27 جنوری:جب امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس نے لاہور میں سرعام دو پاکستانی شہریوں کو قتل کر دیا

0
59

27 جنوری 2011

جب امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس نے لاہور میں سرعام دو پاکستانی شہریوں کو قتل کر دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ریمنڈ ڈیوس ایک امریکی شہری تھا جس کی تاریخ پیدائش 2 اکتوبر 1974 یے۔ریمنڈ ڈیوس لاہور میں تعینات امریکی ذیلی سفارتخانے کا ملازم تھا جس نے 27 جنوری 2011 کی دوپہر لاہور کے مصروف ترین چوک مزنگ چونگی کی عابد مارکیٹ کے قریب گاڑی چلاتے ہوئے دو موٹر سائیکل سوار نوجوانوں کو گولی مار کر قتل کر دیا۔ مقتولین کے نام فہیم اور فیضان تھے ۔ ریمنڈ کا بیان تھا کہ ان میں سے ایک نوجوان نے اس پر پستول لہرایا تھا۔ قتل کے وقوع سے اس نے امریکی سفارت سے مدد طلب کی جس کے نتیجہ میں ایک امریکی تیز رفتار سفارت گاڑی غلط سمت سے یکطرفی سڑک پر دوڑتی آتے ہوئے ایک موٹر سائیکل سوار کو کچل کر ہلاک کر دیا۔ اس ہلاک ہونے والے کا نام عبادالحق ہے۔ بعد میں پولیس نے ریمنڈ کو گرفتار کر لیا۔

ریمنڈ ڈیوس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے دونوں نوجوانوں کی تفصیلی پوسٹ مارٹم رپوٹ میں دونوں نوجوانوں کے جسموں میں پیوست ہونے والی گولیوں کی تفصیلات کچھ اس طرح درج تھیں۔

دونوں کو مجموعی طور پر9 گولیاں ماری گئیں اور صرف ایک ایک گولی انہیں سامنے سے لگی۔کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج یونیورسٹی کے شعبہ طب شرعی کے ڈاکٹرز نے اس واقعہ میں ہلاک ہونیوالے فیضان حیدر اور فہیم شمشاد کا پوسٹ مارٹم کیا۔رپورٹ کے مطابق27 جنوری 2011 کو نوجوان فہیم شمشاد کی لٹن روڈ موقع پر ہی2 بج کر 45 منٹ پرگولیاں لگنے سے موت واقع ہو ئی۔جس کی لاش کا پوسٹ مارٹم تقریبا22 گھنٹے30منٹ بعد کیا گیا۔ فہیم کے جسم پر زخموں کے4 نشان تھے ، اس کے جسم پر گولیاں بھی4لگیں۔ فہیم کو ایک گولی سر کے پیچھے دائیں طرف دوسری سامنے سے پیٹ پر جو آر پار ہو ئی،تیسری گولی کمر پر بائیں جانب،چوتھی بائیں کلائی پر لگی جو فہیم کی بائیں ٹانگ کی ران کو چھو کر گزر گئی۔

دوسرے نوجوان فیضان حیدر کی پوسٹ مارٹم کے مطابق اس کی موت واقعہ کے ایک گھنٹے35 منٹ بعد اسپتال میں ہوئی۔اس کی لاش کا پوسٹ مارٹم 19 گھنٹے55 منٹ بعد شروع ہوا۔فیضان کے جسم پر زخموں کے6 نشانات پائے گئے جن میں5گولیوں کے جبکہ ایک آپریشن کا ہے۔فیضان کو ایک گولی سامنے سے چھاتی کے دائیں طرف، جبکہ دوسری بائیں کولہے سے آر پار ہوئی،تیسری گولی کمر کی بائیں جانب عقب سے ،اور دو گولیاں بائیں ران سے چھو کر گزر گئیں۔ دونوں کو صرف ایک ایک گولی فرنٹ سے لگی اور دونوں کو باقی گولیاں عقب سے ماری گئیں۔۔

