fbpx

رمضان میں پانی کی کمی سے بچنے کے لئے گھر میں تیار کئے جانے والے فرحت بخش مشروبات

رمضان میں روزہ رکھنے اور گرمی کی شدت کے سبب ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جسے روزہ افطار کے بعد پانی کی مطلوبہ یا زیادہ مقدار استعمال کر کے بچایا جا سکتا ہے۔

باغی ٹی وی : ماہرین کے مطابق گرمیوں کے موسم میں عام روٹین سے ہٹ کر پانی پینے کا استعمال بڑھا دینا چاہیے تاکہ براہ راست دماغ پر اثر انداز ہونے والی شکایت ڈی ہائیڈریشن سے بچا جا سکے جبکہ رمضان کے دوران دن میں ایسا ممکن نہیں ہو پاتا۔

تاہم افطار کے دوران یا بعد میں اگر سادہ پانی کے علاوہ گھر میں ہی تیار کیے جانے والے صحت اور فرحت بخش مشروبات کا استعمال کر لیا جائے تو پانی کی کمی دور ہونے کے ساتھ صحت پر بھی متعدد فوائد مرتب ہوتے ہیں اور افطار کے دوران تلی ہوئی مضر صحت غذاؤں کے استعمال کے اثرات بھی کم ہو جاتے ہیں۔

رمضان کے دوران روزہ ہونے کے سبب دن میں پانی کا استعمال نہیں کیا جا سکتا مگر روزہ افطار کرنے کے بعد پانی کے زیادہ استعمال اور مختلف اقسام کے خوش ذائقہ، فرحت بخش مشروبات کے استعمال سے روزہ دار کی فوراً توانائی بحال ہو جاتی ہے، بھوک کا احسا س بھی کم ہوتا ہے جس کے نتیجے میں وزن میں صحت مندانہ طریقے سے کمی بھی آتی ہے ۔

مندرجہ ذیل مشروبا ت کا استعمال رمضان کے دوران نہات مفید ثابت ہو سکتے ہیں:

گنے کا رس:
گنے کا جوس فوراً توانائی بحال کر کے تروتازہ اور فرحت بخش محسوس کرواتا ہے، تھکاوٹ دور کرتا ہے اور گردوں کی صحت کے نہایت مفید قرار دیا جاتا ہے۔

لیموں پانی:
لیموں پانی طبی ماہرین کی جانب سے ہر موسم میں تجویز کیا جاتا ہے، لیموں صحت، قوت مدافعت بہتر بنانے اور وٹامن سی کی بھر پور مقدار حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہےلیموں پانی ناصرف ایک سستا ترین ڈیٹاکس واٹر ثابت ہوتا ہے بلکہ یہ گردوں کی صفائی کے لیے بھی بہترین مشروب قرار دیا جاتا ہے لیموں پانی کے استعمال سے وزن میں کمی آتی ہے، طبیعت کا بھاری پن دور ہوتا ہے اور غذا جَلد ہضم ہوتی ہے ۔

گل قند کا استعمال:
لال گلاب کے پھولوں سے تیار گل قند نا صرف گرمی کی شدت کم کرتی ہے بلکہ فرحت بخش احساس بھی جگاتی ہے، روزہ افطار کرنے کے بعد اگر میٹھے کے طو ر پر گل قند کا استعمال کر لیا جائے یا پھر اسے پانی یا دودھ میں شامل کر کے پی لیا جائے تو غذا جَلد ہضم ہو جاتی ہے اور بھاری پن بھی محسوس نہیں ہوتا ہے۔

کھیرے کا ڈیٹاکس واٹر:
رمضان ہر انسان کو جسم سے مضر صحت مادوں کو ڈیٹاکس کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے، اس دوران جسم ’انٹرمٹینٹ فاسٹنگ‘ کی حالت میں ہوتا ہے، روزہ افطار کے بعد اگر غذا کے ساتھ کھیرے سے بنا ڈیٹاکس واٹر یا اسموتھی کا استعمال کر لیا جائے تو نظام ہاضمہ سمیت قوت مدافعت بھی بہتر کام کرنے لگتا ہے اور انسانی جسم سے مضر صحت مادوں کا صفایا ہو جاتا ہے ۔

ناریل کا پانی:
ناریل کا پانی صحت بخش مائع ہے، ناریل کا پانی بد ہضمی اور تیزابیت کا بہترین علاج ہے اور اس کے استعمال سے انسان خود کو ہلکا اور توانا محسوس کرتا ہے، ناریل کے پانی میں تخم بالنگا ملا کر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، ناریل کا پانی پیٹ پھولنے کی شکایت سے بھی بچاتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.