ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں نے زہران ممدانی کی امریکی شہریت منسوخ کرنے اور انہیں ملک بدر کرنے کی قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

زہران ممدانی بھارتی نژاد امریکی سیاستدان ہیں، وہ سوشلسٹ نظریات کے حامل اور عوامی فلاحی اسکیموں کے بھرپور حامی رہے ہیں، جن میں کم آمدنی والوں کے لیے رہائش، صحت کی سہولیات، اور تعلیم شامل ہیں۔ ان کی پالیسیاں اکثر ریپبلکن رہنماؤں کی مخالفت کا نشانہ بنتی رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق، ریپبلکن پارٹی کے چند انتہا پسند حلقے زوہران ممدانی پر "امریکی مفادات کے خلاف سرگرمیوں” کا الزام لگا رہے ہیں۔ ان کے فلسطین کے حق میں دیے گئے بیانات اور اسرائیلی پالیسیوں پر شدید تنقید کو بنیاد بنا کر ان کے خلاف ملک دشمنی اور غیر وفاداری کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔

ریپبلکن رہنما جیسن پیری کا کہنا تھا”ہم امریکہ میں ایسے لوگوں کو برداشت نہیں کر سکتے جو ہمارے دشمنوں کے بیانیے کو فروغ دیتے ہیں۔ شہریت ایک اعزاز ہے، اگر کوئی اس ملک کے مفاد کے خلاف کام کرے تو یہ اعزاز چھینا جا سکتا ہے۔”

امریکی آئین کے مطابق، فطری طور پر پیدا ہونے والے شہریوں کی شہریت ختم نہیں کی جا سکتی، البتہ قدرتی طور پر (naturalized) شہریوں کی شہریت خاص قانونی بنیادوں پر واپس لی جا سکتی ہے، جیسے کہ جعلسازی، دشمن ریاست کے ساتھ تعلق یا دہشت گردی میں ملوث ہونا۔

ادھر معروف امریکی سرمایہ کار بل ایک مین (Bill Ackman) نے جمعے کی صبح ایک پراسرار ٹویٹ کیا "مجھے ایک زبردست خیال آیا ہے جو نیویارک کے بارے میں ہے۔ میں جلد اسے شیئر کروں گا۔ صبح ڈپریس محسوس کر رہا تھا، اب پُرامید ہوں۔”چند لمحوں بعد انہوں نے ایک اور ٹویٹ میں کہا "ہم قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔”ان کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا ان کا اشارہ زوہران ممدانی کے کیس کی طرف ہے یا نیویارک میں کسی ممکنہ سیاسی مداخلت یا تحریک کا۔

واضح رہے کہ زہران ممدانی نے نیویارک میئر کے لیے ہونے والے ڈیموکریٹک پارٹی کے انتخاب میں کامیابی حاصل کرلی، مخالف امیدوار اینڈریو کومو نے اپنی شکست کو تسلیم کرلیا،بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق زہران ممدانی نے 43 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کئے، جبکہ ان کے مخالف اُمیدوار اینڈریو کومو 36 فیصد ووٹ حاصل کر سکے،رپورٹس کے مطابق کامیابی کے بعد زہران ممدانی نے اپنے ووٹرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اُن کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ وہ اب ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے نیو یارک کے مئیر کا انتخاب لڑیں گے،ممدانی کو امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے سیاسی، معاشی اور میڈیا اسٹیبلشمنٹ کا مقابلہ کیا اور انہیں شکست دی۔ اُمید ہے کہ آپ میئر کا الیکشن بھی جیتیں گے،کوئنز علاقے کے رکن اسمبلی ممدانی کو نوجوان ووٹرز کی خاص طور پر حمایت حاصل ہے جو آخری روز لانگ آئی لینڈ سٹی میں انتخابی مہم میں مصروف رہے،رپورٹس کے مطابق 33 برس کے ممدانی ڈیموکریٹک سوشلسٹ تصور کیے جاتے ہیں اور پچھلے چند ماہ میں تیزی سے ابھر کرصف اول کھڑے ہوچکے ہیں،ممدانی نے سٹی بس اور چائلڈ کیئر کومفت کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم کرنے کی مہم چلاتے رہے ہیں۔

