fbpx

کےپی میں‌ پھربارشیں شروع ہوگئیں:گرمی سے کراچی کا پارہ ہائی ہوگیا

پشاور:کراچی:::کےپی میں‌ پھربارشیں شروع ہوگئیں:گرمی سے کراچی کا پارہ ہائی ہوگیا ،اطلاعات کے مطابق ملک میں ایک بار پھر بارشوں کی اطلاعات ہیں اور اس سلسلے میں پہلی خبر کے پی کے ضلع ایبٹ آباد سے آئی ہے جہاں بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے ، بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے، بارش کا پانی ایوب میڈیکل کمپلیکس کے وارڈز میں داخل ہوگیا، جسے سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

اس سے پہلے ملک میں متوقع موسی حالات کے بارے میں محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں آج بروز ہفتہ 10 ستمبر سے چودہ ستمبر تک مزید بارشوں کی پیشگوئی کردی ہے، جب کہ کراچی میں گرمی کی شدت بڑھنے کے بعد درجہ حرارت 38 ڈگری تک پہنچ گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بالائی علاقوں میں آج مون سون کا نیا سلسلہ داخل ہوگا، جس سے خیبر پختونخوا، کشمیر، گلگت اور جنوبی پنجاب سمیت سندھ کے کچھ علاقوں میں شدید بارشیں متوقع ہیں۔میٹ آفس کا یہ بھی کہنا ہے کہ کشمیر اور گلگت بلتستان میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے ساتھ چند مقامات پر بارش کا امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق نئے سسٹم کے تحت خیبرپختونخوا کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا، جب کہ مانسہرہ، ایبٹ آباد، بونیر، شانگلہ، سوات، مالا کنڈ، دیر میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔چترال، مردان، چارسدہ، پشاور، کوہاٹ اور کرم میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ پنجاب کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔

خطہ پوٹھوہار، گوجرانوالہ، لاہور، گجرات، سیالکوٹ اور نارووال میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور خشک رہے گا۔ سندھ کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔ عمر کوٹ، ٹھٹھہ، بدین، میر پور خاص اور تھر پارکر میں چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

دوسری طرف سندھ میں مویشیوں کو بیماریوں سے بچانے کے لیے بارش اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ویکسینیشن مہم زوروں پر ہے۔

صوبے بھرمیں سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن (SRSO) کی جانب ویکسینیشن کی جارہی ہے، جبکہ تنظیم کے رکن جمیل سومرو کے مطابق سندھ کے 14 بارشوں اور سیلابی متاثرہ اضلاع میں کل 57 ہزار دو سو25 جانوروں کو ویکسین دی گئی ہے۔

جمیل سومرو نے کہا کہ سیلابی صورتحال کے دوران بچ جانے والے مویشیوں کو مختلف وائرل بیماریوں کے شکار ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، ویٹرنری ماہرین اور کمیونٹی لائیو اسٹاک ورکرز کوتنظیم کی جانب سے تربیت دی جا رہی ہے۔

صوبائی وزیرلائیواسٹاک سندھ عبدالباری پتافی کا کہنا ہے کہ سیلاب سے صوبے میں 80 ہزارجانورہلاک ہوچکے ہیں۔انہوں میڈیا کو بتایا تھا کہ سندھ میں جانوروں کی ویکسینیشن درکار ہے اور ہم ابھی تک صرف 15 فیصد لوگوں تک مشکل سے پہنچ سکے ہیں۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں