fbpx

رمضان المبارک میں نمازتراویح بھی ہوگی اورکرونا ایس او پیز پرعمل بھی ہوگا:این سی او سی

اسلام آباد:رمضان المبارک میں نمازتراویح بھی ہوگی اورکرونا ایس او پیز پرعمل بھی ہوگا:اطلاعات کے مطابق این سی او سی نے رمضان المبارک کے بارے گائیڈ لائنز جاری کر دیں

این سی او سی کی طرف سے درخواست کی گئی ہے کہ گائیڈ لائنز مساجد، امام بارگاہوں میں نماز، تراویح کیلئے ہیں،صحن والی مساجد، امام بارگاہ میں نماز ہال میں ادا نہیں ہو گی،

این سی او سی کی طرف سے کہا گیا ہے کہ تراویح، کا اہتمام مساجد، امام بارگاہ کے احاطے میں کیا جائے،شہری سڑکوں، فٹ پاتھ پر نماز پڑھنے سے گریز کریں،

یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ مساجد، امام بارگاہوں میں وضو کرنے پر پابندی ہو گی،نمازی حضرات گھر سے وضو کر کے مسجد، امام بارگاہ آئیں ،

این سی او سی نے اہل وطن کے حضوردرخواست کرتے ہوئے کہا کہ نمازی وضو کرتے وقت صابن سے 20 سیکنڈ تک ہاتھ دھوئیں،مساجد، امام بارگاہوں میں قالین، دریاں نہیں بچھائی جائیں گی،

قومی ادارے کی طرف سے یہ بھی رہنمائی کی گئی ہے کہ مساجد، امام بارگاہوں میں نماز فرش پر ادا کی جائے گی،مساجد، امام بارگاہ کے فرش کو کلورین ملے پانی سے دھویا جائے،

این سی او سی نے اپیل کی کہ شہری مسجد میں گھر سے جائے نماز ساتھ لانے کو ترجیح دیں،50 سال سے زائد العمر، بچوں کو مساجد، امام بارگاہ نہیں آنا چاہئے،

یہ بھی اپیل کی گئی ہے کہ فلو، کھانسی میں مبتلا نمازیوں کو مساجد، امام بارگاہ نہیں آنا چاہئے،نمازی حضرات ماسک پہن کر مسجد، امام بارگاہ آئیں،شہری مساجد، امام بارگاہوں میں مجمع لگانے سے گریز کریں

این سی او سی کی طرف درخواست کی گئی کہ صف بندی کے دوران نمازیوں کے مابین 6 فٹ فاصلہ رکھا جائے،نمازیوں کی سہولت کیلئے صفوں میں فاصلہ رکھ کر نشانات لگائے جائیں، مساجد، امام بارگاہ انتظامیہ ایس او پیز پر عملدرآمد کمیٹی تشکیل دیں،

این سی او سی نے رمضان المبارک کے دوران کورونا کی موجودہ صورتحال میں متعکفین گھر پر اعتکاف کریں، مساجد، امام بارگاہوں میں سحر و افطار کا اہتمام نہ کیا جائے، مساجد، امام بارگاہ انتظامیہ،خطیب انتظامیہ سے تعاون کریں،

این سی او سی کی طرف سے اپیل کی گئی ہے کہ مساجد، امام بارگاہوں کی انتظامیہ کو مشروط اجازت دی جا رہی ہے، مساجد ،امام بارگاہ کو اجازت ایس او پیز پر عملدرآمد سے مشروط ہے،

اس اہم موقع پریہ بھی درخواست کی گئی ہےکہ ایس او پیز پر عدم عملدرآمد، کیسز بڑھنے پر پالیسی پر نظر ثانی ہو گی،حکومت شدید متاثرہ علاقوں کیلئے پالیسی میں تبدیلی کی مجاز ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.