دوران ڈکیتی قتل کو دیرینہ دشمنی قرار دے دیا ، ریسکیو اہلکار تفتیشی افسر بن گئے

ریسکیو 1122 اور پولیس کا گٹھ جوڑ منظر عام پر آگیا ہے۔
ڈکیتی کے دوران قتل ھونے والے محمد عارف کے قتل کی واردات کو دشنمی کا رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
تفصیلات کے مطابق 38 سالہ محمد عارف جو کہ ڈکیتی کی واردات میں جاں بحق ہو گیا تھا۔
ریسکیو 1122 نے لاش کو ہسپتال منتقل کرکے دوران ڈکیتی قتل کو پرانی دشمنی بتایا گیا ہے۔
یاد رہے کہ ریسکیو 1122 کا کام زخمیوں اور ہلاک شدگان کو ہسپتال منتقل کرنا ہوتا ہے پولیس اور عدالتوں کے کام میں مداخلت کرنا نہیں ہے۔ شہریوں کا ڈی جی ریسکیو سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ھے اور ریسکیو اہلکاروں کا حدود کو پامال کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے غیر ذمہ دار اہلکاروں نے ڈاکوؤں کی فائرنگ سے قتل کی واردات کو پرانی دشمنی کا رنگ دینے کی کوشش ھے جوکہ انتہائی تشویشناک ھے ۔اور اس قبل بھی ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جانبحق اور زخمی ھونے کی پولیس سے ساز باز متعلقہ تھانے سے ساز باز ھو کر فوٹیج تفصیل جاری نہیں کی جاتی ۔شہریوں کا ڈی جی ریسکیو سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ھے اور غیر ذمہ داری کے مظاہرہ کرنے والے ریسکیو اہلکاروں کو ھٹا کر کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

غفار ریاض نمائندہ باغی ٹی وی قصور

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.