fbpx

بلوچستان، پنجاب میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری

راولپنڈی:بلوچستان اورپنجاب میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سیلاب سے متاثرہ صوبے بلوچستان اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ پاک فوج کے دستے ڈی جی خان، راجن پور، نصیر آباد اور لسبیلہ میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق متاثرہ آبادی اور ان کے سامان کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ فوج کی میڈیکل ٹیمیں متاثرہ افراد کو طبی امداد فراہم کر رہی ہیں۔

دوسری طرف بلوچستان میں گزشتہ کئی روز سے جاری طوفانی بارشوں اور جان لیوا سیلاب کے باعث مختلف حادثات کے دوران جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 205 تک جاپہنچی ہے۔ذرائع کے مطابق انتظامیہ کی تمام تر کوششوں کے باوجود کوئٹہ اور ملک کے دیگر علاقوں کے درمیان ریلوے ٹریک اور سڑکیں متاثر ہونے کے باعث بلوچستان کا زمینی رابطہ منقطع ہے۔صوبائی حکومت نے وفاق سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلوچستان کے علاقوں میں امدادی سامان، انفرااسٹرکچر کی بحالی اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے 60 ارب روپے کا خصوصی پیکج فراہم کرے۔

حکام نے صوبے بھر میں جاں بحق افراد کی تعداد 205 بتائی ہے جبکہ منگل کی شام ضلع پشین کے علاقے سرانان کے قریب ریلا پانچ افراد کو بہا لے گیا تھا جن میں سے 5 سالہ بچی کی لاش سرانان کے علاقے سید حمید ریور سے برآمد ہوئی۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے بدھ کی رات تک بلوچستان میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد سے متعلق اعداد و شمار جاری نہیں کیے تھے۔

بلوچستان کو دوسرے صوبوں سے ملانے والا ریلوے ٹریک گزشتہ کئی روز سے سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے جس کی وجہ سے مسافر ٹرینیں اور مال گاڑی سروس معطل ہے جبکہ ریلوے حکام سمجھتے ہیں کہ ٹریک کی بحالی میں ابھی مزید چند روز لگیں گے۔ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ 3 روز سے کوئٹہ سے کراچی، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے لیے کوئی ٹرین روانہ نہیں ہوسکی۔

علاوہ ازیں چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت کی صدارت میں حالیہ بارشوں کے بعد ہونے والی صورتحال کے متعلق اہم اجلاس سندھ سیکریٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں تمام ڈویژنل کمشنر، ڈپٹی کمشنرز، متعلقہ سیکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل صوبائی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی شریک ہوئے۔ اجلاس میں تمام ڈپٹی کمشنر نے صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 220 ملی میٹر سے زائد بارش ہوئی ہے، انہونے بتایا کے عمرکوٹ، ملیر، جامشورو، دادو، ٹنڈو محمد خان، حیدرآباد، مٹیاری، بدین، ٹھٹہ اور سجاول میں بارش سے انفراسٹرکچر اور عوام کا جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت نے متاثرہ اضلاع کے ہر ڈپٹی کمشنر کو رلیف کے کاموں کے لئے فوری طور پر فوری طور پر 30-30 لاکھ روپے جاری کرنے کا فیصلا کیا۔ انہونے سیکریٹری خزانہ کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کے تمام اضلاع کو فنڈز آج ہی جاری کئے جائیں تا کے رلیف کیمپ، بارش کے پانے کے نکاس کو یقینی بنایا جا سکے۔ چیف سیکریٹری سندھ نے مزید کہا کے بارش سے متاثرہ افراد کو راشن، ٹینٹ دیگر ضروریات کو پورا کیا جائے۔ جہاں زیادہ صورتحال خراب ہو وہاں بارش متاثرہ افراد کو اسکولوں میں رکھا جائے۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے ٹینٹ، راشن بیگ فراہم کی جائیں گی۔ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت نے میزد کہا کے صوبے میں غیر معمولی بارش سے انفراسٹرکچر اور زراعت کو بہت نقصان ہوا ہے تمام کمشنر انفراسٹرکچر، عوام کے جانی و مالی نقصان اور زراعت کے نقصان کا تخمینہ لگا کر رپورٹ پیش کریں۔ چیف سیکریٹری سندھ نے محکمہ صحت کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کے بارش متاثرہ علاقوں میں گیسٹرو اور دیگر بیماریوں کے ادویات کو یقینی بنایا جائے۔