fbpx

ریلوے کا پورانظام ٹھیک کرنے کے لیے 50ارب ڈالر چاہیے، پانچ سال بعد خسار ختم ہو گا، ریلوے حکام

ریلوے کا پورانظام ٹھیک کرنے کے لیے 50ارب ڈالر چاہیے، پانچ سال بعد خسار ختم ہو گا، ریلوے حکام
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کا اجلاس چیئر مین کمیٹی سینیٹر محمد قاسم کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت ریلوے کے ماتحت ایف جی آئی آر، ریلوے پولیس،ریلوے ورکشاپ، تربیتی اداروں اور میڈیکل ہسپتالوں کے کام کے طریقہ کار کارکردگی اور انتظامی امور کے متعلق تفصیلی بریفنگ کے علاوہ کوئٹہ سے مسافروں اور سامان بردار ٹرینوں کی آمدورفت کو معطل اور بحال کرنے کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں صوبہ بلوچستان میں کوئٹہ سے مسافروں اور مال بردار ٹرینوں کی آمدورفت کے حوالے سے عوامی عرضداشت کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔وائس پریزیڈنٹ چیمبر آف کامرس بلوچستان نے قائمہ کمیٹی کو تفصیلات سے آگاہ کیا۔جس پر سیکرٹری ریلوے نے کہا کہ بہتری کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔سیکرٹری ریلوے نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ جلد ہی کوئٹہ سے ایک اور ٹرین شروع کی جائے گی۔230نئی کوچز خریدی جا رہی ہیں اس سے مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔ 15سے 16سال پرانی کوچز ہیں جو اپنی زندگی پوری کر چکی ہیں اور ان میں سے 50فیصد خراب ہو چکی ہیں۔ پانچ سال پہلے صرف انجن خریدے گئے تھے موجودہ حکومت نے وزارت ریلوے پر خصوصی توجہ دی ہے ابھی بہتر کام ہو رہا ہے آمدن میں اضافہ ہو رہا ہے۔

سینیٹر سیف اللہ سرور خان نیازی کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ پانچ ٹرینوں کی نجکاری کی جائے گی آپریشن حکومت کے پاس رہے گا جبکہ مرمت، صفائی، ٹکٹ، سیل و دیگر چیزیں پرائیویٹ کی جائے گی۔ ٹریک کی مرمت کیلئے پہلی دفعہ آؤٹ سورس کی طرف جا رہے ہیں۔ سینیٹر ڈاکٹر زرقہ سہروردی تیمور نے کہا کہ ریلوے ملازمین کی تعدادبارے آگاہ کیا جائے زیادہ تر مسائل محکمے کے لوگوں کی طرف سے ہوتے ہیں جبکہ تک ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جائے گا مسائل حل نہیں ہونگے جس پر سیکرٹری ریلوے نے کہا کہ95ہزار ملازمین کی جگہ 65ہزار ملازمین کام کررہے ہیں۔ ٹریک کے لیے مشین خریدی مگر چلانے والے تربیت یافتہ نہیں تھے جس کی وجہ سے وہ تباہ ہوگئیں۔ دنیا مشینوں سے کام کررہی ہے کمرشل آؤٹ سورسنگ کرنے کے لیے سرمایہ کار نہیں مل رہے۔ تین ٹریک کی مرمت کے منصوبے تھے ایک کی بیڈ آئی ہے۔ریلوے میں پرائیویٹ سیکٹر نہیں آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریلوے کا پورانظام ٹھیک کرنے کے لیے 50ارب ڈالر چاہیے۔ابھی 86 ٹرین چلارہی ہیں اگر 2سو ٹرین چلائیں تو یہ معاشی طور پر قابل عمل ہوگا۔25%مسافروں کو ٹرین سے لا سکتے ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر اگر ہماری موجودہ آمدن سے دس فیصد زیادہ دیتا ہے تو ہم مسافر گاڑی دینے کو تیار ہیں۔ ہمارے پلان کے مطابق پانچ سال بعد ریلوے خسارہ ختم ہوجائے گا۔ سی ای او نے کہاکہ ٹرین زیادہ ہونے سے خرچ میں کمی ہوتی ہیں۔ ٹرین کم کرنے کی وجہ سے بھی خسارہ بڑ ھ گیا ہے۔ٹریک پر سرمایہ کاری کرنی پڑے گی۔ اے جی ایم ریلوے نے کہاکہ 2018میں نیشنل ٹرانسپورٹ پالیسی بنی اس پالیسی کے لیے رسورس کی ضرورت ہے۔ہماری ترجیحات میں سڑکیں ہیں ایکسل لوڈ پر عمل نہ کر کے سڑکیں توڑ رہے ہیں۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد قاسم نے کہا کہ پاکستان بہت بڑا ملک ہے اگر موثر منصوبہ بندی کی جائے تو پاکستان کے ریلوے نظام کو جدید خطوط پر استوار کر کے نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ ریلوے سفر اور سامان کی ترسیل میں اضافے سے سڑکوں پر ہونے والے حادثات میں نمایاں کمی ہو سکتی ہے اور حکومت کے لئے اربوں روپے کی آمدن کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ محکمہ ریلوے کے 7بڑے ہسپتال ہیں جن پر سالانہ دو ارب روپے خرچ ہوتا ہے اُن کو آؤٹ سورس کرنے جا رہے ہیں۔

