fbpx

ریاست مدینہ اور ہم . تحریر: معین وجاہت

پاکستان دنیا کی پہلی ریاست ہے جو ریاست مدینہ کے بعد اسلام کے نام پر معرض وجود میں آئی۔ پاکستان کے قیام کے بعد جب کسی نے بانی پاکستان سے سوال کیا کہ پاکستان کن قوانین کو فالو کرے گا تو قائد نے جواب دیا کہ پاکستان کی قانون سازی آج سے 14 سو سال قبل ہو چکی ہے۔

افسوس اس بات کا ہے کہ بانی پاکستان کی رحلت کے بعد ہم نے ریاست مدینہ کے تصور کو بھلا دیا، گزشتہ سات دھائیوں میں بہت دفعہ آئین کو تبدیل کیا گیا لیکن کسی نے بھی ریاست مدینہ کا ذکر نہیں کیا۔ اگست 2018 میں جب عمران خان وزیراعظم بنے تو انہوں نے پاکستان میں ریاست مدینہ کے اصولوں کو اپنانے کی بات کی لیکن ھمارے ملک میں ایک خاص طبقہ ایسا بھی ھے جسے یورپ کی برہنہ منڈیوں سے اتنی محبت ھے کہ انھیں خان صاحب پاکستان کو مدینہ کی ریاست کے اصولوں کو اپنانے پر شدید تکلیف ھوئی لیکن اس سب سے پہلے کیا ھم خود بطور پاکستانی اس قابل ھیں کہ پاکستان کو ریاست مدینہ بنا سکیں۔۔۔

ہمارے پیارے نبی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم دین اسلام میں انسانیت کا پیغام لے کر آئے اور ایک طویل و صبر آزماء جدوجھد کے بعد اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی جس کا منشور محبت، اخوت، انصاف اور مساوات کے ان چار سنہری اصولوں پر منحصر تھا جس پر حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد خلفاء راشدین نے من و عن عمل کر کے ریاست مدینہ کو استحکام بخشا۔

جب وزیراعظم پاکستان ریاست مدینہ کا نام لیتے ہیں تو سب سے پہلے ھمیں بطور معاشرہ سوچنا ہو گا کہ کیا ہمارے اعمال اس قابل ہیں کہ ہم خود کو ریاست مدینہ کا ذمہ دار بنا سکتے ہیں۔

ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں، ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی تاریخ پیدائش کو چھپایا جاتا ہے اسکا اندراج کوئی 3 سے 5 سال بعد کروایا جاتا ہے تاکہ مستقبل میں نوکری کے لیے عمر کا مسئلہ نا بنے لیکن ہم یہ نہیں سوچتے کہ جب ہم بچے کی بنیاد ہی جھوٹ پر رکھ رہے ہیں تو پھر کیسے ممکن ہے کہ ہم بہترین انداز میں انسان سازی کر رہے ہیں۔

تاجر کو ملاوٹ سے پاک مناسب قیمت پر اشیاء فروخت کرنا ہوں گی, رشوت کا جو بازار گرم ہے اسکو بند کرنا پڑے گا، کفرانہ سودی نظام سے جان چھڑانا ہو گی، طاقتور اور کمزور دونوں طبقہ کیلئے یکسان نظام انصاف لاگو کرنا ہو گا، جب ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی گئی تو سب سے پہلے انصاف کا بول بالا ہوا۔ انصاف سب پر لاگو کیا گیا۔ انصار و مہاجرین، مسلمان و یہود سب کیلئے یکساں نظام انصاف اپنایا گیا، قاضی کو پابند کیا گیا کہ انصاف اس کا شیوہ ھو گا کیونکہ ریاست کے مکمل ڈھانچے کا سانچہ قاضی کے قلم سے ھو کر گزرے گا۔

جب ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی گئی تو طاقتور نے طاقت کا غلط استعمال نھیں کیا، اقربہ پروری کو نھیں اپنایا، پسند و نہ پسند کو کوسوں دور چھوڑا گیا، غلطی مسلمان نے بھی کی تو سزا پائی اور انصاف کا دروازہ یہودی نے بھی کھٹکایا تو جزاء پائی۔ ہمیں بھی اپنے معاشرے میں انصاف کے نظام کو یکساں کرنا ہو گا تاکہ کسی غریب کا حق نا کوئی مار سکے،

اسلام سے پہلے بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا پھر ہمارے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم رحمة للعالمین بن کر تشریف لائے اور آپ نے پوری انسانیت کو اس آگ کی لپیٹ سے بچایا اور عورت کو بھی اس گڑھے سے نکالا۔ اور اس زندہ دفن کرنے والی عورت کو بے پناہ حقوق عطا فرمائے اور قومی وملی زندگی میں عورتوں کی کیا اہمیت ہے، اس کو سامنے رکھ کر اس کی فطرت کے مطابق اس کو ذمہ داریاں سونپیں، ریاست مدینہ نے جو حقوق دیے وہی حقوق دینا ہوں گے جسکی وہ اپنی پیدائش سے حقدار ھے، بیٹی کو اپنی جائیداد میں حصہ دار بنانا ہو گا،

ہمسایے کے حقوق، والدین و بزرگوں کے حقوق پر عمل کرنا ہو گا، اسی طرح ہمیں معاشرے میں ہزاروں ایسی برائیوں کا قلع قمع کرنا ھو گا جو کسی بھی معاشرے کو ناسور بنا دیتی ھیں اور یہ سب تبھی ممکن ہے جب ہم خود کو ٹھیک کریں گے کیونکہ کسی بھی برائی یا خرابی کو ختم کرنے کے عمل کی ابتداء سب سے پہلے اپنی ذات سے کی جاتی ھے۔

ہم سب کو ریاست مدینہ تو چاہیے لیکن ہم میں سے کوئی ایک فرد بھی اپنے آپکو تبدیل کرنے کو تیار نھیں۔ علامہ اقبال نے یہ الفاظ شاید ہماری ہی حالت زار پر لکھے تھے کہ۔۔۔۔۔

خدا نے اج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا