fbpx

مری میں ریاستی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے،ابھی تک انگریزوں کےڈھانچے پر چل رہا ہے،حماد اظہر

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ اپوزیشن نے محلات کے بجائے مری پر وسائل خرچ کیے ہوتے تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔

باغی ٹی وی : قومی اسمبلی سے خطاب کے دوران وفاقی وزیر فواد چودھری نے جیسے ہی تقریرشروع کی تو اپوزیشن نےشور شرابہ شروع کردیافوادچودھری نے اپنے خطاب میں کہا کہ 30 سال ان لوگوں نے حکومتیں کیں اورآج یہ ہم سے سوال کرتے ہیں اگر انہوں نے محلات کے بجائے مری پر وسائل خرچ کی ہوتے تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا ان کی حیثیت نہیں ہے یہ بات کرنے کی میرا خیال تھا کہ شہباز شریف لیڈر کی طرح خطاب کریں گے اور ایسی بات ہو گی جس سے یکجہتی کی فضا قائم ہو گی لیکن لیڈر پیدا ہوتے ہیں بنائے نہیں جاتے۔

فواد چودھری نے کہا کہ چھوٹے دل کے لوگ بڑے ہال میں آگئے ہیں مری کے واقعے پر ہر آنکھ اشکبار ہے اپوزیشن کا ایک بھی ایم این اے مری نہیں گیا جب اپوزیشن لیڈر وزیراعلیٰ تھے تو ہر روز ایک نیا واقعہ ہوتا تھا 100 بچے ایک اسپتال میں آکسیجن کی کمی سے مارے گئے تھے جبکہ ماڈل ٹاؤن میں گولیاں چلیں تو انہیں ٹی وی سے معلوم ہوا تھا۔

فواد چودھری نے کہا کہ پاکستان کےاداروں نے مل کرامدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور صرف 24 گھنٹے کے اندر ریسکیو کی کوشش کامیاب ہوئی حکومت پنجاب نے اس واقعہ پر کمیٹی بھی بنائی ہے مری میں 5 دن میں 1 لاکھ 64 ہزار گاڑیاں داخل ہوئی تھیں وزیراعظم نے پاکستان میں پہلی بار ماحول پر توجہ دلائی آج پاکستان میں اندرونی سیاحت کا انقلاب برپا ہو چکا ہے۔

بلاول بھٹو اور شہباز شریف کا سانحہ مری پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ

وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے حکومت کو تجویز پیش کی ہے کہ مری میں ریاستی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائےمری ابھی تک انگریزوں کے دیئے گئےڈھانچے پر چل رہا ہے ساری دنیا میں ایڈوانس بکنگ کا نظام چلتا ہے لیکن وہ متعارف کرانے سے بہت سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں گیس کی دستیابی کےتحت ہی کنکشنز دیں گے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا امیر حیدر خان ہوتی نے اپنے خطاب میں دریافت کیا کہ موسم خرابی کی اطلاعات تھیں تو سیاحوں کو مری کیوں جانے دیا گیا؟ اس واقعے میں مجرمانہ غفلت ہوئی ہے لوگوں کےگزرجانے کے بعد کہا جا رہا ہے کہ شیشے نیچے کر لیتے تو بچ جاتے۔

پوپ فرانسس کا سانحہ مری پر اظہار افسوس

پی پی کے مرکزی رہنما سید خورشید شاہ نے اجلاس سے خطاب کے دوران کہا کہ سانحہ مری حکومت کی غفلت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وزیر نے کہا کہ ہم ایکٹو ہوئے تو24 گھنٹے میں مسائل حل ہو گئے اگر یہ 24 گھنٹے پہلے متحرک ہو جاتے توسانحہ روکا جا سکتا تھا میں شہباز شریف سے اختلاف کرتا ہوں کہ پنجاب کا نیرو بانسری بجا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود کہتا ہے کہ میں سیکھ رہا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ سیکھے گا تو پتہ نہیں کیا کرے گا؟ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو ماننا چاہیے کہ ان سے غلطی ہوئی۔

رکن قومی اسمبلی ریاض فتیانہ نے تجاویز پیش کیں کہ سیاحتی علاقوں میں ایمرجنسی لین بنائی جائے، سیاحتی مقام فورٹ منرو اور وادی سون سکیسرکوپروموٹ کیا جائےانہوں نے سانحہ مری کو افسوسناک واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں انفرا اسٹرکچر ڈویلپمنٹ کی شدید قلت ہے۔

کیا بروقت اقدامات سے سانحہ مری کو روکا جا سکتا تھا؟ وزیراعظم کا وفاقی وزرا سے…

رکن قومی اسمبلی صداقت عباسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سانحہ مری بہت افسوسناک واقعہ ہے وہاں عام برفباری نہیں ہوئی بلکہ برفانی طوفان آیا تھا برفانی طوفان کی وجہ سے درخت اور کھمبے گرے، پیدل چلنا نا ممکن ہو گیا تھا پانچ گاڑیوں میں لوگ موجود تھے، جن میں ہیٹر چلائے گئے، کاربن مونو آکسائیڈ کے باعث لوگ بیہوش ہوئے اور پھر اموات ہوئیں نمک کا اضافی اسٹاک ہونے کے باوجود وہاں نہیں پہنچایا جا سکا۔

مولانا اسعد محمود نےکہا کہ لوگوں کو اس واقعے سے بڑا صدمہ پہنچا ہے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہمارے رضاکاروں نے مری میں ریلیف سینٹر قائم کیا اور مدد پہنچائی۔ ان کا کہنا تھا کہ مدد پہنچانے والی وہی انصارالاسلام تنظیم ہے جس پر عثمان بزدار نے پابندی لگائی ہے۔

سانحہ مری کی ذمہ دار مری انتظامیہ:کس کی وفادار اور کس کو کیا خوار:ایمپلائمنٹ…

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!