وفاقی و صوبائی حکومتیں جب تک یہ کام نہیں کریں گے ، کرونا کے مریض بڑھتے جائیں گے۔ رضا ہارون

کراچی :وفاقی و صوبائی حکومتیں جب تک یہ کام نہیں کریں گے ، کرونا کے مریض بڑھتے جائیں گے۔اطلاعات کےمطابق پاک سرزمین پارٹی کے مرکزی رہنما رضاہارون نے کرونا وائرس کے شکارلوگوں کے بارے میں اسل حقائق سے پردہ اٹھا دیا ،

رضا ہارون نے کہا کہ اگر کرونا ٹیسٹ کے موجودہ اعدادوشمار کو مردم شماری کے اعدادوشمار کے ساتھ تجزیہ کریں تو اب تک سندھ اور پنجاب میں صرف 0.04 فیصد لوگوں کا باقاعدہ ٹیسٹ کروایا گیا ہے جو کہ انتہائی حیران کن اور پریشانی کا باعث ہے۔

اگر ہم کراچی کی مثال لیں تو مردم شماری 2017 کے مطابق اس شہر کی آبادی 16,051,021اور 14,494 بلاکس جن میں 2,770,074 گھرانے اور ہربلاک میں 191 گھرانے رہائش پزیر ہیں اور ہر گھرانے میں 5.8افراد بستے ہیں۔ اگر ہر بلاک کے تین گھرانوں میں سے ایک ایک فرد فی گھرانہ ٹیسٹ کروایا جائے تو یہ 43,482 افراد یعنی کراچی کے گھرانوں کا1.57 فیصد اور آبادی کا 0.27 فیصد بنتے ہیں لیکن جمعرات تک پورے سندھ میں 18,900 ٹیسٹ کئے گئے ہیں جو سندھ کی آبادی کا فقط 0.04 فیصد بنتا ہے۔

اسی طرح لاہور کی آبادی 11,126,285اور بلاکس کی تعداد 6585 ہے جن میں 1,757,695 گھرانے اور ہر بلاک میں 225 گھرانے آباد ہیں۔ اگر ہر بلاک سے تین گھرانوں میں سے ایک ایک افراد فی گھرانہ لیا جائے تو یہ 19,755 افراد یعنی لاہور کے گھرانوں کا 1.12 فیصد اور آبادی کا 0.18فیصد بنتے ہیں جبکہ اب تک پورے پنجاب میں جمعرات تک 43,565 ٹیسٹ کیے گئے جو کہ پنجاب کی آبادی کا 0.04فیصد بنتا ہے جو کہ انتہائی کم ہیں۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ کراچی کی آبادی کسی طور ڈھائی کروڑ سے کم نہیں اور اگر اس تناسب سے دیکھا جائے گا تو اعدادوشمار اور تشویشناک ہو جائیں گے۔ لہذا ضرورت اس بات کی ہے وفاقی اور صوبائی حکومتیں کراچی کے حال پر رحم کریں اور جو شہر پورے ملک کی معیشت کا چلاتا ہے وہاں ہنگامی بنیادوں پر اوپر بیان کئے گئے فارمولے کے تحت پچاس ہزار ٹیسٹ اگلے چند روز میں کروائے جانے کے انتظامات کئے جائیں اور ٹیسٹ کرنے کی اہلیت کو بڑھاتے ہوئے اپریل کے آخر تک ایک لاکھ شہریوں کے ٹیسٹ یقینی بنائے جائیں۔

رضا ہارون کہتے ہیں کہ اسی طرح مردم شماری کے اعدادوشمار کو سامنے رکھتے ہوئے دیگر اضلاع میں بھی ٹیسٹ کی تعداد کو بڑھایا جائے۔ یہ وقت آپس میں بیان بازی اور سیاسی ہار جیت کا نہیں بلکہ پورے ملک کو کرونا کی وبا سے مقابلہ کرنے کیلئے تیار کرنا اور اعدادوشمار کی بنیاد پر اندازوں اور فیصلوں کو حقائق سے قریب تر لانے کا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان عمران خان اور وزیراعل سندھ مراد علی شاہ سے اپیل کی کہ وہ کراچی، سندھ اور پاکستان میں بسنے والے شہریوں کیلئے اپنے سیاسی اختلافات بھلا کر ساتھ مل کر کام کریں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.