fbpx

گورنر پنجاب کو عہدے سے ہٹانے کے معاملے پر اٹارنی جنرل کا ردعمل

سابق وزیراعظم عمران خان نے گورنر پنجاب کو ہٹائے جانے کے معاملے پر سپریم کورٹ سے اپیل کر دی

تحریک انصاف کے چیئرمین سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امپورٹڈ حکومت نے پنجاب میں سنگین آئینی بحران پیدا کردیا ،عمران خان کا کہنا تھا کہ عدالت عظمیٰ پنجاب میں آئین و قانون کی کھلی خلاف ورزی کا نوٹس لیں،امپورٹڈ کٹھ پتلیاں پنجاب میں فساد کو ہوا دے رہی ہیں،پہلے گھوسٹ انتخاب کے ذریعے ایک مجرم کو وزیراعلیٰ بنا دیا گیا،تمام دستوری تقاضے بالائے طاق رکھتے ہوئے صدر کے منصب کی توہین کی گورنر پنجاب کو نہایت شرمناک طریقے سے ہٹانے کی کوشش کی گئی،عدالتِ عظمیٰ صورتحال کی نزاکت کے پیشِ نظر معاملے کو از خود دیکھے،پنجاب میں ضمیرفروشوں کا معاملہ بھی بلاتاخیر انجام تک پہنچایا جائے،

قبل ازیں ورنر پنجاب کو عہدے سے ہٹانے کے معاملے پر اٹارنی جنرل کا ردعمل آ گیا ،اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کا کہنا ہے کہ آئینی عہدے عزت و احترام کے ہوتے ہیں ۔ آئینی عہدوں پر زبردستی بیٹھنا غیر اخلاقی ہے آئین اور قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا ،دل کو بھی یہی کہنا چاہیے کہ آپ اعتبار کھو بیٹھے ہیں تو عہدہ چھوڑ دیں

قبل ازیں وفاقی حکومت کی جانب سے سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کی برطرفی کا معاملہ،گورنر ہاؤس کا مین گیٹ بیریر لگا کر بند کر دیا گیا گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو انکے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے وفاقی حکومت کی جانب سے سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کی برطرفی کے بعد سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق عمر سرفراز چیمہ گورنر نہیں رہے تو اب سیکیورٹی نہیں دی جا رہی، اور انہیں گورنر ہاؤس میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا، اسی لیے گورنر ہاؤس کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے، جبکہ گورنر ہاؤس کا مین گیٹ بیریر لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب برطرف گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے بھی اگلے لائحہ عمل کا اعلان کر دیا ،انکا کہنا ہے کہ آئینی ماہرین سے مشاورت کے بعد فیصلہ کروں گا، عمران خان کا سپاہی ہوں، ڈٹ کر مقابلہ کروں گا

آٹے اور چینی کی قیمتیں کم گھی پر سبسڈی دینے کا فیصلہ

اس سے قبل گزشتہ روز صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو ہٹانے کی وزیراعظم کی ایڈوائس مسترد کردی تھی۔

صدر عارف علوی نے کہا کہ گورنر پنجاب کو صدر پاکستان کی منظوری کے بغیر نہیں ہٹایا جا سکتا،آرٹیکل 101 کی شق 3 کے مطابق گورنر صدر کی رضا مندی تک عہدے پر قائم رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ گورنر پر بدانتظامی کا کوئی الزام ہے اور نہ کسی عدالت سے سزا ہوئی، اور نہ ہی انہوں نے آئین کیخلاف کوئی کام کیا، انہیں ہٹایا نہیں جا سکتا۔صدر کا فرض ہے کہ آرٹیکل 41 کے مطابق پاکستان کے اتحاد کی نمائندگی کرے۔

دشمن ممالک کو خوش کرنے کیلئےعمران نیازی ایک خطرناک ایجنڈے پر گامزن ہیں،شرجیل میمن

صدر نے کہا کہ عمر سرفراز چیمہ نے پنجاب اسمبلی میں پیش آنے واقعات سے متعلق رپورٹ ارسال کی تھی، مجھے یقین ہے کہ گورنر کو ہٹانا غیر منصفانہ اور انصاف کے اصولوں کے خلاف ہوگا۔

وزیر داخلہ رانا ثنا اللّٰہ نے صدر عارف علوی کو پیغام میں کہا تھا کہ صدر مملکت وزیراعظم کی ایڈوائس کے پابند ہیں، اس سے ہٹنا آئین شکنی ہوگی ن لیگ والے تنقید کررہے ہیں لیکن ان کو آئین کا پتہ نہیں، صدر آئین کے مطابق ہی گورنر کو ہٹا سکتے ہیں۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ آئین میں واضح ہے کہ صدر اور گورنر کے اختیارات کیا ہیں ن لیگ کو وارننگ دی ہے کہ گورنرہاوس میں لوگ جمع نہ کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں ایک ٹویٹ کے ذریعے لوگوں کو گورنرہاؤس بلا سکتا ہوں، وزیرداخلہ سے نفری مانگی ہے جواب ابھی تک نہیں ملا، ن لیگ کو کھلی مذاکرات کا چیلنج دیا ہے مگر پھر بھی نہیں آئیں گےوزیراعلیٰ پنجاب استعفیٰ آئین کے مطابق گورنر کو دیتا ہے ، وزیراعظم کو نہیں۔

گورنر پنجاب کی برطرفی کا نوٹیفکیشن جاری