fbpx

سعودی عرب میں امریکی صدر کا استقبال،سرخ کارپٹ کی جگہ بنفشی کارپٹ کیوں بچھائے گئے؟

امریکی صدر جوبائیڈن کی سعودی عرب آمد پر استقبال کے لیے سرخ کارپٹ کی جگہ بنفشی کارپٹ بچھائے گئے۔

باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب نے بائیڈن کے استقبال کے لیے ریڈ کے بجائے بنفشی کارپٹ کا انتخاب کیا کیونکہ بنفشی کارپٹ کو سعودی ثقافت میں بھی خاص اہمیت حاصل ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن سعودی عرب پہنچ گئے: شاہ سلمان اور ولی عہد سے ملاقات

ایسا کرنے کے پیچھے ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ موسم بہار کے دوران سعودی عرب کا ریگستان اور پہاڑی علاقہ الخزامی بنفشی رنگ کے پھولوں سے سج جاتا ہے جس کی مناسبت سے بنفشی رنگ کو اہم سمجھا جاتاہے۔

تاہم اسی وجہ سے امریکی صدر کے استقبال کے لیے بھی بنفشی کارپٹ کا انتخاب کیا گیا تھاکارپٹ کا انتخاب سعودی وزارت ثقافت اور شاہی پروٹوکول نے مل کر کیا تھا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن کےصدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد مشرق وسطیٰ کا پہلا دورہ تھا ۔سعودی عرب پہنچنے سے قبل انہوں نے اسرائیل کا دورہ کیا انہوں نے شاہ سلمان اور سعودی ولی عہد نائب وزیراعظم اور وزیر دفاع شہزادہ محمس بن سلمان سے ملاقات کی-

چین سری لنکا کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں مدد جاری رکھے ہوئے ہے

قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب اور امریکا خطے اور دنیا کی سلامتی اور استحکام کے لیے ایران کے غیر مستحکم رویے کا مقابلہ کرنے اور تہران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے خطرے کو بے اثر کرنے کی اہمیت پر متفق ہیں۔ امریکا نے یمن میں ایک جامع سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کی بھی حمایت کی اور ان کوششوں کو یمن کی سلامتی اور استحکام کے حصول کی ضمانت قرار دیا ہے۔

انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سعودی عرب اور امریکا کے درمیان سٹریٹجک پارٹنرشپ کے اہم ترین پہلوؤں میں سے ایک ہے اور اس میدان میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون نے انتہا پسند تنظیموں کے خلاف کھڑے ہونے اور ان کے خطرے کو بے اثر کرنے میں کئی اہم کامیابیاں حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر اسرائیلی شہر تل ابیب سے براہ راست جدہ پہنچے۔ وہ پہلے امریکی صدر ہیں جو اسرائیل سے براہ راست ایسے عرب ملک پہنچے ہیں جو اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا۔

جو بائیڈن کو شروع سے ہی سعودی رہنماؤں کے ساتھ کام کرنا چاہیے تھا،سینیٹر ٹام کاٹن