fbpx

رچرڈ برنسن کا خلائی سفر کامیاب، توقع ہے کہ یہ سفرابھرتی خلائی سیاحت کی حوصلہ افزائی کا باعث بنے گا رچرڈبرنسن

ارب پتی رچرڈ برنسن خلائی سیاحت کے کامیاب سفر کے بعد زمین پر واپس آگئے ہیں۔

باغی ٹی وی : ورجن گلیکٹک خلائی جہاز پر سوار تین دیگر مسافروں اور دو کمانڈروں کے ہمراہ انہوں نے کچھ منٹ خلا میں گزارے توقع ہے کہ یہ سفر ابھرتی خلائی سیاحت کی حوصلہ افزائی کا باعث بنے گا۔

پرواز کے دوران برنسن نے کہا کہ یہ مہم جوئی زندگی کے ایک عظیم تجربے کی نمائندگی کرتی ہے۔یہ خلائی جہاز امریکا کی نیو میکسیکو ریاست میں اسپیس پورٹ خلا کے لیے روانہ ہوا۔ اس نے تقریبا 50 منٹ تک خلا میں سفر کیا۔

برنسن نے اعلان کیا کہ وہ ورجن گیلیکٹک ہولڈنگز انک کے لیے ٹیسٹ فلائٹ پر جائیں گےانہوں نے ایک ہفتہ قبل اس وقت یہ اعلان کیا تھا جب ان کی عمر71 سال ہوگئی تھی۔

برنسن کی پرواز کےصرف نو روز بعد خلائی سیاحت کی دوڑ میں ایمیزون کے بانی جیف بیزوس 20 جولائی کو خلا سفر پر جا رہے ہیں وہ بلیو اوریجن خلائی جہاز میں خلا میں جائیں گے۔

سفر کا فیصلہ امریکا سے منظوری کے بعد کیا گیا ورجن گیلیکٹک کی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن فیس ادا کرنے والے مسافروں کو لے جاتی ہے برنسن ورجن کے وی ایس ایس یونٹی خلائی جہاز پر سوار ہوئےاس کے ٹیک آف سے لینڈنگ تک کوئی 90 منٹ لگے۔

ایمازون کے سرابرہ جیف بیزوس کی خلا سے زمین پر واپسی روکی جائے، پیٹیشز پر41000…

یہ پرواز نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن کی وضع کردہ خلائی لائن کے قریب پہنچ گئی۔ اس لائن کو "کرمان لائن” کہا جاتا ہے جو زمین کی سطح سے 100 کلومیٹر دور ہے۔

خیال رہے کہ متعدد بار تاخیر، ایلون مسک اور جیف بیزوز سے سخت مسابقت کے بعد ورجین گلیکٹک کا یونٹی 22 مشن کامیاب ہوا اس سے قبل بلیو اوریجن نے اپنی پہلی انسانی پرواز 20 جولائی کو بھیجنے کا اعلان کیا تھا جس میں جیف بیزوز بھی شامل ہوں گے تاہم اس اعلان کے فوری بعد ورجن گلیکٹک نے 11 جولائی کو اپنی پہلی پرواز بھیجنے کا اعلان کیا۔

رچرڈ برانسن رچرڈ برانسن کی خلا میں یہ پرواز ورجین کی اہم کامیابی ہے کیونکہ یہ اسپیس شپ 2 کا پہلا مکمل ٹیسٹ بھی تھا اور اس سے کمرشل خلائی پروازوں کا راستہ کھل جائے گاکمپنی کی جانب سے 2022 سے خلائی پروازوں کو شروع کیے جانے کا امکان ہے۔

رچرڈ برانسن نے اس کمپنی کی بنیاد 2004 میں رکھی تھی اور انہیں توقع تھی کہ 2009 میں لوگوں کو خلا کی سیر کرانے کا آغاز ہوسکتا ہے، مگر اس سسٹم کی تیاری مشکل ثابت ہوئی جبکہ مالی اخراجات زیادہ اور 2014 کی تجرباتی پرواز جان لیوا ثابت ہوئی۔

تاہم 17 سال کی کوششوں کے بعد یہ کمپنی توقع کررہی ہے کہ اب اسے کامیابی مل سکے گی جو اب تک سیکڑوں افراد کو 2 سے ڈھائی لاکھ ڈالرز کے ٹکٹ فروخت کرچکی ہے۔

ائیر کار کی کامیاب آزمائشی پرواز

امریکا کی ریاست نیو میکسیکو سے سیاحوں یا سائنسی محققین کو اس اسپیس شپ سے خلا میں بھیجا جائے گا جہاں وہ چند منٹ تک بے وزنی، بالائی خلا سے زمین کے مسحور کن نظارے اور محفوظ لینڈنگ کے تجربے سے گزر سکیں گے۔