رانا ثناء‌اللہ کو گرفتار کر کے کہاں‌ لیجایا گیا ہمیں‌ نہیں‌ معلوم؟ داماد شہریار

مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء‌اللہ کے داماد شہریار نے کہا ہے کہ رانا ثناء اللہ ڈیڑھ بجےفیصل آباد سےلاہور کیلیے روانہ ہوئے. 2 بجےرانا ثناء اللہ سےرابطےکی کوشش کی، رابطہ نہیں ہوسکا.

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انہوں‌ نے کہاکہ رانا ثنا ءاللہ کو موٹر وےسےحراست میں لیاگیا. ہمیں نہیں معلوم رانا ثناء اللہ کو کہاں لےکرگئےہیں.

واضح رہے کہ یہ گرفتاری اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کی جانب سے منشیات فروشوں سے تعلق کے الزام میں کی گئی ہے۔ اے این ایف ذرائع کا کہنا ہے کہ رکن قومی اسمبلی رانا ثناءاللہ خان کے متعدد منشیات فروشوں سے تعلقات ہیں جبکہ اسی طرح ان کے کالعدم تنظیموں سے بھی مبینہ طور پر رابطے ہیں جس کے باعث انہیں تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ سابق صوبائی وزیرقانون رانا ثناء اللہ کا نام سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مرکزی ملزمان کے طور پر بھی لیا جاتا ہے تاہم ابھی تک ان کی گرفتاری کی وجوہات میں سے بڑی منشیات فروشوں‌ سے مبینہ تعلق بتایا جاتا ہے. مسلم لیگ ن کے ذرائع نے بھی رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے.

کہا گیا ہے کہ راناثناءاللہ سے اس معاملے پر تحقیقات کی جارہی ہیں ۔ اے این ایف نے رانا ثناءاللہ کو پوچھ گچھ کیلئے تحویل میں لیا ہے اور اگر وہ سوالوں کے جواب دینے میں ناکام ہوئے تو انہیں با ضابطہ طور پر گرفتار کرلیا جائے گا۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن پنجاب کی سیکرٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ راناثناءاللہ کوگرفتارکرلیاگیا ہے۔ رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کے بعد ان کا ذاتی موبائل نمبر بند ہوگیا ہے جبکہ ان کے سکیورٹی گارڈز اور ڈرائیور کا نمبر بھی بند ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ دنوں‌ میں مسلم لیگ ن میں ٹوٹ پھوٹ بھی نظر آتی ہے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.