fbpx

رشوت کا نظام اور معاشرے کا بگڑتا توازن۔ تحریر بشارت حسین

جہاں اسلام نے رشوت کو گناہ کبیرہ کہا وہاں رشوت لینے اور دینے والے دونوں کو جہنمی قرار دیا۔
آج رشوت کا جو بازار گرم ہے اور جو طریقے رائج ہیں انکو دیکھ کر انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔
ایک وقت تھا جب رشوت پیسے کی صورت میں یا قیمتی سامان کی صورت پیش کی جاتی تھی لیکن بدقسمتی سے پچھلی چند دہائیوں سے کچھ نئے طریقے آئے جنکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
اپنے چھوٹے سے عہدے اور فائدے کیلئے طوائفوں کو پیش کیا جانے لگا کچھ تو اس حد کو بھی پار کر گئے اپنی ہی بیوی،بہن اور بیٹی تک کو اس گھناؤنے کام کیلئے استعمال کیا جانے لگا۔
اندازہ لگائیں کہ معاشرہ کس قدر گر گیا اور سوچیں کہ اسلام نے آخر یہ کیوں منع کیا تھا اور کیوں اس پہ سخت وعیدیں آئیں کیوں رشوت لینے اور دینے والے کو جہنمی قرار دیا۔
رشوت سے نا صرف کمزور طبقے،مظلوم اور بےگناہ لوگوں کو نقصان پہنچا بلکہ اس نے تو غیرت اور شرم و حیا کو بھی بیچ بازار فروخت کر دیا۔
رشوت نے ہماری انسانیت کو ہمارے وقار کو ہماری عزت و آبرو کو خاک میں ملا کر رکھ دیا۔
ہماری اسلامی تعلیمات کو تقریبا دفن کر دیا۔
ہمارے معاشرے ہمارے نظام کو تہس نہس کر دیا۔
ہمارے سکول کے چوکیدار سے لیکر بائیس گریڈ تک کا افسر رشوت دے کر بھرتی ہونے لگا۔
جہاں ہمارے فیصلے قرآن و سنت کی روشنی میں ہوا کرتے تھے اسلامی قوانین کے مطابق ہوا کرتے تھے وہ اب رشوت کی بہتی گنگا کی نظر ہونے لگے۔
ہمارا نظام انصاف ہماری خواہشات کے تابع ہو گیا ہمارا نظام عدل پیسے کی ریل پیل کی نظر ہو گیا۔
ہمارا مظلوم ظالم کے سامنے بے بس ہو کر خودکشیاں کرنے لگا کیونکہ اس کو عدالتیں انصاف دینے میں ناکام ہو گئیں۔
ہمارا معاشرہ کے پورا نظام رشوت کے زہر نے زہریلہ کر دیا۔
قاتل رشوت دے کر آزاد ہو گیا مقتول کے ورثا عدالتوں کے چکر لگا لگا کر انصاف سے مایوس ہو کر بے بس ہو گئے۔
مظلوم مزید کمزور ہوا ظالم رشوت دے کر مزید طاقتور ہو گیا۔
مظلوم ظالم کی فریاد عدالتوں میں لے جانے سے ڈرنے لگا۔
گواہ رشوت لیکر سچی گواہی سے مکر گیا۔
نوکریاں قابلیت کی جگہ رشوت کے ساتھ تلنے لگیں۔
غریب آدمی محبت کر کے آگے آنے کی کوشش کرتا رہا اور رشوت کی شاٹ کٹ نے کئی نااہل لوگوں کو آگے لا کر کھڑا کر دیا۔
نظام تعلیم کو رشوت نے متاثر کیا الغرض ہمارے معاشرے کے ہر کام پہ رشوت کا زنگ چڑھ گیا آج ہر کوئی اسی شاٹ کٹ کو استعمال کرتا ہے بجلی کا میٹر لگانا یا اپنا ہی پیسہ نکلوانا ہے بجلی کا بل جمع کروانا ہے یا اس کو ٹھیک کروانا ہے رشوت تو دینی پڑے گی۔
یہاں تک کہ کسی بھی سرکاری یا نیم سرکاری کسی بھی دفتر میں جائیں رشوت خور ملے گا۔
لوگ رشوت دیں گے۔
آخر کب تک اور کیوں؟
ہمیں اس نظام کو ختم کرنا ہے اش نظام کے کوڑھ مرض سے اپنے معاشرے کو اپنی نسل کو بچانا ہے۔
اس نظام کے خاتمے کیلئے ہمیں مل کر کوشش کرنی ہے۔
ہم نے اپنے اوپر لازم و ملزوم کرنا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے رشوت نہیں دینی کسی کے حق پہ ڈاکہ نہیں ڈالنا۔
ہم نے ایسے لوگوں کو بے نقاب کرنا ہے جو ہمارے معاشرے میں یہ زہر پھیلا رہے ہیں۔
رشوت سے پاک پاکستان۔

https://twitter.com/Live_with_honor?s=09