fbpx

ربورٹ اور ہم — سلیم اللہ صفدر

ٹوئیٹر فیس بک کے بعد امازون نے دس ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے…!

جی ہاں…

وجہ کیا ہے؟ جی ملازمین کو دینے کے لیے پیسے نہیں اور ملازمین جو کام کرتے ہیں انسانی ربورٹ ان سے کہیں بہتر انداز میں کر سکتے ہیں. نہ ربورٹس چھٹیاں مانگتے ہیں نہ بلاوجہ بیمار ہوتے ہیں. نہ تنخواہ میں اضافے کی بات کرتے ہیں نہ ہڈحرامی کرتے ہیں. اس لئے کمپنی مالکان کے لیے انسانی ملازمین کی بجائے ربورٹس زیادہ مفید ہیں.

اب لندن امریکہ کی سڑکوں پر ایمزون کے نکالے گئے ملازمین بھیک مانگتے نظر آئیں گے کہ جی ہمیں جو کچھ آتا تھا وہ اب ربورٹس نے سنبھال لیا اور ہم اب کیا کریں.

یاد رہے کمپنی ملازمتوں سے ربورٹس انسانوں کو نہیں نکال رہے بلکہ انسان انسانوں کو نکال رہے ہیں. اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان نے ربورٹس بنانا سیکھ لیا اور ان ربورٹس کی وجہ سے وہ لوگ ناکارہ ہیں جنہیں نہ آئی ٹی کا علم، نہ آرٹیفشل انٹیلیجنس کا علم، نہ ربورٹس کا علم اور نہ ہی جدید ٹیکنالوجی کا. باس کے سامنے یس سر یس سر کرنے والے انسان اب کسی کام کے نہیں. ربورٹس سے یس سر یس سر کروانے والے آئی ٹی ایکسپرٹ کام کے ہیں.

ربورٹس آپ کی زندگی میں گھس چکے ہیں. کہیں کمپیوٹر کی شکل میں، کہیں ڈرون کیمرہ مین کی شکل میں، کہیں پیکنگ مشین کی شکل میں، اور کہیں آرمرڈ فورس کی شکل میں. اب جہاں جہاں وہ پہنچ رہے ہیں انسانوں کو نکالے جا رہے ہیں.

ایک انسان کی وہ قسم ہے جو ان ربورٹس کو گھر سے بیٹھ کر آپریٹ کر رہا ہے اور پانچوں انگلیاں گھی میں ڈال چکا ہے اور دوسرا انسان وہ ہے جو رو رہا ہے کہ ان منحوس ربورٹس کی وجہ سے میری جاب چلی گئی. وہ روبوٹس کی آمد پر تو رو رہا ہے لیکن ان ربورٹس کو آپریٹ کرنے کا طریقہ نہیں سیکھ رہا اور اس وجہ سے اس کی یہ حالت ہو چکی ہے.

اب دل تو کرتا ہے سوشل میڈیا پر چوبیس گھنٹے بحث و مباحثہ کرنے والے احباب کے متعلق کافی کچھ تحریر کروں لیکن بس اتنا کہوں گا کہ ساری دنیا ربورٹس کا فائدہ اٹھا رہی ہے اور ہم ہم اس ربورٹ (موبائل) کے ذریعے ایک دوسرے پر ہی طعن و تشنیع کر رہے ہیں کہ نہ ہی دنیا کا فائدہ نہ ہی آخرت کا. اور غیر مسلم قوتیں اسی ربورٹس کے ذریعے اپنی زندگی آسان سے آسان تر کیےجا رہے ہیں..