زہران قامی ممدانی کا نیویارک کے آئندہ میئر کی حیثیت سے انتخاب یقینی ہوچکا ہے ۔ وہ ماہر تعلیم محمود ممدانی اور فلم میکر میرا نائر کے فرزند ہیں۔ زہران ممدانی نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے اور ان کا نیویارک میئر کے عہدہ کیلئے ہونے والے چناؤ میں انتخاب یقینی دکھائی دے رہا ہے ۔ ممدانی 18 اکتوبر 1991 کو یوگنڈا میں پیدا ہوئے اور کچھ عرصہ تک ساؤتھ افریقہ میں قیام کے بعد 7 سال کی عمر میں امریکہ منتقل ہوئے اور نیو یارک میں مستقل مقیم ہوگئے۔ برانکس ہائی اسکول آف سائنس سے ممدانی نے گریجویٹ کیا اور باوڈوین کالج سے افریقین اسٹڈیز میں بیچلرس کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے سیاست میں داخلہ سے قبل ہاؤزنگ کونسلر اور میوزیشن کی حیثیت سے کام کیا تھا ۔ 2020 میں پہلی مرتبہ نیویاریک اسٹیٹ اسمبلی کیلئے منتخب ہوئے۔ انہوں نے چار میعادوں تک رکن رہنے والے اراویلا سموٹاس کو شکست دی تھی۔ 2024 میں ممدانی نے میئر کے الیکشن کیلئے اپنی امیدواری کا اعلان کیا۔ انتخابی مہم میں وہ عوام سے کئی وعدے کئے جن میں فری سٹی بس سرویس ، پبلک چائلڈ کیر سرکاری سطح پر گراسیری اسٹورس اور معاشی طورپر کمزور افراد کیلئے رعایتی ہاؤزنگ شامل ہیں۔ وہ اسرائیل کے ناقد ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران زہران ممدانی کو مختلف گوشوں کی تائید حاصل ہوئی ہے۔ وہ ساؤتھ ایشین پہلے شہری ہیں جو نیویارک کے میئر ہوں گے۔ وہ نیویارک کے پہلے مسلم میئر بھی ہوں گے ۔ 33 سال کی عمر میں میئر کے عہدہ پر فائز ہونے والے زہران ممدانی پہلے نوجوان میئر ہوں گے۔ممدانی غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کے رویہ کے سخت خلاف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نتن یاہو کو گرفتار کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے منتخب ہونے کے بعد نفرت پر مبنی جرائم کو روکنے کا تیقن دیا ۔ نیویارک میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً ایک ملین ہے اور ممدانی نے مہم کے دوران مساجد کا دورہ کرتے ہوئے تائید کی اپیل کی۔ انتخابی مہم کے لئے سوشیل میڈیا کا بھی موثر استعمال کیا جارہا ہے ۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک شہر کی میئر شپ کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے تمہیدی انتخابات میں بھارتی نژاد امیدوار زہران ممدانی کی کامیابی پر ڈیموکریٹس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، اور ممدانی کے خلاف سخت اور ذاتی حملے کییٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل” پر لکھا کہ زہران ممدانی ”سو فی صد پاگل کمیونسٹ ہے”۔ انھوں نے نہ صرف سیاسی بلکہ ذاتی سطح پر بھی ممدانی کو ہدف بنایا۔ ٹرمپ کے مطابق ”وہ دیکھنے میں بھی خوف ناک لگتا ہے، اس کی آواز کرخت ہے، اور وہ زیادہ ذہین بھی نہیں ہے”۔ ٹرمپ نے ممدانی کی جیت کو ”ملکی تاریخ کا ایک بڑا لمحہ” قرار دیا، جس سے ان کے بقول امریکہ ایک انتہا پسند بائیں بازو کی طرف بڑھ رہا ہے۔زہران ممدانی، جو خود کو ”ڈیموکریٹک سوشلسٹ” کہتے ہیں، نیویارک کے عوام کو درپیش اہم مسائل جیسے کرایوں پر پابندی، مفت بس سروس، اور بچوں کے لیے ہمہ گیر نگہداشت کی فراہمی جیسے نکات پر اپنی مہم چلا کر نمایاں ہوئے۔

Shares: