fbpx

ریلوے کی اربوں روپے کے گرانٹس لیپس ،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا برہمی کا اظہار

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سب کمیٹی کا ریلوے کی اربوں روپے کے گرانٹس لیپس ہونے پر شدید برہمی کا اظہار
ریلوے کی کوچزاور ٹریک خراب ہیں پیسے مل جائیں تو ان سے سنبھالتے نہیں ہیں سفارشی افسروں کوعہدوں پر بیٹھایا ہوا ہے ،کمیٹی
کمیٹی نے اگلے اجلاس میں سیکرٹری منصوبہ بندی کو طلب کرتے ہوئے دو ہفتوں کا وقت دے دیا
ریلوے سامان درآمدکرنے میں کیک بیکس ملتے ہیں اس لیے مقامی سطح پرچیزیں نہیں بنائی جارہی ہیں،ریاض فتیانہ
کمیٹی کوبھارت اور بنگلہ دیش کتنا ریلوے کا سامان درآمد کرتے ہیں اور کتنا مقامی سطح پر بناتے ہیں پر رپورٹ دی جائے
ریلوے لینڈ کا سپیشل آڈٹ کی رپورٹ دو ہفتوں میں آجائے گی ۔آڈٹ حکام
معائدے کے تحت ریلوے کومتبادل زمین نہ دینے پر ایس ایم بی آر پنجاب کو کمیٹی میں طلب کرلیا گیا،
26 ایکڑسے زائد زمین ریلوے نے رینجرز کو صرف 29 ہزار سالانہ میں کرائے پر دینے کا انکشاف
کمیٹی نے زمین مارکیٹ ریٹ پر دینے کی ہدایت کرتے ہوئے رینجرز سے بقایاجات کی ادائیگی کی سفارش کردی

اسلام آباد(محمداویس) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سب کمیٹی نےریلوے کی اربوں روپے کے گرانٹس لیپس ہونے پر شدید برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ ریلوے کی کوچزاور ٹریک خراب ہیں پیسے مل جائیں تو ان سے سنبھالتے نہیں ہیں سفارشی افسروں کوعہدوں پر بیٹھایاہواہے ۔کمیٹی نے گرانٹ لیپس ہونے پر اگلے اجلاس میں سیکرٹری منصوبہ بندی کو طلب کرتے ہوئے دو ہفتوں کا وقت دے دیا۔ریاض فتیانہ نے کہاکہ ریلوے سامان درآمدکرنے میں کیک بیکس ملتے ہیں اس لیے مقامی سطح پرچیزیں نہیں بنائی جارہی ہیں۔ کمیٹی کوبھارت اور بنگلہ دیش کتنا ریلوے کا سامان درآمد کرتے ہیں اور کتنا مقامی سطح پر بناتے ہیں پر رپورٹ دی جائے ۔آڈٹ حکام نے بتایاکہ ریلوے لینڈ کا سپیشل آڈٹ کی رپورٹ دو ہفتوں میں آجائے گی ،معائدے کے تحت ریلوے کومتبادل زمین نہ دینے پر ایس ایم بی آر پنجاب کو کمیٹی میں طلب کرلیا گیا،26ایکڑسے زائد زمین ریلوے نے رینجرز کو صرف29 ہزار سالانہ میں کرائے پر دینے کاانکشاف ہواجس پر کمیٹی نے زمین مارکیٹ ریٹ پر دینے کی ہدایت کرتے ہوئے رینجرز سے بقایاجات کی ادائیگی کی سفارش کردی ۔اگر مارکیٹ ریٹ پر کرایہ نہ دیاجائے توزمین خالی کرائی جائے ۔

