fbpx

رانا ثناء اللہ کیس سمیت منشیات کے ہائی پروفائل کیسز سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب

رانا ثناء اللہ کیس سمیت منشیات کے ہائی پروفائل کیسز سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نارکوٹکس کنٹرول کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر اعجاز چودھری کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا-

سینیٹرز دوست محمد خان، رانا مقبول احمد، انور لعل دین، رانا محمود الحسن، عطاء الرحمٰن، سردار محمد شفیق ترین، فلک ناز اور جام مہتاب کے علاوہ وزیر برائے نارکوٹکس کنٹرول شاہ زین بگٹی، سیکریٹری وزارت نارکوٹکس کنٹرول حمیرا احمد، ڈی جی اے این ایف اور دیگر متعلقہ حکام اجلاس میں شریک ہوئے-

سینیٹر رانا مقبول احمد کی جانب سے پیش کئے گئے “ کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹینسز ( ترمیمی) بل 2021 “ اور عدالتوں میں منشیات کے ہائی پروفائل زیرالتوی کیسز کے حوالے سے کمیٹی میں تفصیلی بحث ہوئی-سیکریٹری وزارت نارکوٹکس کنٹرول نے کمیٹی کو بتایا کہ کمیٹی کی ہدایات کی روشنی میں بل کو اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا گیا-انہوں نے بتایا کہ ترمیمی بل پر کونسل نے کوئی بڑا اعتراض نہیں اٹھایا لیکن جرمانے کی رقم کا تعین کرنے کے حوالے سے ان کی مشاورت جاری ہے-اس حوالے سے کونسل کی رپورٹ آئی گی تو کمیٹی میں پیش کر دی جائے گی-انہوں نے سینیٹر رانا ثناءاللّہ سے بل کو واپس لینے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص/آفسر اختیارات کا غلط استعمال کرتا ہے تو ادارے کے قوانین کی روشنی میں اس سے نمٹا جاتا ہے یہاں تک کہ نوکری سے بھی فارغ کردیا جاتا ہے اس لئے اس بل کو واپس لیا جائے- جس پر سینیٹر رانا مقبول احمد نے کہا کہ یہ بل رانا ثناءاللّہ کے ساتھ آنے والے واقعے کے بعد لایا گیا ہے- اگر آپ یقین دہانی کرائیں کہ رانا ثناءاللّہ کے کیس کی ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں مزید انکوائری کرائیں گے اور اگر وہ بے قصور ثابت ہوتے ہیں تو ان کو انصاف فراہم کیا جائے گا تو وہ یہ بل واپس لینے کیلئے تیار ہیں-انہوں نے کہا کہ رانا ثناء اللّہ کے کیس سے متعلق ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید انکوائری کا حکم دیا ہے لیکن ابھی تک مزید انکوائری کیوں نہیں کرائی گئی؟

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونی چاہیے اور معاملے کو سلجھانے کی ضرورت ہے،کیس میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔سیکریٹری حمیرا احمد نے کہا کہ بل کا جائزہ لینے اور رانا ثناء اللّہ کے کیس کا مطالعہ کرنے کیلئے تھوڑا وقت دیا جائے جس پر چیئرمین کمیٹی نے سیکریٹری حمیرا احمد کو کہا کہ 30 دن کے اندر بل پر مشاورت ختم کر کے کمیٹی کو آگاہ کریں- چیئرمین کمیٹی نے 30 دن میں رانا ثناءاللّہ اور عدالتوں میں منشیات کے ہائی پروفائل کیسز سے متعلق تفصیلی رپورٹ کمیٹی میں پیش کرنے کی ہدایت کر دی –

ٹرائل کورٹس میں زیر سماعت مقدمات کے اعداد و شمار کے حوالے سے سیکریٹری حمیرا احمد نے کمیٹی کو کیسز کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس وقت سی این ایس کورٹ میں 2314، ہائی کورٹ میں 792 اور سپریم کورٹ میں 641 کیسز زیر التوا ہیں اور کل کیسز کی تعداد 3747 ہے۔

سیکریٹری حمیرا احمد نے اسلام آباد میں واقع تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ کالجوں/یونیورسٹیوں میں منشیات کی روک تھام کے لیے وزارت نارکوٹکس کنٹرول کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات کی تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وزارت مختلف تعلیمی اداروں کے طلباء کو انگیج کر کے آگاہی کے مہم چلا رہے ہیں۔ ڈی جی اے این ایف غلام شبیر خود تعلیمی اداروں کا دورہ کرتے ہیں اور مشیات کی لعنت سے بچنے کیلئے اس موضوع پر لیکچرزدیتے ہیں۔ حمیرا احمد نے مزید بتایا کہ ہم عوامی خدمت کے پیغامات کے لیے کارپوریٹ ادارے کو بھی انگیج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث بچوں کے لیے قانون سازی کے بارے میں بھی سوچ رہے ہیں-

چلغوزے سستے،پڑھا لکھا ایس ایچ او،تمباکو کی قیمت ،مردم شماری کیلئے فنڈ ،کابینہ کے فیصلے

تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

 تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں

تمباکو سیکٹر میں سالانہ 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

جب حکمران ٹکٹ ہی ان لوگوں کو دیں جن کا کاروبار تمباکو اور سگریٹ سے وابستہ ہو تو کیا پابندی لگے گی سینیٹر سحر کامران

ٹرائل کورٹس میں زیرالتواء منشیات کیسز کی تفصیلات آئندہ اجلاس میں طلب

چیئرمین کمیٹی نے نشے کی لعنت کے تدارک کے لیے سرویلنس کے نظام کو مزید موثر بنانے پر زور دیا۔ ڈی جی اے این ایف نے کہا کہ ہم تعلیمی اداروں کے اندر آپریشن نہیں کر رہے بلکہ کیمپس کے باہر آپریشن کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد کے انٹری -ایگزٹ پوائنٹ پر بڑی کارروائیاں کی گئی ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے ڈی جی اے این ایف سے کہا کہ وہ اسلام آباد کے داخلی اور خارجی راستوں پر گزشتہ تین ماہ میں اے این ایف کی جانب سے کی جانے والی تمام کارروائیوں کے بارے میں تفصیلی رپورٹ کمیٹی میں پیش کریں۔ کمیٹی ممبران نے ریہیبیلیٹشن سنٹرز کا دورہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا جس پر چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی 2 مہینے میں اراکین کمیٹی کے وزٹ کا بندوبست کرایا جائے-انہوں نے کہا کہ ریہیبیلیٹیشن سنٹرز کا دورہ کرکے حالات کا جائزہ لیں