قائمہ کمیٹی کو ایف جی آئی آر کے کام کے طریقہ کار، کارکر دگی اور دیگر متعلقہ امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ انسپکٹرر یٹ 1890کے ریلوے ایکٹ کے تحت 1908میں قائم کیا گیا جس کا مقصد ریلوے سیفٹی کو ریگولیشن کرنا تھا۔ 1941میں آزاد اسٹیٹس دیا گیا، 1947کے بعد اسے وزارت کے مواصلات کے ماتحت کیا گیا اور 1974میں وزارت ریلوے کے ساتھ ملا دیا گیا۔ اس کا بنیادی کام ریلوے ٹریک، سگنل، ریلوے اسٹیشن وغیرہ کا معائنہ کرنا ہوتاہے۔ 1890کے ریلوے ایکٹ کے تحت وزارت کے دیگر امور بھی انجام دینا ہے۔

قائمہ کمیٹی کو ریلوے پولیس کی کارکر دگی اور کام کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا کمیٹی کو محکمہ پولیس کی کارکردگی کی رپورٹ جنوری 2021سے جولائی 2021 بارے آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیاکہ 1753کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 1652کے چالان ہوئے۔2071ملزمان میں سے 1990گرفتا ر کئے اور چوری کی گئی 34ملین روپے کی پراپرٹی میں سے 29ملین ریکور کی گئی۔محکمہ ریلوے کی زمین کے 527کیسز رپورٹ ہوئے، 511کا چالان کیا گیا،581افراد پکڑے گئے ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ محکمہ ریلوے کی 33ایکڑ اراضی زمین،65ایکڑ کمرشل اور 40ایکڑ زرعی ریکور کی گئی جبکہ 35کواٹرز 554دوکانیں وغیرہ جن کی مالیت 4163ملین روپے بنتی ہے ریکور کی گئی۔ قائمہ کمیٹی کو ریلوے ورک شاپس، ٹریننگ انسیٹیوٹ کے کام اور ادارے کی کارکردگی بارے تفصیلی بریف کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ریلوے ورک شاپس میں نئی کوچز، پرانی کوچز کی مرمت وغیرہ کی جا رہی ہے۔ کنسٹرکشن شاپس میں ہوپر ویگنز بنائی گئی ہیں جن پر کراچی سے ساہیوال پاور کول پلانٹ کیلئے کول لایا جاتا ہے اور ٹریننگ انسیٹیوٹ سے آفسران و سٹاف کو معیار تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان ریلوے اکیڈمی 1925میں فیصل آباد میں قائم کی گئی اور 1929میں موجودہ جگہ پر شفٹ کی گئی جہا ں پر والٹن ٹریننگ اسکول کا نام دیا گیا اور 2000 میں پاکستان ریلوے اکیڈمی کا نام دیا گیا جس میں 1476 غیر ملکوں اور 421 پاکستانیوں کو تربیت فراہم کی گئی، کل منظور شدہ آسامیوں کی تعداد 171ہے جن میں سے 65 خالی ہیں۔ اکیڈمی میں 15دفاتر 35کلاس رومز،7ماڈل رومز،8ہاسٹل وغیرہ شامل ہیں۔ادارے میں 145کوسز کروائے ہیں اور گزشتہ پانچ سالوں کے دوران 6707لوگوں نے تربیت حاصل کی ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد قاسم نے کہا کہ وزارت ریلوے کے حکام نے اچھی بریفنگ دی ہے کوشش کریں گے کہ محکمہ ریلوے کے مختلف شعبوں کے حوالے سے علیحدہ علیحدہ بریفنگ حاصل کی جائے۔ قائمہ کمیٹی لاہور اور کراچی میں بھی اجلاس طلب کر کے معاملات کا جائزہ لے گی بہتر حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے نا صرف مسائل کو حل کیا جائے گا بلکہ وزارت ریلوے کو منافع بخش بنانے کیلئے مل کر لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔

قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرزسیف اللہ سرور خان نیازی، دوست محمد خان، مشاہد حسین سید، ڈاکٹر زرقہ سہروردی تیمور کے علاوہ سیکرٹری ریلوے اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!