fbpx

وزیراعلیٰ کا رحیم یارخان میں پراسرار بیماری سے ہلاکتوں پر گہری تشویش کا اظہار

وزیراعلیٰ کا رحیم یارخان میں پراسرار بیماری سے ہلاکتوں پر گہری تشویش کا اظہار
وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے رحیم یار خان کے نواحی علاقے رکن پور میں پراسرار بیماری سے ہلاکتوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے ایک ہی خاندان کے 12 افراد کے جاں بحق ہونے کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری محکمہ صحت اور کمشنر بہاولپور ڈویژن سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ سپیشلسٹ ڈاکٹرز پر مشتمل ٹیم علاقے کا دورہ کرے اور متاثرہ افراد کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کی جائیں۔ محکمہ صحت کے حکام صورتحال کی تسلسل کے ساتھ مانیٹرنگ کریں۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی میڈیکل کیمپ میں تمام ضروری ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور بیماری کا پھیلاؤ روکنے کیلئے تمام تر اقدامات کئے جائیں۔چودھری پرویز الٰہی نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

رحیم یار خان کے علاقے رکن پور میں گردن توڑ بخار یا کچھ اور بیماری کا پھیلاؤ مزید بڑھ گیا ،متاثرہ خاندان کے مزید 2 افراد متاثر ہو کر شیخ زید ہسپتال پہنچ گئے زیر علاج مریضوں کی تعداد 11 ہوگئی ،مریضوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، ترجمان شیخ زید کے مطابق مشتبہ مریضوں کو شیخ زید ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ منتقل کر دیا گیا ہے، محکمہ صحت نے علاقے میں بیماری کا پھیلاؤ روکنے کیلئے میڈیکل کیمپ قائم کرکے اسکریننگ اور سیمپلنگ شروع کردی ،عالمی ادارہ صحت کی ٹیم گردن توڑ بخار سے جاں بحق افراد کی موت کی تحقیقات میں مصروف ہیں

واضح رہے کہ رکن پور میں پر اسرار بیماری ،چند روز میں ایک ہی خاندان کے 12 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں ترجمان شیخ زید اسپتال کا کہنا ہے کہ 3 افراد کو بخار میں مبتلا ہونے پراسپتال منتقل کیا گیا تھا جنکی موت ہوگئی، متاثرہ گھر سے کھانے پینے کی اشیا برتنوں اورمتاثرہ افراد کے خون کے نمونے لیے، رپورٹ سامنے آنے پر موت کی وجہ بیان کی جا سکتی ہے،دیگرافراداسپتال میں زیرعلاج ہیں، اب تک 12 افراد کی موت ہو چکی ہے اب تک جاں بحق ہونے والوں میں 10 سالہ صائمہ ، 12 سالہ عمیرہ ، 16 سالہ اعجاز ، زبیدہ بی بی ، مقصود احمد ، رابعہ بی بی ، عائشہ بی بی ، شہناز بی بی ، نذیراں بی بی اور بشیراں بی بی شامل ہیں جبکہ 7 سالہ آصف اور 2 سالہ خدیجہ کو تشویشناک حالت میں شیخ زید ہسپتال رحیم یارخان داخل کروا دیا گیا ہے

فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف