fbpx

ہمارے لئے ریڈ لائن ہمارا دین، وطن، ہماری فوج ، سلامتی کے ادارے ہیں،طاہر اشرفی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین اور وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی حافظ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی آزادی اظہار رائے نہیں بلکہ یہ دنیا کے امن کو خراب کرنے اور عالمی امن کو تباہ کرنے کے مترادف ہے، سویڈن کی حکومت کو اس واقعہ کے مرتکب مجرم کے خلاف کارروائی کر کے قرار واقعی سزا دینی چاہیے،

علماء کرام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ کسی مذہب کے مقدسات کی توہین کرنا آزادی اظہار رائے نہیں بلکہ یہ دنیا کے امن کو خراب کرنے اور عالمی امن کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ عالمی دنیا کو اسلاموفوبیا کے حوالے سے اپنے اقدامات اٹھانے چاہئیں اور سویڈن کی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس مجرم کے خلاف کارروائی کرے اور اس کو قرار واقعی سزا دی جائے ستر کروڑ مسلمانوں کے دل اللہ کریم کی محبت، انبیاء و رسل کی محبت پر موجزن ہے، ہمارے لئے تمام آسمانی کتابیں اور تمام انبیاء ایمان کا حصہ ہیں، کسی ایک کو بھی نہ مانیں تو مسلمان نہیں ہو سکتے، اس وقت تک پوری دنیا میں جس انداز سے اس واقعہ پر ردعمل آیا ہے وہ لائق تحسین ہے، حکومت پاکستان نے اس پر جس طرح احتجاج بلند کیا ہے اس کو ہمیں اچھے اور پر امن انداز میں آگے لے کر بڑھنا چاہیے تاکہ دنیا کو علم ہو سکے کہ یہ آزادی اظہار کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے ایمان کا مسئلہ ہے گزشتہ روز پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ نے بیرونی دنیا سے پاکستان کے بارے میں عجیب و غریب فتوے بازی کر رہے تھے اور جو سوالات اٹھائے جا رہے تھے اس کا جواب دیا ہے

ہم جنس پرستی کے مکروہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش شرمناک ہے، تنظیم اسلامی

خواجہ سرا کے ساتھ بازار میں گھناؤنا کام کرنیوالے ملزمان گرفتار

خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

 پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،

حافظ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ شیخ الاسلام مولانا مفتی تقی عثمانی اور دیگر نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ پاکستان کے حوالے سے پاکستان کے علماء و مشائخ کا جو موقف پیغام پاکستان میں آیا ہے وہی ہمارا موقف ہے۔ پاکستان کے سلامتی کے ادارے، پاکستان کی فوج، پولیس کے افسران و جوان اور دیگر اداروں پر حملے کسی بھی طرح شرعاً جائز نہیں ہیں، نہ پاکستان کے اندر کسی بھی طرح کی پرتشدد اور مسلح کارروائی کو جہاد کہا جا سکتا ہے مفتی تقی عثمانی اور دیگر اکابرین نے بہت واضح موقف بیان کر دیا ہے پاکستان کا موقف پاکستان کے علماء و مشائخ کا موقف وہی ہے جو پیغام پاکستان ہے پاکستان میں کسی بھی طرح کی مسلح یا پرتشدد کارروائی کا فرقہ وارانہ تشدد پھیلانے کی جو کوشش کی ہے وہ شرعاً قانوناً جائز نہیں ہے۔ پاکستان واضح موقف رکھتا ہے کہ ہم نے اپنے پڑوسی اور برادر اسلامی ممالک سے اچھے تعلق رکھنے ہیں لیکن پاکستان کے ایک ایک انچ کی حفاظت بھی پاکستان کا ہر شہری اس کے لئے اپنی جان و مال سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہے ہمارے لئے ریڈ لائن ہمارا دین، مذہب، وطن، ہماری فوج اور سلامتی کے ادارے ہیں، اگر کسی کو اس بارے میں کوئی ابہام ہے تو وہ گزشتہ روز کی کانفرنس کے بعد واضح اور دو توک انداز میں دور ہو جانا چاہیے