بدھ کوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سب کمیٹی کا اجلاس کنوینئرریاض فتیانہ کی سربراہی میں ہوا۔ اجلاس میںسینیٹر مشاہد حسین سید ،سینیٹرطلحہ محمود،علی نواز شاہ نے شرکت کی سب کمیٹی میں پاکستان ریلوے کی گرنٹ اور پیروں کاجائرہ لیاگیا۔آڈٹ حکام نے بتایاکہ مالی سال 2014-15 میں ریلوے کو 7 ارب روپے کی گرانٹ ملی مگراس میں سے 2ارب روپے سلنڈر کردیئے جبکہ 5ارب روپے لیپس ہوگئے ۔گرانٹ لیپس ہونے پر کمیٹی نے شدید براہمی کااظہار کیا۔کنوینئر ریاض فتیانہ نے کہاکہ ریلوے کی بوگیاں خراب ہیں ٹریک خراب ہے مگر 7ارب روپے لیپس ہوگئے اگر پیسے مل جائیں تو سنبھالتے نہیں ہیں ۔مٹی پاؤ سے مسئلہ حل نہیں ہوگا اس میں گورننس کا مسئلہ ہے سفارشوں کے ساتھ لوگ عہدے پر بیٹھے گئے تو ایسا ہوگا ۔ بروقت کام نہیں کریں گے تو پیسے مل ہی جائیں تو وہ لیپس ہوں گے۔آڈٹ حکام نے کہاہے کہ اس معاملہ کوسیٹل کریں مگر مٹی پاؤ سے مسئلہ حل نہیں ہوگا کیا اس میں پر کسی کی ذمہ داری فکس کی ہے ۔

سیکرٹری ریلوے نے کہاکہ 2ارب سلنڈر کردیئے تھے باقی پیسے ریلیز نہیں ہوئے جس کی وجہ سے خرچ نہیں ہوئے ۔چیرمین نے کہاکہ 9ارب روپے کل لیپس ہوگئے ۔پیسے سلنڈر کیوں کئے گئے۔ اگر پیسوں کی ضرورت نہیں تھی تو پی ایس ڈی پی میں کیوں مانگے تھے اگر مل گئے تھے تو استعمال کیوں نہیں کئے ۔حکام نے بتایا کہ ہم سامان درآمد کرتے ہیں جس کی وجہ سے اگر وقت پر کام نہ ہوتوپیسے سلنڈر کردیتے ہیں ۔چیرمین نے کہاکہ ریلوے کی تمام فیکٹریاں بند کی ہوئی ہیں ۔انگریز نے جو چھوڑا تھا اس کو بھی درست نہیں کیا جاسکتا ۔پاکستان میں یہ سامان کیوں بنایا نہیں جاسکتاہے ۔ہر بات پر مٹی ڈالنے کا نظام ہے جس کی وجہ سے ملک آگئے نہیں بڑ رہاہے ۔احتساب کا نظام نہیں ہے ۔کمیٹی نے ہدایت کی کہ7 ارب روپے کی گرانٹس لیپس ہونے پر دوبارہ ڈی اے سی میں معاملہ لے کرجائیں ۔کمیٹی نے گرانٹ لیپس ہونے پر اگلے اجلاس میں سیکرٹری منصوبہ بندی کو طلب کرتے ہوئے دو ہفتوں کا وقت دے دیا۔

ریاض فتیانہ نے کہاکہ بیرون ملک سے سامان درآمدکرنے میں کیک بکس ملتے ہیں اس لیے مقامی سطح پرچیزیں نہیں بنائی جارہی ہیں بھارت اور بنگلہ دیش کتنا ریلوے کا سامان درآمد کرتے ہیں اور کتنا مقامی سطح پر بناتے ہیں اس کی رپورٹ کمیٹی کودی جائے ۔سیکرٹری ریلوے نے کمیٹی کوبتایاکہ شورکوٹ سیکشن کی مرمت کا پی سی ون بن گیا ہے سی ڈی ڈبلیو پی ہونی ہے اب یہ وزارت منصوبہ بندی میں ہے ۔

