fbpx

رشتوں کی قدر تحریر: محمداحمد

رشتے جزبات اور احساسات کے ہوتے ہیں اگر ہم سب رشتوں کی قدر کریں تو کوئی بھائی ، بہن ، والدین عزیز و اقارب دکھی نہیں ہوگا ہر جگہ کہیں جائیداد کا مسئلہ ہے تو کہیں لوگ ایک دوسرے کا حق کھا رہے ہیں بہنوں کے حقوق پر سانپ سونگھ جاتا ہے کہیں اولاد نہیں ہے تو کہیں لوگوں کے تعنوں سے گھر والے آپس میں اختلافات کر کے بیٹھ جاتے ہیں حالانکہ اولاد اللہ پاک کی دین ہے جن کی اولاد ہے وہ نیک نہیں ہے آج کل کے دور میں ماں باپ بچے کو اگر موٹر سائیکل لے کے دے دیتے ہیں وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ بچہ اس کے ساتھ کیا کر رہا ہے ماں باپ یا گھر کے بڑے کا فرض ہے اس کی دیکھ بھال کرے اس کو نصیحت کرے جہاں بچہ غلط کر رہا ہے اس کو ٹھیک کرے تاکہ رشتوں میں قدر بھی رہے اور اچھی صحبت میں بھی رہے

آج کل کے دور میں اتنی تیزی آگئی ہے کہ ہر انسان کے لئے رشتے کی قدر ایسے ہی ہے جیسے سیڑھی پر پاؤں رکھ کر وہ آگے نکل جاتے ہیں جب کو اس سیڑھی کا کوئی استعمال نہیں کرتا تو اس کو کچرہ سمجھ کر کباڑ میں پھینک دیا جاتا ہے ۔ ہر طرف نفسہ نفسی کا عالم ہے ہر کوئی مفادات کی خاطر تعلق رکھتا ہے ۔ تعلق کو کبھی مفادات کی خاطر نہیں رکھنا چاہیے عزت اللہ پاک نے دینی ہے

معاشرے میں کچھ لوگوں میں اپنی طرف کھینچ لانے کی طاقت ہوتی ہے مگر اپنا بنا کے رکھنے کی قوت نہیں ہوتی ایسے ہی کچھ رشتے بہت خوبصورت ہوتے ہیں مگر ان کا کوئی نام نہیں ہوتا ان پر ہمارا حق خود بخود اس طرح کا ہو جاتا ہے کہ وہ ہمیں ہر حال میں اپنے ساتھ چاہئے ہوتے ہیں بغیر کسی لالچ ، کسی غرض کے ، بس ان کا ہماری زندگی میں ہونا ہی ایک سکون ایک تسلی کا باعث ہوتا ہے۔ ایک وقت تھا مرد شرم محسوس کرتا تھا کہ بیوی کام کرے اُسے اپنے آپ پہ فخر ہوتا تھا کہ وہ کما رہا ہے اپنے بچوں کے اخراجات اور گھر کے تمام اخراجات اٹھاتا تھا اب وقت کے ساتھ ساتھ ماحول بدل گیا ہے لوگوں کی سوچ بدل گئی ہے معاشرے میں مغرب کو دیکھ کر لوگوں نے بیٹیوں کو کام کرنے کی طرف راغب کردیا ہے بعض لوگوں کو مجبوری کی وجہ سے کام کرواتے ہیں اور بعض لوگ شوق کی وجہ سے ۔ وہی بیٹی سے بیٹا بن کر کام کرنے لگ جاتی ہے اور مرد گھر کے باہر اس کو پروٹیکشن دیتا ہے اب معاشرے میں گھر سے باہر کام کرنے والی لڑکی کو شکار سمجھا جاتا ہے اس طرح لڑکیوں کا آگے بڑھنے سے نقصانات یہ ہوا کہ جو لڑکیاں نوکری کرتی ہیں ان کیلئے رشتے عام ہوگے ہیں اور جو لڑکیاں کام نہیں کرتی وہ گھر میں بیٹھی بوڑھی ہورہی ہیں جس گھر میں عورتیں سارا دن باہر کے کام کرتی ہیں وہی عورتیں گھر میں آکر کام کرتی ہے تو گھروں میں جھگڑے عام ہوگے ہیں اس سب کا اثر یہ ہوا کہ پہلے مرد کماتا تھا اُس کا انحصار گھر میں ہوتا تھا اب اگر عورت کماتی ہے تو وہ انحصار کم ہوگیا ہے جس کی وجہ سے طلاق کی ریشو بڑھ گئی ہے

مُخلص رِشتوں کی قدر کریں کیونکہ جہاں رُوح کے رشتے قائم ھوں وہاں پھول موسموں کے محتاج نہیں ھوتے۔ اور رہ گئ بات آپ کی تو اچھے لوگوں کو کھو کر اپ نے کتنا گھاٹے کا سودا کیا یہ وقت آپ کو بتاۓ گا

@JingoAlpha