رمضان اور ہماری منافقت … نوید شیخ

میری بُکل دے وچ چور

رمضان مسلمانوں کے لیے سب سے متبرک مہینہ ہے ۔ اسی ماہ میں قرآن پاک کا نزول ہوا۔مگر پاکستان میں ہر سال اس ماہ میں لڑائی جھگڑے اور دیگر غلط کاموں میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ اس ماہ میں شیطان تو قید ہو جاتاہے مگر ہمارانفس آزادہوجاتاہے ۔ بے شک بابا بلھے شاہ نے درست فرمایاتھا کہ – میری بُکل دے وچ چور – یعنی میری چادر میں ہی چور چھپا ہے۔

رمضان آتے ہی سب نماز،تروایح، باقاعدہ قرآن پاک تلاوت میں مشغول ہو جاتے ہیں . مساجد میں حاضری میں ناقابل یقین حد تک اضافہ ہو جاتاہے ۔ داڑھیاں بڑھا لی جاتی ہیں۔ہاتھ میں تسبیح اورسر پر ٹوپیاں بڑے اہتمام سے پہنی جاتی ہیں۔جو کہ بہت اچھی بات ہے ۔مگر جھوٹ،چغل خوری، سود ، حرام کمانا، ملاوٹ،ذخیرہ اندوزی،جعلی دوائیاں، رشوت لینا ، رشوت دینا،چوری چکاری،دھوکہ دہی،لعن طعن کرنا نہیں چھوڑتے ۔کسی کا حق مارنا ہو تو ہم میں سے کو ئی پیچھے نہیں رہتا۔ بھائی بھائی کاحق مار لیتا ہے بیٹا باپ کو مار دیتا ہے بھائی بہن کی زمین پر قبضہ کر لیتا ہے ۔

مزید پڑھیے : ملاوٹ کا ناسور … نوید شیخ

بڑے بڑے رئیس۔ امیر کبیر۔ روزانہ سینکڑوں لوگوں کو سحری اور افطاری کروا کر نیکیاں تو کماتے ہیں مگر اپنے ورکروں کو وقت پر تنخواہ دیتے وقت ان کو موت پڑ جاتی ہے۔امیر تو پھر امیر ہیں- عام آدمی بھی کچھ کم نہیں ۔ورکر طبقہ روزہ رکھ کر اگر کام پر آہی جائے تو ایسا محسوس کروا تا ہے کہ جیسے اس کا کام پر آنا احسان ہو ،روزہ رکھ کر کام میں ڈنڈی مارنا ، جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا ، گالی گلوچ کرنا اُس نے سب روضے کے نام پر حلال کر لیا ہے۔

دکان دار جہاں افطاریاں کرواتے ہیں وہیں قوم شعیب علیہ السلام کے وطیرہ پر پوری طرح عمل پیرا ہیں۔ ناپ تول میں کمی، مہنگائی، ملاوٹ پہلے سے بھی زیادہ کرتے ہیں۔ کیونکہ نیکیوں کے ساتھ ساتھ سیزن بھی تو سمیٹنا ہے۔ دوکانداروں کے لیے رمضان کی برکتیں ایسی ہوتی ہیں کہ باقی گیارہ مہینوں کے برعکس صرف اس ماہ میں ہر چیز دو گنا،تین گنازیادہ قیمت پر بیچی جاتی ہے۔جگہ جگہ گھٹیا تیل سے بنے پکوڑے، سموسے ، جلیبیاں، گلے سڑے پھلوں والی فروٹ چاٹ روزہ رکھ کر دھڑلے سے لوگوں کو بیچی جاتی ہیں ۔

مزید پڑھیے: پاکستانی آٹوموبائل مافیا کو نکیل کون ڈالے گا ؟. نوید شیخ

صدقہ ، زکوة، خیرات دیتے وقت ذاتی تشہیر پر زورزیادہ رہتا ہے ۔فیس بک ،ٹویٹر، اخبارات ایسی تصویروں سے بھرے ہوتے ہیں جس میں کبھی کوئی راشن تو کبھی عیدکے کپڑے غربیوں میں تقسیم کررہا ہوتا ہے۔ مسجدوں کی رونقیں خوب بحال کی جاتی ہیں ہر کوئی اس تیزی میں رہتا ہے کہ ہر حال میں نماز باجماعت ادا کی جائے ۔مگر کوئی یہ فکر نہیں کرتاکہ دن بھر اس نے روزہ رکھ کرکیسے کیسے دونمبریاں کی ہیں ۔ کتنے جھوٹ بولے ہیں ۔کتنے لوگوں کا حق مارا ہے ۔رمضان کے آخری عشرے میں جب ہر کوئی عید کے لیے نئے کپڑے اور جوتے خریدتا ہے ۔ لاری اڈوں پر پردیسیوں کا رش بڑھ جاتا ہے ۔ تب کاروباری حضرات اپنے ریٹس ایسے بڑھاتے ہیں جیسے یہ عید ان کی زندگی کی آخر عید ہو۔

مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ”جو آدمی روزہ رکھتے ہو ئے باطل کام اور باطل کلام نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔(صحیح بخاری،جلدنمبر 1،صفحہ نمبر:255)

رمضان کا مقدس مہینہ اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم کھانے پینے سے ہاتھ روک کے اپنے اردگرد بسنے والے غریبوں،مسکینوں اور بے سہاروں کا خیال کریں۔یہ سمجھنا ہوگا کہ اللہ پاک اپنے حقوق تو معاف کردے گا مگر جو دھوکا،مکر و فریب ، چور بازاری اور منافع خوری ہم اپنے بھائیوں سے کرتے ہیں وہ اللہ پاک ہر گز معاف نہیں کرے گا۔

اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
naveedsheikh123@hotmail.com

ٹویٹر پر فالو کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.