fbpx

چیئرمین ایچ ای سی کی بحالی:عدلیہ حکومت کے انتظامی فیصلوں میں مداخلت کرنے لگی؟

اسلام آباد:چیئرمین ایچ ای سی کی بحالی:عدلیہ حکومت کے انتظامی فیصلوں میں مداخلت کرنے لگی؟ اسلام آباد ہائیکورٹ نے طارق جاوید بنوری کو بطور چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) بحال کردیا

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ اور جسٹس عامرفاروق پر مشتمل بینچ نے فیصلہ سنایا۔

خیال رہے کہ عدالت نے آرڈیننس کے ذریعے چیئرمین ایچ ای سی کو ہٹانے کے خلاف درخواست پر فریقین کے وکلا اور اٹارنی جنرل کے دلائل مکمل ہونے پرفیصلہ محفوظ کیا تھا۔

یہ بھی یاد رہے کہ چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر طارق بنوری کو عہدے سے ہٹائے جانے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیاتھا ۔یاد رہے کہ اس سے پہلے حکومت کی جانب سے ایچ ای سی ترمیمی آرڈیننس 2021 لاگو کردیا گیا ہے جس کے بعد چیئرمین ایچ ای سی کی مدت ملازمت 2 سال کردی گئی ہے۔

ذرائع کےمطابق طارق بنوری کے خلاف وسیع پیمانے پر شکایت عام تھیں، وہ گزشتہ تین سال سے ایڈہاک بنیادوں پر ایچ ای سی چلا رہے تھے، نہ تو میرٹ پر مستقل ای ڈی تعینات کیا گیا نہ ہی ریجنل ڈائریکٹرز تعینات ہوئے، بھاری تنخواہوں پر درجن بھر کنسلٹنٹ بھرتی کیے گئے تھے جن میں بعض ناصرف ریٹائرڈ بلکہ تعلیمی لحاظ سے گریجویٹ تھے۔

حال ہی میں نیب نے بھی ڈاکٹر طارق بنوری کے خلاف بد عنوانیوں، بےقاعدگیوں، بدانتظامی اور کنسلٹنٹس کی تعیناتی پر تحقیقات شروع کردی تھیں کہ اس دوران آرڈیننس جاری کر کے چیئرمین ایچ ای سی کی مدت ملازمت کم کرکے انہیں فارغ کردیا گیا۔

طارق بنوری کو (ن) لیگ کے دور حکومت میں سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے مئی 2018 میں تعینات کیا تھا اور ان کی 4سالہ مدت مئی 2022 تک تھی۔