fbpx

رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

غیر معمولی نیند کی معمول کے سبب متاثر میٹابولزم کی وجہ سے ذیا بیطس کے خطرات ہوتے ہیں

ماہرین نے ایک نئی تحقیق میں معلوم کیا ہے کہ رات کو دیر تک جاگنا جسم میں چکنائی بننے کا سبب سکتا ہے جس کے نتیجے میں ٹائپ 2 ذیا بیطس لاحق ہونے کے خطرات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

باغی ٹی وی: امریکی ریاست نیو جرسی کے شہر نیو برنس وِک میں قائم رُٹگرز یونیورسٹی کے محققین کو ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ رات کو دیر تک جاگنے والوں کو غیر معمولی نیند کی معمول کے سبب متاثر میٹابولزم کی وجہ سے ذیا بیطس کے خطرات ہوتے ہیں۔

وہ لوگ جو صبح جلدی اٹھتے ہیں وہ چکنائی کو آرام یا ورزش کے دوران توانائی کے ذریعے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ نتیجتاً ان میں چکنائی کم جمع ہوتی ہے اور ان میں بیماری کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔

اس سے قبل بھی رواں سال کے ابتداء میں شائع ہونے والی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ سوتے وقت روشنی کا موجود ہونا کسی بھی فرد میں ذیابیطس ہونے امکانات بڑھا دیتا ہے جس سے تقریباً 10 فی صد امریکی متاثر ہوتے ہیں۔

یونیورسٹی میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر فرائض انجام دینے والے ڈاکٹر اسٹیون میلِن کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ جلدی اٹھنے والوں اور رات دیر سے سونے والوں کے درمیان چکنائی کے میٹابولزم میں فرق یہ بتاتا ہیں کہ جسم کی اندرونی گھڑی (سونےجاگنے کا سائیکل) ہمارے جسم کے انسولین کے استعمال کو متاثر کرسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسولین ہارمون کے جواب میں حساس یا کمزور صلاحیت ہماری صحت پر بڑے اثرات ڈال سکتی ہے۔ تحقیق کے نتائج نے ہمارے جسم کی اندرونی گھڑی کے ہماری صحت پر اثرات کے متعلق سمجھ میں اضافہ کیا ہے۔

قبل ازیں ایک تحقیق میں ماہرین کا کہنا تھا کہ روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینے اوردہی کھانے سے ٹائپ 2 ذیا بیطس سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے، بیف،مٹن، پروسیسڈ اور چکن کا گوشت کا زیادہ استعمال متضاد اثرات کا سبب بن سکتا ہے۔

پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

اطالوی تحقیق میں حاصل ہونے والے نتائج کی بنا پر محققین نے زیادہ گوشت کھانے والوں کو مچھلی کا گوشت اور انڈے بطور متبادل غذا کے تجویز کئے ہیں،سائنسدانوں کی جانب سے یہ نتائج ڈیری اشیاء کے خلاف بڑھتےرجحان کے دوران آئے ہی-ں

ماہرین کے مطابق دودھ، مکھن اور پنیر میں بڑی مقدار میں کیلوریزاورسوچوریٹڈ چکنائی(وہ چکنائی جو عام درجہ حرارت پر نہیں پِگھلتی) ہوتی ہے جو متعدد صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔

ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرات کو کم کرنے کے لیے ماہرین پودوں پر اگنے والی غذا یعنی اجناس، سبزیاں، پھل، دالیں اور کم چکنائی والا دودھ اور دہی کھانے کی ہدایت کرتے ہیں۔

موسم گرما میں ذیابطیس کے مریضوں کیلئے بہترین غذا