fbpx

نظام عدل کا حسین امتزاج:جسٹس عائشہ اے ملک کو سپریم کورٹ کا جج بنانے کی سفارش

لاہور: نظام عدل کا حسین امتزاج:جسٹس عائشہ اے ملک کو سپریم کورٹ کا جج بنانے کی سفارش ،اطلاعات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد خان نے لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک کو سپریم کورٹ کا جج بنانے کی سفارش کر دی۔

چیف جسٹس پاکستان کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس مہوا، اجلاس میں لاہورہائیکورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک کو سپریم کورٹ کا جج بنانے کی سفارش کی گئی، جوڈیشل کمیشن نے جسٹس عائشہ اے ملک کو سپریم کورٹ کا جج بنانے کے لیے سفارش پارلیمانی کمیٹی کو ارسال کردی۔

یاد رہے کہ جسٹس عائشہ اے ملک 1966ء کو پیدا ہوئیں، جسٹس عائشہ ملک نے ابتدائی تعلیم پیرس، نیویارک اور پھر کراچی سے حاصل کی۔

انہوں نے بی کام کراچی سے کرنے کیا اور لاہور سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی، ایل ایل ایم انہوں نے ہارورڈ لا سکول امریکا سے کیا، 55 سالہ جسٹس عائشہ ملک نے بطور جج لاہورہائیکورٹ عہدہ کا حلف 27 مارچ 2012ء کو اٹھایا تھا۔

جسٹس عائشہ اے ملک مارچ 2031 تک عدالت عظمیٰ کی جج رہیں گی۔ جسٹس عائشہ ملک لاہور ہائی کورٹ میں سنیارٹی لسٹ میں چوتھے نمبر پر ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان بارکونسل نے لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عائشہ ملک کی تقرری کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن اجلاس کے دن یعنی
آج 6 جنوری کو ہڑتال اور عدالتی بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین خوشدل خان کا کہنا تھاکہ 6 جنوری کو جوڈیشل کمیشن اجلاس والے ہڑتال اور عدالتی بائیکاٹ کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین خوشدل خان نے کہا تھا کہ 6 جنوری کو جوڈیشل کمیشن اجلاس والے ہڑتال اور عدالتی بائیکاٹ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس عائشہ ملک کو لانے کا کیا مقصد ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے۔ سپریم کورٹ میں ایک کے بجائے 3 خواتین ججز لائیں لیکن ان کی سینیارٹی کے مطابق ان کی تعیناتی کی جائے ۔وائس چیئرمین نے مزید کہا ہے کہ چیف جسٹس کہہ چکے ہیں کہ ججز تقرری کا معاملہ نئے چیف جسٹس پرچھوڑنا چاہیے۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کاایک اجلاس کیا گیا جس میں لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تقرری کا معاملہ چار چار سے ٹائی ہوگیا ۔اُس وقت بھی جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تقرری کے معاملے پر وکلا کی جانب سے ہڑتال اور احتجاج کیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق کہ چیف جسٹس پاکستان سپریم کورٹ میں جج کی تقرری کے لیے ہائی کورٹ کے جج کے نام کی سفارش کی جاتی ہے جس کی منظوری جوڈیشل کمیشن کی جانب سے دی جاتی ہے جبکہ جسٹس عائشہ ملک کے نام کی بھی چیف جسٹس پاکستان کی جانب سے سفارش کی گئی تھی تاہم تکنیکی طور پر جسٹس عائشہ کا نام سپریم کورٹ میں بطور جج تقرری کے لیے مسترد کردیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ مزید رپورٹس کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد، جسٹس عمر عطا بندیال، اٹارنی جنرل پاکستان اور وزیر قانون نے جسٹس عائشہ ملک کے نام کی حمایت کی تھی جب کہ جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس مقبول باقر، ،سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) دوست محمد اور پاکستان بار کونسل کے اراکین نے جسٹس عائشہ ملک کی عدالتِ عظمیٰ میں تقرری کے مخالف ووٹ ڈالا تھا ۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!