fbpx

روجھان کی عوام کودر پیش مسائل، حکومت کی توجہ کے منتظر

روجھان کی عوام کودر پیش مسائل، حکومت کی توجہ کے منتظر
تحریر : ضامن حسین بکھر
رودکوہی سیلابی ریلوں کے بعد روجھان میں مختلف کے سنگین مسائل کا شکار ہو گیا ہے ،ان مسائل کے حل کے لئے روجھان کی عوام روجھان کی سیاسی قیادت میر مزاری گروپ کے سرکردہ رہنما چیئرمین الیکٹرک پاور ڈویژن برائے اسٹینڈنگ کمیٹی رکن قومی اسمبلی سردار ریاض محمود مزاری کی توجہ کی منتظر ہے،رودکوہی کے سیلابی ریلوں کے آنے کے بعد جنم لینے والی موجودہ صورتحال پر راقم الحروف کچھ اہم مسائل پر توجہ دلانا ضروری سمجھاہے.
حالیہ رودکوہی کے سیلابی پانی کی وجہ سے روجھان کی مختلف سڑکوں پر پانی کے اخراج کے لئے اور علاقے اور عوام کے وسیع تر مفاد کیلئے کٹ لگائے گئے جو روجھان کی سلامتی کے لئے سود مند ثابت ہوئے مگر دوران کٹ چوک ٹاور سہیجہ پھاٹک روڈ پر لگنے والے کٹس میں سے ایک پر ایکسیویٹر کی وجہ سے گیس پائپ لائن بھی کٹ گئی سوئی سدرن گیس کے ذرائع سے معلوم ہوا کہ گیس پائپ لائن میں کٹ لگنے کی وجہ سے بیسیوں کیوبک فٹ قدرتی گیس کا ضیاع بھی ہوا، سدرن گیس کمپنی کو گیس کی سپلائی بند کرنا پڑ گئی کیونکہ لاکھوں روپے کی گیس ضائع ہورہی تھی اس وقت گیس کی بندش کے باعث روجھان سٹی کے سینکڑوں صارفین کو گیس کی سپلائی معطل ہے، گیس کی عدم سپلائی کے باعث صارفین کو شدید اذیت کا سامنا ہے تعلیمی اداروں میں جانے والے طلباء اور طالبات سرکاری ملازمین، کو سب سے زیادہ گھریلو صارفین کو اذیت و دشواری کا سامنا ہے گیس کی بندش کی وجہ سے سوختہ لکڑی 1300/1400 روپے من اور ایل پی جی گیس 350/400 روپے فی کلوگرام میں بھی دستیاب نہیں ہو پا رہی اس سلسلے میں روجھان کے شہریوں نے (گیس صارفین) نے رکن قومی اسمبلی سردار ریاض محمود مزاری سے اپیل کی ہے کہ گیس پائپ لائن کو جلد از جلد مرمت کر اکر روجھان شہر کی گیس سپلائیبحال کرائی جائے تاکہ مہنگی لکڑی اور ناپید ایل پی جی گیس کی خریداری کی اذیت سے نجات مل سکے.
روجھان میں رودکوہی سیلابی پانی سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی جس میں روجھان کے سیلاب زدہ مواضعات میں فصلات، جانی و مالی اور بیش بہا لاکھوں کے قیمتی جانوروں رودکوہی سیلابی ریلوں کی نظر ہو گئے ، سینکڑوں گھر منہدم ہوئے درجنوں بستاں صفحہ ہستی سے مٹ گئے لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اوراب قسم پرسی کی حالت میں برلب سڑک پڑے ہیں جن کو آج بھی مشکلات کا سامنا ہے ضلعی و تحصیل انتظامیہ ،فلاحی اداروں، مخیر حضرات، ملکی و غیر ملکی عوامی سماجی مذہبی و دیگر انسانی حقوق کے اداروں اور حکومت پنجاب کی جانب سے متاثرین سیلاب کو امداد فراہم کی گی اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز سے بروقت امدادی دی گئی ماسوائے روجھان سٹی کے مستحقین خواتین کے آپ کوبتاتاچلوں کہ روجھان سٹی میں کچی آبادیوں کے ساتھ ساتھ روجھان سٹی بھی مکمل طور پر سیلاب سے متاثرہواہے، سینکڑوں شہریوں نے ہجرت کی جنہیں پاک فوج اور ضلعی و تحصیل انتظامیہ کی مدد سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، روجھان مکمل طور پر خالی کرایاگیا،رودکوہی کے سیلاب کے شہر میں داخل ہونے کے خدشات کے پیش نظر مفلس و نادار شہریوں نے قرض حسنہ لے کر بچوں اور اپنی فیملیز کی زندگیاں بچائیں یہ بات اظہر من شمس ہے کہ شہر روجھان کے داخلی اور خارجی راستوں سے رودکوہی کا سیلابی پانی داخل ہوتے ہوتے رہ گیا اگر داخلی اور خارجی راستوں کو مٹی سے بند نہ کیا جاتا تو آج روجھان میں بھی پانی کھڑا ہوتا اسی دوران طوفانی بارشوں اور سیم کی وجہ سے شہر میں کافی سارے مکانات کو مکمل توکہیں جزوی نقصان پہنچا اور متعدد مکانات گر گئے مطلب یہ کہ جہاں روجھان کے مواضعات کچی آبادیوں کو نقصانات اٹھانا پڑے وہاں پر روجھان سٹی میں بھی بے شمار نقصانات ہوئے، شہری آج بھی قرض حسنہ لینے کی وجہ سے مقروض ہیں ،دوسری جانب شہر میں دیہاڑی دار، سفید پوش طبقہ کو بڑی اذیت کا سامنا کرناپڑ رہا ہے کیونکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی امدادی رقوم کی تحصیل روجھان کے مواضعات کے مستحقین خواتین کو ادائیگی کی گئی مگر روجھان سٹی اور اس کی ملحقہ کچی بستیوں جن کا بہت سارا نقصان ہوا ہے ان شہریوں اور کچی آبادی کے رجسٹرڈ مستحقین کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی امدادی رقوم نہ ملنا سیلاب متاثرین کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے جن کے گھر بار اجڑ گئے جن کی پردہ دار متاثرین خواتین سڑکوں اور بندھوں پر برلب سڑک قسم پرسی کی حالت اور وقت کی ستم ظریفی کی وجہ سے اذیت میں مبتلا ہیں ان رجسٹرڈ مستحقین متاثرین سیلاب خواتین کو رقوم کی ادائیگی کر کے ان کے آنسو پونچھیں اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز سے ان کو رقوم کی ادائیگی کی جائے تاکہ ان کے دکھ کا بھی کچھ مدوا ہو سکے ، عوامی، سماجی، شہری، دیہی حلقوں نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام محترمہ شازیہ مری صاحبہ، رکن قومی اسمبلی سردار ریاض محمود مزاری اور پنجاب کی صوبائی حکومت سے اپیل کی ہے کہ روجھان سٹی اور کچی آبادی کے رودکوہی سیلابی پانی سے متاثرین رجسٹرڈ خواتین کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقوم کی اور دیگر ذرائع سے ادائیگی کی جائے تاکہ اس ملنے والی رقم سے اپنی ضروریات زندگی کی کچھ اشیاء کی خریداری کر کے اپنے تصرف میں لاسکیں.