بلوچستان حکومت کو ریکوڈک منصوبے کی پہلی ادائیگی کر دی گئی

0
91
balochistan

ریکوڈک منصوبے پرکام کرنے والی کمپنی بیرک گولڈکارپوریشن نے منصوبےسے متعلق بلوچستان حکومت کو پہلی ادائیگی کردی۔

باغی ٹی وی: بیرک گولڈکارپوریشن کی جانب سے جاری اعلامیےکے مطابق بلوچستان حکومت کو نئی شراکت داری کے فریم ورک کے تحت تین ملین ڈالرکی ادائیگی کی گئی ہےریکوڈک پاکستان کےکنٹری منیجر علی رند نے سیکرٹری معدنیات کو 3 ملین ڈالرکا چیک دیا۔

پی ٹی سی ایل کی ٹیلی نار کمپنی کو خریدنے میں دلچسپی

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ہی وفاقی کابینہ نے ریکوڈک منصوبے کی حتمی ڈیل پر دستخط کرنےکی باضابطہ منظوری دی تھی۔

بیرک گولڈ کارپوریشن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ریکوڈک سے پہلی کمرشل پیداوار 2028 میں شروع ہوگی اور ریکوڈک کے ذخائرکی مدت 40 سال ہوگی اور اس سے سالانہ 80ملین ٹن کی پروسیسنگ کی جائےگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ریکوڈک منصوبے میں ساڑھے 7ہزار لوگوں کو روزگار ملے گا اور منصوبے سے 4 ہزار طویل المدتی نوکریاں پیدا ہوں گی، یقینی بنارہےہیں کہ بلوچستان کو اگلے سال سے فوائد پہنچنا شروع ہوجائیں کمرشل پیداوار شروع ہونے پربلوچستان کو سالانہ 50 ملین ڈالرز تک رائلٹی ملےگی۔

عمران دور میں کرپشن 6 درجے تک بڑھ گئی تھی. رپورٹ

ریکوڈک بلوچستان میں کہاں واقع ہے؟

ریکوڈک ایران اور افغانستان سے طویل سرحد رکھنے والے بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ہے جس کو ’ریک ڈک‘ یا یعنی ریت کا ٹھیلہ کہا جاتا ہے۔ یہاں سونے کے ذخائر پائے گئے ہیں بعض رپورٹس کے مطابق ریکوڈک کا شمار پاکستان میں تانبے اور سونے کے سب سے بڑے جبکہ دنیا کے چند بڑے ذخائر میں ہوتا ہے۔

ریکوڈک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں سونے اور تانبے کے بھاری ذخائر ہیں جو پوری دنیا کے ذخائر کے پانچویں حصے کے برابر ہیںریکوڈک کے قریب ہی سیندک واقع ہے جہاں ایک چینی کمپنی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے تانبے اور سونے کے ذخائر پر کام کر رہی ہےتانبے اور سونے کے دیگر ذخائر کے ساتھ ساتھ چاغی میں بڑی تعداد میں دیگر معدنیات کی دریافت کے باعث ماہرین ارضیات چاغی کو معدنیات کا ’شو کیس‘ کہتے ہیں۔

ملک میں مہنگائی کی شرح 25 فیصد تک پہنچ گئی

Leave a reply