ریاض فتیانہ نے کہاکہ مذہبی سیاحت کے حوالے سے ننکانہ اہم جگہ ہے وزیر اعظم بھی سیاحت کی فروغ کی بات کرتے ہیں مگر نیاسٹیشن بنایاگیامگر پہلے دوٹرین جاتی تھی اب وہ بھی بندکردی گئیں ہیں ۔ سکھ کہتے ہیں کہ مذہبی سیاحت کس طرح ہوگا جب ٹرین ہی بند ہیں ریاض فتیانہ نے کہاکہ ننکانہ روٹ پردو ٹرینیں چلتی تھیں وہ بھی بند کردی ہیں بتایاجائے وہ ٹرینیں کہاں گم ہوگئی ہیں ۔14اگست کو اعلان کیا ٹرین بحال کریں گے مگراس پر عمل کیوں نہیں ہوا۔سیکرٹری نے کہاکہ ٹرین کوچز کی کمی کی وجہ سے بند ہوئی ۔ریاض فتیانہ نے کہاکہ پہلے جو ٹرینیں چلتی تھیں ان کے انجن اور بوگیاں کہاں گئی ہیں ۔سال سے ٹرینیں چل رہی ہیں مگر یہ ٹرینیں بحال نہیں ہورہی ہیں ۔اگر وزیر کا مسئلہ ہے تو ان کو بلالیتے ہیں ۔اگر یہ مسئلہ حل نہیں کرناتو اس کو ہم استحقاق کمیٹی میں بھیج دیں گے ۔پاکستان کی آبادی ڈیڈھ کڑور تھی اب 22کڑور آبادی ہوگئی ہے اور کہاجارہاہے کہ سوایاں نہیں ہیں ۔

کنوینئر کمیٹی ریاض فتیانہ نے کہاکہ ریلوے لینڈ کا سپیشل آڈٹ کرنے کا حکم دیا تھا ایک ماہ ہوگیا ہے اس کاکیاہواآڈٹ حکام نے بتایا کہ دو ہفتوں میں رپورٹ آجائے گی۔لاہور میں ریلوے زمین پر ہسپتال بنانے اور ریلوے کومتبادل زمین نہ دینے پر کمیٹی نے ایس ایم بی آر پنجاب کو کمیٹی میں طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ کمیٹی کے پاس مسئلہ ایک ماہ میں مسئلہ حل کرکے آئیں۔ آڈٹ نے بتایاکہ ٹرین آؤٹ سورس ہونے کی وجہ سے 961عشاریہ50ملین روپے نقصان ہوا ہے ۔حکام نے بتایاکہ کیس عدالت میں چل رہا ہے سول کورٹ میں زیر سماعت ہے ۔2015سے کیس عدالت میں ہے ۔ معائدے میں نقائص تھے جس کی وجہ سے مسائل ہو ۔کمیٹی نے کہاکہ ہائی کورٹ میں جائیں اور وہاں سے فیصلہ لیں کہ کیس کافیصلہ 3ماہ میں فیصلہ کیا جائے اس سے ہی مسئلہ حل ہوگا۔

آڈٹ حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ منڈی یزمان پنجاب میں پنجاب رینجرز کو 26 عشاریہ66 ایکڑزمین کم قیمت پر کرائے پر دی گئی جس سے 24ملین روپے سے زائد کانقصان ہواحکام نے کمیٹی کوبتایاکہ رینجرسے بات ہوئی ہے وہ پہلے ایک روپے نہیں دیتے تھے اب وہ 29 ہزارروپے سالانہ دے رہے ہیں یہ معائدہ بھی 2018 میں ختم ہوگیاہے ہم ان کو مارکیٹ ریٹ پر کرائے کا کہے رہے ہیں جبکہ وہ پرانے کرائے کے حساب سے بات کررہے ہیں کمیٹی نے ہدایت کی کہ پنجاب رینجرکو نوٹس دیں کہ سابقہ بقایاجات اور مارکیٹ ریٹ کے حساب سے ہمیں پیسے دیں اگر نہیں دیناچاہتے تو زمین خالی کردیں 29 ہزار روپے سالانہ کرایہ بہت کم ہے۔ حکام نے بتایاکہ وہا ں ہر 12 لاکھ روپے کامرلہ ہے ۔کمیٹی نے ڈی اے سی کی سفارش پر 23آڈٹ پیروں کونمٹادیا۔