fbpx

رزق حلال عین عبادت ہے تحریر:شعیب حسن

رزق حلال کے فوائد”رزق حلال عین عبادت ہے”
رزق حلال کے فوائد
رزق حلال کو آسان الفاظ میں جائز روزی یا جائز ذریعہ معاش کہ سکتے ہیں۔رزق حلال کا کمایا ہوا تھوڑا رزق حرام کی کمائ کے کروڑوں سے بھاری ہوتا ہے۔اس حلال کی کمائ کے تھوڑے پیسوں سے نسل کی نسل لاکھوں برائیوں سے برے عیب سے بچ جاتی ہیں۔سچائ اور دیانت داری کی راہ پر گامزن ہو جاتی ہیں اور اللہ کا قرب حاصل کر لیتی ہیں۔اس لیے اپنے مال کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ اس مال کی خامیوں کو بھی ہمیں دوسروں کو اگاہ کرتے رہنا چاہیے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال رزق کو عبادت قرار دے کر انسانوں کے لیے ایسے راستے کی طرف روشنی ڈالی ہے کہ اگر انسان حلال رزق کمائے تو انسان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ عبادت اور اللہ کے قریب جانے کو حق دار بن جاتا ہے۔
اللہ اپنی کتاب قرأن کرم فرقان حمید میں حکم دیتا ہے کہ
"اے ایمان والو اپنے رزق کو آپس میں باطل کی راہ سے نا کھاؤ بلکہ باہمی رضامندی کے ساتھ تجارت کی راہ سے نفع حاصل کرو
(سورۃ النساۂ)
حلال طریقے سے رزق کمانے میں اللہ نے اتنا سکون رکھا ہے کہ جو شخص حلال رزق کمائے اور وہی حلال رزق اپنی اولاد کو کھلائے گا آخرت میں صدیقوں اور شہدوں میں اپنے اپ کو پائے گا۔
کچھ گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ انسان ارکان اسلام کو پورا کرنے سے بھی معاف نہیں کیے جاتے بلکہ حلال رزق کمانے سے اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے معاف ہو جاتے ہیں۔
دین اسلام نے انسانوں کو کئی طریقوں سے محنت کرنے معاشی جدوجہد کرنے حلال رزق کمانے پر نہ صرف زور دیا ہے بلکہ ساتھ ساتھ اس کو حاصل کرنے کے بہت ہی آسان طریقے بتائے ہیں جیسے انسانی عقل تسلیم کر چکی ہے
"اے لوگو جو چیزیں زمین میں موجود ہیں ان میں سے پاک اور حلال چیزیں کھاؤ(سورۃ البقرہ)
حلال رزق اپنے اندر اتنی طاقت رکھتا ہےکہ انسان اللہ سے جو بھی دلی خواہشات کی دعا کے لیے ہاتھ اٹھا کر التجا کرتا ہے تو اللہ اسی وقت وقت اپنی بارگاہ میں قبول فرماتے ہیں۔حرام کی کمائ کا ایک لقمہ بھی انسان اگر کھا لے تو اس کی چالیس دن دعا قبول نہیں ہوتی۔کیا ہم میں سے کوئ نہیں چاہتا کہ ہماری دعائیں قبول ہوں
کیا ہم میں سے کوئ نہیں چاہتا کہ حلال رزق کما کر اپنے اہل و ایال اور اولاد کو کھلا کر آخرت می صدیقوں اور شہدوں میں شامل ہو
اللہ ہم سب کو حلال رزق کمانے کی توفیق بخشے
کیوں کہ رزق حلال عین عبادت ہے
رزق حلال کو آسان الفاظ میں جائز روزی یا جائز ذریعہ معاش کہ سکتے ہیں۔رزق حلال کا کمایا ہوا تھوڑا رزق حرام کی کمائ کے کروڑوں سے بھاری ہوتا ہے۔اس حلال کی کمائ کے تھوڑے پیسوں سے نسل کی نسل لاکھوں برائیوں سے برے عیب سے بچ جاتی ہیں۔سچائ اور دیانت داری کی راہ پر گامزن ہو جاتی ہیں اور اللہ کا قرب حاصل کر لیتی ہیں۔اس لیے اپنے مال کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ اس مال کی خامیوں کو بھی ہمیں دوسروں کو اگاہ کرتے رہنا چاہیے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال رزق کو عبادت قرار دے کر انسانوں کے لیے ایسے راستے کی طرف روشنی ڈالی ہے کہ اگر انسان حلال رزق کمائے تو انسان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ عبادت اور اللہ کے قریب جانے کو حق دار بن جاتا ہے۔
اللہ اپنی کتاب قرأن کرم فرقان حمید میں حکم دیتا ہے کہ
"اے ایمان والو اپنے رزق کو آپس میں باطل کی راہ سے نا کھاؤ بلکہ باہمی رضامندی کے ساتھ تجارت کی راہ سے نفع حاصل کرو
(سورۃ النساۂ)
حلال طریقے سے رزق کمانے میں اللہ نے اتنا سکون رکھا ہے کہ جو شخص حلال رزق کمائے اور وہی حلال رزق اپنی اولاد کو کھلائے گا آخرت میں صدیقوں اور شہدوں میں اپنے اپ کو پائے گا۔
کچھ گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ انسان ارکان اسلام کو پورا کرنے سے بھی معاف نہیں کیے جاتے بلکہ حلال رزق کمانے سے اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے معاف ہو جاتے ہیں۔
دین اسلام نے انسانوں کو کئی طریقوں سے محنت کرنے معاشی جدوجہد کرنے حلال رزق کمانے پر نہ صرف زور دیا ہے بلکہ ساتھ ساتھ اس کو حاصل کرنے کے بہت ہی آسان طریقے بتائے ہیں جیسے انسانی عقل تسلیم کر چکی ہے
"اے لوگو جو چیزیں زمین میں موجود ہیں ان میں سے پاک اور حلال چیزیں کھاؤ(سورۃ البقرہ)
حلال رزق اپنے اندر اتنی طاقت رکھتا ہےکہ انسان اللہ سے جو بھی دلی خواہشات کی دعا کے لیے ہاتھ اٹھا کر التجا کرتا ہے تو اللہ اسی وقت وقت اپنی بارگاہ میں قبول فرماتے ہیں۔حرام کی کمائ کا ایک لقمہ بھی انسان اگر کھا لے تو اس کی چالیس دن دعا قبول نہیں ہوتی۔کیا ہم میں سے کوئ نہیں چاہتا کہ ہماری دعائیں قبول ہوں
کیا ہم میں سے کوئ نہیں چاہتا کہ حلال رزق کما کر اپنے اہل و ایال اور اولاد کو کھلا کر آخرت می صدیقوں اور شہدوں میں شامل ہو
اللہ ہم سب کو حلال رزق کمانے کی توفیق بخشے
کیوں کہ رزق حلال عین عبادت ہے