامل ہیں۔

حرمت والے ان چار مہینوں میں ذی الحجہ کی اپنی ایک شان اور مقام ہے کیونکہ یہ دین اسلام کے پانچویں اہم ترین رکن’’حج‘‘ کی ادائیگی کا مہینہ ہے اس لیے اس مہینے کا نام ہی ذوالحج رکھا گیا ہے یعنی حج والا مہینہ اس مہینے کی 8تاریخ کو حاجی حج کا قصد کرتے اور 9 تاریخ کو عرفات میں وقوف کرتے ہیں، عرفات کے اس وقوف کی وجہ سے اللہ تبارک وتعالیٰ حاجیوں کی جملہ خطاؤں کو معاف فرما دیتے ہیں اور اس مہینے کی 10تاریخ کو دنیا بھر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے حاجی اور غیر حاجی مسلمان جانوروں کو ذبح کرتے ہیں-

ذی الحجہ کے پہلے عشرے سے متعلق ایک ہدایت یہ بھی ہمیں دی گئی ہے کہ جو شخص قربانی کرتاہو، وہ ذی الحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد حجاج کرام سے مشابہت کے لیے ناخن اور بال کٹوانے سے احتراز کرے ، اس سلسلے میں کتب احادیث میں حضرت ام سلمہ ؓ سے یہ روایت منقول ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا: جب ذی الحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہو جائے تو تم میں سے جو آدمی قربانی کرنے کا ارادہ کرے وہ ( اس وقت تک جب تک کہ قربانی نہ کرلے) اپنے بال اور ناخن بالکل نہ کتروائے۔

اس روایت میں قربانی کرنے والوں کو بقر عید کا چاند دیکھنے لینے کے بعد قربانی کر لینے تک بال وغیرہ کٹوانے سے اس لئے منع فرمایا گیا ہے ،تاکہ جو لوگ حج کررہے ہیں اور احرام کی حالت میں ہیں وہ بال ناخن نہیں کٹواسکتے، لہٰذا دوسرے لوگوں کو بھی احرام والوں کی مشابہت حاصل ہو جائے ۔

تاہم یہ ممانعت تنزیہی ہے ،لہٰذا بال وغیرہ کا نہ کٹوانا مستحب ہے اور اس کے خلاف عمل کرنا ترک اولیٰ ہے، لیکن حرام نہیں، لہٰذا کسی کو ضرورت ہو یا کوئی عذر ہواور وہ بال ناخن کٹوادے تو گناہ گار نہیں ہوگا۔بہرحال یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کو موقع دیاگیا ہے کہ وہ اپنی اپنی جگہ رہتے ہوئے بھی حج اور حجاج کرام سے ایک نسبت اور مشابہت پیدا کرلیں، اور ان کے ساتھ کچھ اعمال میں شریک ہوجائیں یہ مشابہت بھی ان شاء اللہ ہمارے لیے رحمت اور برکت کا سبب ہوگی۔