fbpx

دوشنبے کی سب سے خوش آئند بات: وزیرخارجہ نے بتادیا

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نےکہا ہے کہ دوشنبے میں سب سے خوش آئند بات یہ تھی کہ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ہارٹ ایشیا کانفرنس میں پاکستان کے حوالے سے کوئی منفی بات نہیں کی۔

دوشنبے میں ایک بھارتی ٹی وی رپورٹر انس ملک سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ انہوں نے بھارتی وزیر خارجہ کی تقریر کو انتہائی غور سے سنا، انہوں نے ماضی کے برعکس اپنے تقریر میں پاکستان کے بارے میں کوئی نامناسب اور منفی تذکرہ نہیں کیا۔ انہوں نے بھارتی وزیر خارجہ کی طرف سے پاکستان پر الزام تراشی اورطعنے بازی کا رویہ اختیار نہ کرنے کو انتہائی مثبت اقدام قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آگے بڑھنے کا واحد راستہ صرف بات چیت ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارت خطے میں امن کے لئے اگر ایک قدم آگے بڑھائے گا تو پاکستان دو قدم آگے بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ مذاکرات سے کبھی پیچھے نہیں ہٹا۔ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں۔ دونوں ملک جنگ کی حماقتوں میں ملوث نہیں ہو سکتے۔ دونوں ملکوں کے درمیان مسائل کے حل کا کوئی ملٹری آپشن نہیں ہے جنگ دونوں ملکوں کے لئے خودکشی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے تو بات چیت سے گریز کیوں۔ 

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دوشنبے میں بھارتی وزیرخارجہ جے شنکر سے کوئی باضابطہ ملاقات نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی بات چیت ہوئی۔ میڈیابھی اس کا گواہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے ملاقات کی کوئی درخواست نہیں ملی تھی اور نہ ہی ہماری کوئی ملاقات طے تھی۔ بھارتی وزہرخارجہ اپنے طے شدہ پروگرام میں مصروف تھے اور میری اپنی مصروفیات طے تھیں۔ 

وزیر خارجہ نے لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کو خوش آئند قرار دیااور کہا کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ دونوں ملکوں نے 2003 میں ہونے والے فائر بندی کے معاہدے کی اہمیت کو سمجھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری بھی اس کا خیرمقدم کررہے ہیں۔ 

وزیر خارجہ نے پاکستان کے قومی دن کے موقعہ پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے مبارکبادی خط اور وزیر اعظم عمران خان کے جوابی خط کا خاص طور پر ذکر کیا اور کہا کہ عمران خان نے مودی کا شکریہ ادا کیا اور واضح کیا کہ پاکستان کی دیرینہ خواہش رہی ہے کہ وہ تمام ہمسایوں کے ساتھ بہتر تعلقات اور امن کے ساتھ زندگی گزارے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کو تمام حل طلب معاملات کا مناسب حل نکالنا چاہئے۔  

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.