fbpx

رجعت پسندی تحریر:حُسنِ قدرت

زندگی میں ہماری سوچ ہر معاملے کے بارے میں دو قسم کی ہوتی ہے ایک مثبت اور دوسری منفی جبکہ مثبت سوچ کا ایک پہلو "رجعت پسندی” ہے جسے ہم آپٹیمزم کہتے ہیں
رجعت پسندی کا مطلب ہے اگر آپ بہت زیادہ کوشش کرنے کے باوجود ناکامی کا شکار ہو رہے ہیں تو ہار نہ مانیں اور دوبارہ کوشش کریں اپنا کوشش کرنے کا طرز دیکھیں اور اگر اس میں بہتری کی گنجائش ہے تو مزید بہتر طریقے سے کوشش کریں اور ایک نئے جذبے کے ساتھ کامیابی کی طرف اپنی جدوجہد جاری رکھیں
اللہ تعالیٰ کا یہ قانون اٹل ہے کہ اگر انسان کسی چیز کے لیے محنت کرتا ہے تو وہ اسے ضرور حاصل کرتا ہے اگر زندگی کے کسی مرحلے میں آپ لوگوں کا ناکامی سے سامنا ہو تو اسکا مطلب ہے کہ ہم سے ہی کہیں کوئی غلطی ہوئی ہے کیونکہ قانون قدرت ہمیشہ ہے اٹل رہے ہیں
اکثر لوگوں کو جب انکی کوشش یا خواہش کے مطابق نتیجہ نہیں ملتا تو وہ اپنی غلطی تلاش کرکے اس کا ازالہ کرنے کی جگہ مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں
اگر کسی کام کا نتیجہ ہماری خواہش کے مطابق نہیں آتا تو اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہماری کوشش رائیگاں گئی ہے کوشش اور محنت کبھی بھی ضائع نہیں جاتی اسکا نتیجہ ضرور نکلتا ہے یہ الگ بات ہے کہ ہمیں اسکا شعور نہیں ہوتا
جیسا کہ ایک انسان کسی کاروبار میں پیسے انوسٹ کرتا ہے اور وہ ڈوب جاتے ہیں تو اگر وہ روتا رہتا ہے دوبارہ کوشش نہیں کرتا تو وہ اسکی ناکامی ہے لیکن اگر وہ انسان اپنے پچھلے کاروبار میں کی گئی غلطیوں سے سیکھتا ہے نوٹ کرتا ہے کہ اسے خسارہ کہاں اور کس وجہ سے ہوا اور کون سی ایسی غلطی تھی جس کی وجہ سے اسکا کاروبار ڈوب گیا تو وہ جب دوبارہ اپنا کاروبار شروع کرتا ہے پھر ان پوائنٹس کا خیال کرتا ہے کہ یہ غلطی وہ نہیں دہرائے گا اور ہو سکتا ہے کہ اگلی دفعہ اس کا کیا گیا کاروبار بہترین طریقے سے کامیاب ہو اور پہلے سے اسٹیبلش لوگوں سے زیادہ جلدی وہ بہت زیادہ ترقی کرے اور کامیاب بھی ہو
اگر آپ لوگوں کی محنت اور کوشش کا نتیجہ آپ کی خواہش کے مطابق نہیں ہے تو مایوس ہو کر محنت نہ چھوڑیں کیونکہ محنت ہمیشہ رنگ لاتی ہے یہ بہت بڑی اور کھلی حقیقت ہے ایک سیانے کا قول ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ صرف اس لیے ناکام رہتے ہیں کہ کامیابی کے سرے پہ پہنچ کر محنت چھوڑ دیتے ہیں
یہ بات ماننا یہاں مشکل ہے کہ ہم مثبت طرز عمل اور رجعت پسندی کو اپناتے ہوئے اپنی منزل حاصل کر سکتے ہیں خاص کر جو ماحول یہاں بنا ہوا ہے سیاسی،سماجی اور معاشی نظام درہم برہم ہوا ہے لیکن اسکی زمہ داری ہم پہ عائد نہیں ہوتی ہمارا کام بس اپنے حصے کا مثبت کام کرنا ہے
رجعت پسندی کے ذریعے آپ مثبت سوچ کو اس طرح اپنا سکتے ہیں کہ آپ اس وقت تک محنت جاری رکھتے ہیں جب تک بامراد نہیں ہو جاتے
کیونکہ چیلنج ہر کسی کی زندگی میں آتے ہیں وہ اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ کیا ہم واقعی اس انعام کے قابل ہیں جو ہمارے لیے اللہ تعالٰی نے محفوظ کر رکھا ہے
کامیابی اور ناکامی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اگر آپ ناکامی کو پاچکے ہیں تو یقیناً بہت جلد کامیابی آپ سے ملے گی
دنیا کی ہر چھوٹی بڑی شے سے جذباتی تعلق رکھنا اور اسکے نہ ملنے یا کھو جانے پر اداس ہو جانا دانشمندی نہیں ہے کیونکہ اگر ہم چاہیں تو اپنی محنت کوشش مثبت سوچ (رجعت پسندی) اور دعا سے وہ واپس حاصل کرسکتے ہیں
حُسنِ قدرت
Twitter: @HusnHere