امریکی سفارت خانہ نے دعوی کیا کہ ریمنڈ سفارت کار ہے اور اس لیے اسے گرفتار یا سزا نہیں دی جا سکتی۔ اطلاعات کے مطابق ریمنڈ امریکی نجی ادارے کا ملازم تھا جو تجارتی ویزا پر پاکستان میں داخل ہوا، اور پاکستان میں سی آئی اے کی طرف سے جاسوسی میں ملوث تھا اس لیے اس پر دوہرے قتل کا مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔لاہور کی عدالت نے ریمنڈ کو ملک سے باہر بھیجنے پر پابندی لگاتے ہوئے جیل میں رکھنے کا حکم دیا۔جب کہ موٹر سائیکل سوار کو کچلنے والی گاڑی کا ڈرائیور فرار ہو کر امریکہ پہنچ گیا۔

ڈیوس کے ہاتھوں قتل ہونے والے ایک نوجوان کی بیوہ شمائلہ نے انصاف نہ فراہم ہونے کے خدشہ پر 6 فروری 2011 کو احتجاجاً خود کشی کر لی اور مقتول کے دیگر لواحقین نے بھی انصاف نہ ملنے کی صورت میں خود کشی کی دھمکی دی تھی ۔

امریکی صدر براک اوباما نے 15 فروری 2011 کو خود ریمنڈ ڈیوس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ‘ہمارا سفارت کار ہے’ اور انھیں ویانا کنونشن کے تحت استثنیٰ حاصل ہے۔سابق پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے استعفیٰ دینے کے بعد انکشاف کیا کہ ریمنڈ ڈیوس کو سفارتکار کا درجہ حاصل نہیں تھا ۔ریمنڈ کی اصلیت ایک تجربہ کار جاسوس ہونے کے ناطے سے صوبہ پنجاب کی انتظامیہ کو خدشہ تھا کہ ریمنڈ کو امریکی دوران حراست قتل نہ کر دیں۔

23 فروری 2011 کو مبینہ طور پہ پاکستانی اور امریکی فوج کے سربراہان جنرل کیانی اور ایڈمرل مائیک ملن کے درمیان عمان میں ایک ٹاپ سیکرٹ ملاقات ہوئی جس کا بڑا حصہ اس بات پر غور کرتے ہوئے صرف ہوا کہ پاکستان عدالتی نظام کے اندر سے کیسے کوئی راستہ نکالا جائے کہ کسی نہ کسی طرح ریمنڈڈیوس کی گلوخلاصی ہو جائے۔

25 فروری 2011ء کو ریمنڈ کے امریکی "خاندان کے افراد” لاہور پہنچے۔

16 مارچ 2011ء کو مقتولین کے ورثاء کی طرف سے معافی بعوض 2 ملین ڈالر دیت کے وعدہ پر عدالت نے ریمنڈ ڈیوس کو بری کر دیا۔ 16 مارچ 2011 کی دوپہر کو جب عدالت کی کارروائی شروع ہوئی تو جج نے صحافیوں سمیت تمام غیرمتعلقہ لوگوں کو باہر نکال دیا۔

پنجاب کی حکومت کے وزیر انصاف رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کا اس میں کوئی کردار نہیں کیونکہ مقتولین کے ورثا کی طرف سے معافی کے بعد وہ قانوناً کچھ نہیں کر سکتے۔ تاہم واضح رہے کہ ملکی قانون کے تحت پنجاب حکومت (یا پولیس) یہ فیصلہ کرتی ہے کہ مقدمہ شرعی قانون کے تحت قائم کیا جائے (جس میں خون بہا کی اجازت) ہے یا روایتی قانون کے تحت (جس میں قصاص کے عوض ورثا معاف نہیں کر سکتے)۔

رہنما مسلم لیگ ن صدیق الفاروق کے مطابق سعودی عرب کی حکومت نے قصاص کے تحت مقدمہ ختم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا اور قصاص کی رقم بھی خادم الحرمين الشريفين ہی نے ادا کی۔

جونہی عدالتی کارروائی مکمل ہوئی، ریمنڈ ڈیوس کو ایک عقبی دروازے سے نکال کر سیدھا لاہور کے ہوائی اڈے پہنچایا گیا جہاں ایک سیسنا طیارہ رن وے پر ان کا انتظار کر رہا تھا۔چناچہ امریکی ریمنڈ ڈیوس کو بذریعہ ہوائی جہاز افغانستان لے گئے۔

Leave a reply