fbpx

روڈ ایکسیڈینٹ کس کی غفلت ہوتی ہے .تحریر: احمد لیاقت

پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں روڈ حادثے کے شکار افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوجاتے ہیں یا معزور ہوجاتے ہیں ۔ پاکستان میں روڈ ایکسیڈنٹ کی شرح دیگر ممالک کی نسبت کہیں زیادہ ہے یا پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جن کو روڈ سیفٹی کے حوالے سے بدترین ممالک کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے
پاکستان میں ہونے والے زیادہ تر روڈ حادثات انسانی غلطی کی وجہ سے ہوتے ہیں، جس میں ڈرائیورز کی غفلت سب سے نمایاں ہے۔ ڈرائیورز کی غفلت اور جلد بازی کے ساتھ غیر تربیت یافتہ ڈرائیونگ ہے

مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر آۓ روز ٹریفک حادثات پیش آتے ہیں

👈 گاڑی چلانے کی مہارت سکھانے والے اداروں کا فقدان
👈 ناتجربہ کار ڈرائیور
👈 جعلی لائسنس کی روک تھام نہ ہونا
👈مسلسل کئی گھنٹوں تک گاڑی چلانا
👈 ملک بھرمیں یکساں لائسنس کا اجراء نہ ہونا
👈 ٹریفک قوانین کی عدم پاسداری
👈 موبائل فون کا استعمال
👈 سڑکوں پر سفید اور زرد لائنوں کا نہ ہونا
👈 مسافر بسوں میں سیٹ بیلٹ کا نہ ہونا
👈 گاڑی کا فٹنس ٹیسٹ سرٹیفکیٹ نہ ہونا
👈مسافر بسوں میں ہنگامی دروازہ نہ ہونا
👈 گاڑی میں حد سے زیادہ مسافر سوار کرنا
👈 نشہ آور چیزوں کا استعمال
👈 پرانی گاڑیوں کا بےدریغ استعمال

چند ایک وجوہات کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:
ٹریفک حادثات کی بڑی وجوہات میں تیزی رفتاری، غیر محتاط ڈرائیونگ، سڑکوں کی خستہ حالی ، گاڑی میں خرابی ، اوورلوڈنگ ، ون وے کی خلاف وزری، اورٹیکنگ، اشارہ توڑنا، غیر تربیت یافتہ ڈرائیورز ، دوران ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال ، نو عمری میں بغیر لائسنس کے ڈرائیونگ، بریک کا فیل ہوجانا اور زائد مدت ٹائر وں کا استعمال شامل ہے۔لیکن ان میں سب سے اہم وجہ سڑک استعمال کرنے والے کا جلدباز روّیہ ہے۔ 80 سے 90 فیصد ٹریفک حادثات غیر محتاط رویے کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں ، مگر ہم اپنے رویوں میں تبدیلی لانے کے لئے قطعاً تیارنہیں، اوریہ ہی ٹریفک کے مسائل اور حادثات کی بنیادی وجہ ہے۔جب تک ہم اپنے رویوں کو درست نہیں کریں گے اس وقت ٹریفک حادثات میں کمی ممکن نہیں۔
جبکہ ٹریفک حادثات اور مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے یہ دلچسپ پہلو بھی سامنے آیا کہ گاڑیوں کے لیے تو موٹر وہیکلز کے قوانین موجود ہیں مگر آہستہ چلنے والی گاڑیاں مثلاً گدھا و بیل گاڑی کے لئے کوئی قانون سازی نہیں ہے، اس وجہ سے روڈ استعمال کرنے والے یہ لوگ قانون سے نہ صرف بالا تر ہیں بلکہ بڑے پیمانے پر ہونے والے ٹریفک حادثات کی بڑی وجوہات بھی ہیں۔ ان افراد کو تربیت دینے کی اشد ضرورت ہے ، تاکہ ان کو روڈ استعمال کرنے سے متعلق مکمل آگاہی حاصل ہوسکے

دنیا بھرمیں سرکاری سطح پر ڈرائیونگ اسکول بنے ہوئے ہیں اور گاڑی چلانے کا خواہشمند ہر شخص کئی دنوں تک اسکول جاتا ہے اور انہیں باقاعدہ طور پر ٹریفک قوانین کے ساتھ ساتھ گاڑی چلانے کی مہارت بھی سکھائی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں اس قسم کا نظام ہونے کے برابر ہے، اکثر لوگ اپنے رشتداروں یا دوستوں سے گاڑی چلانا سکیھ لیتے ہیں اور ایسا کرنا جرم بھی نہیں سمجھتے، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں مخصوص ادارے ہی ڈرائیونگ سکھانے کے مجاز ہوتے ہیں۔
حکومت کو چاہئے کہ ملک بھر میں اس قسم کا نظام متعارف کرائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کےلئے سخت سے سخت سزا مقرر کرے۔ ڈرائیونگ اسکول بنانے سے ملک میں سیکڑوں افراد کو روزگار مہیا ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں تربیت یافتہ ڈرائیور میسر ہونگے

پاکستان کے ہرصوبے میں الگ الگ قسم کے لائسنس کارڈ جاری کئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک پولیس اہلکاروں کو مشکلات کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ جعلی کارڈ کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ لائسنس کارڈ قومی شناختی کارڈ کی طرح مرکز اسلام آباد سے ہی جاری کیا جائے تاکہ جعلی کارڈ کی روک تھام میں بھی مدد مل سکے۔

اسی وجہ سے پاکستان میں روڈ ایکسیڈینٹ کی تعداد دن بدن بڑھتی جاتی ہے جس کے برعکس پاکستان کی گورنمنٹ کا کام سست روی کا شکار ہوتا ہے باہر کے ممالک میں قانون سازی کرکے اس پہ عمل پیرا کروانا گورمنٹ کی پہلی ترجیح ہوتی ہے ہم سب کی یہی کوشش ہوگی ہے موجودہ گورنمنٹ اس پر توجہ دے تاکہ بہتری کیلئے بہتر اقدام کرکے لوگوں کو ہلاکتوں سے بچاۓ
@JingoAlpha