ریڈیو پاکستان کے جبری برطرف ملازمین کا احتجاج جاری

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریڈیو پاکستان کے جبری برطرف ملازمین کا احتجاج جاری ہے

ریڈیو پاکستان کے ملازمین ادارے کی عمارت کے سامنے دھرنا دئیے بیٹھے ہیں، ملازمین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے ہیں جن میں مطالبات درج کئے گئے ہیں،مظاہرین ملازمت کی بحالی کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں

مظاہرین کا کہنا تھا کہ نوکریاں بحال کریں ایک کروڑ نوکریاں کہاں ہے ؟ہمارے بچے بھوکے ہیں۔ کھانا کہاں سے لائیں؟ چار مہینے سے تنخواہیں نہیں ملیں۔

دوسری جانب وفاقی وزیر علی محمد خان کا کہنا تھا کہ ریڈیو پاکستان کا خسارہ ہمارے دورے کا نہیں ،حکومت نے ریڈیو پاکستان میں کوئی نئی بھرتیاں نہیں کیں،ریڈیو پاکستان کے ملازمین کو فارغ کرنا مشکل فیصلہ تھا،ادارے کو چلانے کیلئے ملازمین کو فارغ کرنا پڑا،

مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران صاحب ریڈیو پاکستان کے نکالے جانے والے ملازمین سے بدسلوکی پر معافی مانگیں،عمران صاحب ملازمین کی نوکریاں چھینتے ہیں اور احتجاج پر ان نہتے مظلوم ملازمین پر کریک ڈاون کرکے تھانوں میں بند کررہے ہیں عمران صاحب غریب ملازمین کی آہوں، بددعاوں اور آنسووں کا آپ کو حساب دینا ہوگا ،ریڈیو پاکستان کے غریب ملازمین کو نوکریوں پر بحال اور تھانوں سے رہا کیاجائے،اپنی زندگیوں کے برس ہا برس سرکاری ملازمت کو دینے والوں کی نوکریاں چھیننا اور ان پر ڈنڈے برسانا فسطائیت کی انتہاءہے

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا ہے سلیکٹڈ حکومت نے بیک جنبش قلم 749 خاندانوں کے چولہے بجھا دیئے .اگر حکومت کو خراب کارکردگی والا ایک ملازم برداشت نہیں، تو قوم ایک نالائق وزیراعظم کو کیوں جھیلے ،پیپلز پارٹی ریڈیو پاکستان کے ملازمین سمیت مختلف اداروں سے بلاجواز برطرف کیئے گئے ملازمین کے ساتھ ہے

ریڈیو پاکستان سے برطرف ملازمین کی درخواست ضمانت پر عدالت نے فیصلہ سنا دیا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.