راحیل شریف کو عہدے میں توسیع کی پیشکش کی تھی یا نہیں؟ چوھدری نثار کھل کر بول پڑے

راحیل شریف کو عہدے میں توسیع کی پیشکش کی تھی یا نہیں؟ چوھدری نثار کھل کر بول پڑے

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو ن لیگ کی جانب سے مدت ملازمت میں توسیع کی پیشکش کے حوالے سے سابق وفاقی وزیر داخلہ چوھدری نثار میدان میں‌ آ گئے ہیں، چوھدری نثار نے اس طرح کے تمام دعووں کو مسترد کر دیا ہے.

چوہدری نثار دی نیوز میں شائع ہونے والی اسٹوری کیا راحیل شریف نے نواز شریف سے توسیع مانگی تھی کا جواب دے رہے تھے یہ اسٹوری گزشتہ ہفتے دی نیوز میں شائع ہوئی تھی۔

روزنامہ جنگ کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل امجد شعیب نے جنرل راحیل کے حوالے سے بتایا تھا کہ اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف اور نون لیگ کے ایک اور اہم رہنما سے ملاقات کے بعد وہ پی ایم آفس سے روانہ ہو رہے تھے تو ان سے شہباز شریف اور چوہدری نثار نے رابطہ کیا، جنہوں نے انہیں توسیع کی پیشکش کی۔

راحیل نے شعیب کو بتایا کہ شہباز اور نثار نے کہا کہ وہ انہیں بحیثیت آرمی چیف توسیع دینا چاہتے تھے۔جنرل شعیب نے بتایا کہ وہ اس لیے توسیع نہیں لینا چاہتے تھے کہ وہ کئی ماہ پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ تین سال کا عرصہ پورا کرنے کے بعد وہ ملازمت جاری نہیں رکھیں گے۔ راحیل کے مطابق جب انہوں نے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا تو انہیں فیلڈ مارشل کے عہدے کی پیشکش کی گئی جو انہوں نے مسترد کر دی کیونکہ وہ ایسا عہدہ نہیں لینا چاہتے تھے جس میں وہ سربراہ تو ہوں لیکن ان کے پاس کرنے کو کوئی کام نہ ہو۔

اچھی ساکھ رکھنے والے سیاست دانوں میں شمار ہونے والے چوہدری نثار نے کہا کہ میں یہاں دوٹوک اور واضح الفاظ میں ان باتوں کی تردید کرنا چاہوں گا جو دی نیوز کے 15؍ نومبر کی اشاعت میں میرے حوالے سے انصار عباسی کے آرٹیکل میں لکھی گئی ہیں۔

ن لیگ والےمجھے ٹرول کرنے کی زحمت نہ کریں، ماروی میمن نے ایسا کیوں کہا؟

چودھری نثار نے درباری پن کے مقابلے میں عزت کو ترجیح دی، ماروی میمن

چاہتا تو آج بھی گاڑی پر وزارت کا جھنڈا لہرا سکتا تھا، جانیے چوہدری نثار نے ایسا کیوں‌ کہا؟

چودھری نثار کا کہنا تھا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ شہباز شریف کے ساتھ مل کر میں نے مسٹر راحیل شریف کو توسیع کی پیشکش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ میں ایسا کیسے کر سکتا ہوں جب میرے پاس ایسا کرنے کیلئے کوئی اختیار ہے اور نہ ہی وزیراعظم نے اس حوالے سے مجھے کوئی اتھارٹی دی تھی۔انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا مذاق تو یہ کہنا ہے کہ ہم نے فیلڈ مارشل کے عہدے کی پیشکش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر کوئی پیشکش کرنا تو دور یہ ’’تجویز‘‘ بھی ہمارے ذہن میں نہیں آئی۔

انہوں نے کہا کہ یہ ’’شاندار‘‘ تجویز کون سامنے لایا اور اعلیٰ سطح پر سول ملٹری اجلاس میں کس نے کیا کہا تھا؛ اس پر فی الحال بات نہیں کرنا چاہئے۔ تاہم، جب ان سے پوچھا گیا کہ تو انہوں نے تصدیق کی کہ چار سینئر سویلین شخصیات (وزیراعظم نواز شریف، شہباز شریف، چوہدری نثار اور اسحاق ڈار) کی تین ملٹری عہدیداروں (راحیل شریف کی قیادت میں) سے ملاقات ہوئی تھی جس میں صرف توسیع کے ایشو پر بات چیت ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی حساس سرکاری معاملات ہیں اور ہمیں ’’اِس نے یہ کہا، اُس نے یہ کہا‘‘ جیسی باتوں میں نہیں پڑنا چاہئے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سب سے زیادہ احتیاط یکطرفہ اور ناقص بیانات پر کھل کر بات نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس سے پہلے سے ہی مخدوش حالات مزید بگڑ جائیں گے۔

بشکریہ ،دی نیوز

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.