ریاست پاکستان انفارمیشن ایج کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے جامع حکمت عملی وضع کرے، شہریار خان آفریدی

ریاست پاکستان انفارمیشن ایج کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے جامع حکمت عملی وضع کرے، شہریار خان آفریدی
چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر شہریار خان آفریدی نے پیر کو کہا کہ انفارمیشن ایج میں چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ایک جامع حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ دشمن ریاست پاکستان کی بنیاد کو ہلانے کے لئے بے دریغ ذرائع کا استعمال کررہا ہے اور جعلی خبروں کے ذریعے وار پہ وار کیے جا رہا ہے۔

کشمیر کمیٹی اور انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کی جانب سے مشترکہ طور پر "ڈس انفارمیشن اور اسٹریٹجک وارفیئر” کے عنوان سے منعقدہ سیمینار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے شہریار خان آفریدی نے کہا کہ مودی نے اسٹریٹجک اور سیاسی مقاصد کے لئے پاکستان کے خلاف منفی بیانیہ استعمال کیا ہے۔ دشمن نے انفارمیشن کے اس دور میں معلومات کو اسٹریٹجک اور ہائبرڈ جنگ کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ معلوماتی جنگ ریاست کے بیانیہ کی تعمیر کے لیے ایک جدید وسیلہ ہے جس کا مؤثر استعمال نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کی ڈس انفو لیب رپورٹ نے بھارت کے جھوٹ اور فریب کو بے نقاب کیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ہندوستانی میڈیا اور این جی اوز بھارتی پروپیگنڈے کا ایک ذریعہ بن چکے ہیں اور یہ کہ بھارت نے پاکستان کو بدنام کرنے میں جعلی میڈیا ہاؤسز اور جعلی سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کا استعمال کیا۔انہوں نے کہا کہ چونکہ انفارمیشن جدید جنگی ہتھیاروں میں کلیدی اہمیت کی حامل ہے لہذا میڈیا کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کچھ شیطانی عناصر انفرادی اور ریاستی مقاصد کے لئے میڈیا بیانیہ کا غلط استعمال کرسکتے ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان کے مابین موازنہ دیتے ہوئے شہریار خان آفریدی نے کہا کہ بھارتی حکومت نے 1948 میں میڈیا کو اپنے نیشن بلڈنگ پروجیکٹ میں شامل کیا اور اسی وجہ سے ہندوستانی میڈیا نے سرکاری بیانیہ کو آگے بڑھاتے ہوئے ہندوستانی پروپیگنڈا کو فروغ دیا۔

انہوں نے کہا کہ دوسری جانب پاکستانی ریاست نے پاکستانی میڈیا کو نظرانداز کیا اور شیطانی طاقتوں نے پاکستانی میڈیا کو ریاستی مقاصد کے خلاف غلط استعمال کیا۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے میڈیا ہاؤسز کو قومی مفادات کی حساسیت سمجھائے بغیر بے انتہا آزادی دے دی گئی۔شہریار خان آفریدی نے کہا کہ پاکستانی میڈیا کی کمزوری کی وجہ سے دشمن نے اس بے انتہا آزادی کو ریاست پاکستان کے خلاف اپنی ہائبرڈ جنگ لڑنے میں استعمال کیا۔
بھارت نے اپنے میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے دنیا کو یہ جھوٹ  بیچنے کی کوشش کی کہ پاکستانی ریاستی ادارے اس خطے میں ہنگامہ آرائی کے ذمے دار ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس حقیقت کے باوجود کہ ہندوستان کی قابض فوج کے خلاف کشمیریوں کی جدوجہد آزادی اقوام متحدہ کے چارٹر کے عین مطابق ہے، ہندوستانی ریاست اور اس کے میڈیا نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی کے ساتھ منسلک کرنے میں کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج نہتے کشمیریوں کے خلاف جنگی جرائم کا ارتکاب کررہی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو بھارت کی حملہ آور فوج کے خلاف لڑنے کا جائز حق حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ انفارمیشن دور کے چیلنجوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دشمن کے جعلی میڈیا ہاؤسز اور سوشل میڈیا کے ذریعے مسلط ہائبرڈ جنگ سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔  انہوں نے متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا کہ وہ سوشل میڈیا کے ضوابط میں بھی بہتری لائیں اور ماضی کی غلطیوں سے سبق لیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.