fbpx

قربانی اوراس کی اہمیت. تحریر: موسی حبیب راجہ

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں دکھایا گیا کہ وہ اپنے بیٹے (اسماعیل علیہ السلام )کو ذبح کررہے ہیں۔ نبی کا خواب سچا ہوا کرتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام فلسطین سے مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔ جب باپ نے بیٹے کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہیں ذبح کرنے کا حکم دیا ہے تو فرمانبردار بیٹے اسماعیل علیہ السلام کا جواب تھا
ابا جان! جو کچھ آپ کو حکم دیا جارہا ہے، اسے کرڈالئے۔ ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔
(سورۂ الصٰفٰت ۱۰۲)

صحیح بخاری میں ایک بڑا دلچسپ واقعہ منقول ھے.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ ایک مجلس میں تشریف فرما تھے. ایک عورت آئی اور اس نے اپنا نفس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سپرد کر دیا کہ اس کی جہاں چاہیں شادی کر دیں. ایک غریب کنوارے صحابی وہاں موجود تھے. انھوں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم! اس کی شادی آپ مجھ سے کر دیجیئے. رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا : "تمھارے پاس اسے حق مہر دینے کے لیے کچھ ہے؟ ” اس نے کہا کہ میرے پاس کچھ نہیں ھے.

آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جاؤ اگر لوہے کی انگوٹھی ہی مل جائے تو لے آنا ھم وہی حق مہر بنا کر اس کا نکاح تجھ سے کر دیں گے. وہ صحابی اپنے گھر گیا مگر غربت کا عالم یہ تھا کہ گھر سے لوھے کی ایک انگوٹھی بھی نہ ملی. اس نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم! میرے پاس ایک چادر ھے. اس میں سے آدھی میں حق مہر میں اسے دے دیتا ھوں اور آدھی خود رکھ لیتا ھوں.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :”وہ آدھی نہ آپ کے کسی کام آئے گی اور نہ اس کے کام آئے گی.”
وہ خاموشی سے ایک طرف ہو کربیٹھ گیا. تھوڑی دیر بیٹھا رہا مگر اٹھ کر جانے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے بلایا اور پوچھا:”تمھیں قرآن میں سے کچھ یاد ھے؟” اس نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں.
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں نے ان سورتوں کے عوض تمھارا نکاح اس سے کر دیا ہے( یعنی وہ سورتیں تم اسے یاد کروا دینا )”
( صحیح البخاری :5121)

اس حدیث سے اندازہ لگایا جاسکتا ھے کہ دور نبوت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی غربت کا کیا عالم تھا. ایک صحابی کے پاس حق مہر دینے کے لیے جو کہ فرض تھا، ایک لوھے کی انگوٹھی بھی نہیں تھی چاندی اور سونا تو دور رہا.
کتب احادیث میں ایسی غربت کے بیشمارواقعات ملتے ہیں.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ میں دس سال گزارے اورہرسال آپ نے قربانی کی حتی کہ ایک سال سو اونٹ نحر کیئے. آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان دس سالوں میں کبھی یہ نہیں کہا کہ اس سال ھم قربانیاں نہیں کریں گے بلکہ قربانی کا پیسہ نوجوان لڑکوں اورلڑکیوں کی شادی پرخرچ کریں گے.

اگرقربانی کے جانورذبح کرنے کی بجائے نوجوان لڑکوں اورلڑکیوں کی شادی پر پیسہ خرچ کرنا قربانی سے افضل ھوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ضرور اس کا حکم دیتے مگر آپ نے تو شادی کی استطاعت نہ رکھنے والوں سے فرمایا :

"اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شادی کی استطاعت رکھتا ھے وہ شادی کر لے اور جو استطاعت نہیں رکھتا وہ روزے رکھے، اس لیئے کہ یہ روزہ اس کے لیئے( گناہ سے بچنے کی )ڈھال ثابت ھو گا.”
( صحیح البخاری :5066)

جوں جوں قربانی کے ایام قریب آئیں گے، غریبوں کے بہت سے خیرخواہ ( لبرل ) اپنی بلوں سے نکلنا شروع ھو جائیں گے. ان کا مقصد غریبوں کی حمایت نہیں بلکہ شعائر اسلام کی تحقیر ھوتا ھے. ان کے دلوں میں شعائر اسلام کا بغض اور نفرت کوٹ کوٹ کر بھرا ھوتا ھے.

قربانی ایک عظیم عمل ھے جو اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ھے. شکوک و شبہات سے بچیئے اور اللہ کے دیئے ھوئے مال میں سے اللہ کی راہ میں جانور ذبح کیجیئے. اسی میں خیر اور بھلائی ھے

حضرت عبداللہ ابن عمرسے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ دس سال مدینہ میں مقیم رہے اور ہرسال قربانی فرماتے تھے۔ (سنن ترمذی )

حضور نبی کریم ﷺ کا ہر سال قربانی کرنا قربانی کی اہمیت ، فضیلت اور تاکید کیلئے کافی ہے۔۔

حضرت انس سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ سیاہ اور سفید رنگت والے اور بڑے سینگوں والے دو مینڈھوں کی قربانی فرما کرتے تھے،اور اپنے پاؤں کو انکی گردن کے پاس رکھ لیا کرتے تھے اور اپنے دستِ مبارک سے ذبح فرماتے تھے
(صحیح بخاری )


Musa Habib Raja is a Social Media Activist, Freelance Content Writer and Blogger. He is associated with various leading digital media sites in Pakistan and writes on political, international aswell as social issues To find out more about him please visit his Twitter