ورلڈ ہیڈر ایڈ

رانا ثناء‌اللہ پارٹی اجلاس میں‌ شرکت کیلئے آرہے تھے جب انہیں‌ گرفتار کیا گیا، عطاء اللہ تارڑ

مسلم لیگ ن کے رہنما عطاء‌اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ راناثناءاللہ پارٹی اجلاس میں شرکت کیلئے آرہےتھے جب انہیں‌ گرفتار کیا گیا.

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ اےاین ایف نےراناثناءاللہ کوسکھیکی کےقریب اس وقت حراست میں لیا جب وہ پارٹی اجلاس میں شرکت کیلئےآرہےتھے. ان کا کہنا تھا کہ ڈھائی بجےکےقریب راناثنااللہ سکھیکی کےقریب تھے، سیکرٹری اطلاعات (ن)لیگ عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ رانا ثناء اللہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے.

واضح‌ رہے کہ رانا ثناء‌اللہ کی یہ گرفتاری اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کی جانب سے منشیات فروشوں سے تعلق کے الزام میں کی گئی ہے۔ اے این ایف ذرائع کا کہنا ہے کہ رکن قومی اسمبلی رانا ثناءاللہ خان کے متعدد منشیات فروشوں سے تعلقات ہیں جبکہ ان منشیات فروشوں‌کے کالعدم تنظیموں سے بھی مبینہ طور پر رابطے ہیں جس کے باعث انہیں تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ سابق صوبائی وزیرقانون رانا ثناء اللہ کا نام سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مرکزی ملزمان کے طور پر بھی لیا جاتا ہے تاہم ابھی تک ان کی گرفتاری کی وجوہات میں سے بڑی منشیات فروشوں‌ سے مبینہ تعلق بتایا جاتا ہے. مسلم لیگ ن کے ذرائع نے بھی رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے.

کہا گیا ہے کہ راناثناءاللہ سے اس معاملے پر تحقیقات کی جارہی ہیں ۔ اے این ایف نے رانا ثناءاللہ کو پوچھ گچھ کیلئے تحویل میں لیا ہے اور اگر وہ سوالوں کے جواب دینے میں ناکام ہوئے تو انہیں با ضابطہ طور پر گرفتار کرلیا جائے گا۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن پنجاب کی سیکرٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ راناثناءاللہ کوگرفتارکرلیاگیا ہے۔ رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کے بعد ان کا ذاتی موبائل نمبر بند ہوگیا ہے جبکہ ان کے سکیورٹی گارڈز اور ڈرائیور کا نمبر بھی بند ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ دنوں‌ میں مسلم لیگ ن میں ٹوٹ پھوٹ بھی نظر آتی ہے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.