fbpx

روس اور چین کو لڑاو ، امریکہ نے نئی سازش تیار کر لی ۔۔تحریر: نوید شیخ

جو موجودہ حالات چل رہے ہیں قدرتی امر ہے کہ چین اور روس کے درمیان تعلقات اب مزید مضبوط ہوں گے اور ان کے زیر اثر جو ممالک ہیں ۔ عنقریب انکا ایک نیا بلاک بنتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ اس سے دنیا میں کافی تبدیلیاں بہت تیزی سے رونما ہوں گی ۔

۔ جب بھی ایسا ہوا تو یقینی بات ہے کہ اقوام متحدہ اور سیکورٹی کونسل اپنا دائرہ اثر کھو دیں گے ۔ اس لیے میرا ماننا ہے کہ اس وقت بڑی تیزی سے دنیا ایک نئی دنیا بننے جا رہی ہے ۔ جہاں طاقت کا منبہ دو طاقتیں یا تین یا چار بھی ہو سکتی ہیں ۔ ہر خطے اور ہر علاقے کی اپنی ترجیحات ہوں گی ۔ مفادات ہوں گے ۔ ہر کسی کا اپنا انٹرنیٹ ، اپنی ٹیکنالوجی ، اپنی زبان ، اپنے قانون اور اپنے ہی اصول ہونگے ۔

۔ اس لیے فی الوقت تو امریکہ اور مغربی طاقت کا سورج بڑی تیزی سے غروب ہوتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ پر ایک چیز جس کے بارے ہم کو یاد رکھنا چاہیے کہ مغرب جیسی سازش شاید ہی کوئی کرسکتا ہو ۔ اس میں یہ ماہر ہیں ۔ اور آج اس وی لاگ میں ۔ اس ہی بارے میں آپکو بتاوں گا ۔

۔ کہ کیسے امریکہ واقعتا چین اور روس کے مابین پائے جانے والے اختلافات کا فائدہ اٹھانے کی کوششوں میں ہے ۔

۔ اگر آپکو یاد ہو تو گزشتہ سال دسمبر کے آخر میں چین کے صدر شی جن پنگ اور ان کے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن نے ایک فون کال کے دوران ، دونوں ممالک کے مابین جامع شراکت داری اور اسٹریٹجک تعاون کی بنیاد رکھی گئی ۔

۔ لگ ایسا رہا ہے کہ بائیڈن کی نئی انتظامیہ نے روس فوبیا کو چھوڑ دیا ہے اور ماسکو سے اتحاد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ چین کی طاقت میں اضافہ کو امریکہ چین کے ہمسایہ میں بڑے ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات کو قائم کرکے زائل کیا جا سکتا ہے ۔

۔ حالیہ جوبائیڈن اور پیوٹن کی ملاقات میں بھی امریکہ یہ ہی کرنے کی کوشش کرے گا ۔ کہ روس کو کچھ نہ کچھ ریلیف دیا جائے اور بدلے میں روس کم ازکم چین والے میں معاملے میں نیوٹرل ہوجائے ۔ چپ ہو جائے ۔ کیونکہ اکیلے اکیلے چین یا روس کا مقابلہ کرنا امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے لیے زیادہ آسان ہے ۔ یہ وہی برسوں سے آزمودہ فارمولا ہے ۔ divide and rule والا۔ ابھی تک تو امریکہ اس سلسلے میں کامیاب ہوتا دیکھائی نہیں دیتا ہے ۔

۔ مگر یاد رکھیں طاقت کے اپنے اصول ہیں ۔ روس کا یہ خوف کہ وہ چین کے مقابلے میں کمتر حیثیت کا ہے ۔ مستقبل میں چین کے ساتھ تعاون کو روک سکتا ہے۔ روس میں واقعی کچھ لوگوں کو خوف لاحق ہے کہ چینی معیشت پر زیادہ انحصار ماسکو کو مراعات دینے پر مجبور کردے گا جس پر اب تک تو روس نے مزاحمت کی ہے۔ مثال کے طور پر اگر روس کو لگا کہ اسے غیر منظم طور پر کسی محکوم مقام پر رکھا گیا ہے ۔ یا اگر چین کو لگتا ہے کہ اسے مغرب کے ساتھ کسی ناپسندیدہ تصادم میں گھسیٹا جارہا ہے۔ اور روس ساتھ نہیں دے رہا ۔تو یہ مفاہمت ختم بھی ہوسکتی ہے ۔

۔ پھر آپ دیکھیں ہیں تو یہ دونوں ممالک ہی بڑے gaints اور شاید ٹیکنالوجی میں روس چین سے آگے ہی ہے ۔ مگر دوسری جانب چین کاروبار میں کافی آگے ہے ۔ یوں دیکھا جائے تو مستقبل قریب میں اگر کوئی ایسا بندوبست ہوجاتا ہے کہ اس خطے میں چین اور روس کی اجارہ داری ہوگی تو اس کے بعد سب سے بڑا سوال یہ ہی ہوگا کہ جنوبی ایشیا ہو ، فار ایسٹ ایشیا ہو ، یوریشیا ہو ۔ اس میں کس ملک کی کمپنی کیا کام کرے گی ۔ کس کو کیا ٹھیکہ ملے گا ۔ تو یہ ایک ایسی چیز اور معاملہ ہے جس کو وقت سے پہلے امریکہ expliot کرنے کی کوشش کرے گا ۔ اور یوں امریکہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہونے کی امیدیں لگائے بیٹھا ہے ۔

۔ دوسری جانب روس کے اندر موجود بہت سے سکالرز کا خیال یہ ہے کہ یہ بندوبست چین اور روس میں پہلے طے ہوچکا ہے کہ نئی دنیا میں روس تحفظ فراہم کرے گا یعنی سیکورٹی۔۔۔۔

۔ اور اسکے ذریعے اپنی طاقت اور پیسے میں اضافہ کرے گا جبکہ چین کاروبار کرے گا ۔ اور بنیادی طور پر چین کے ساتھ خوشگوار اور دوستانہ تعلقات برقرار رکھنا روس کے اپنے مفاد میں ہے۔ جبکہ Carnegie Moscow Centerکے ڈائریکٹر Dmitri Trenin
کے الفاظ میں چین کے ساتھ دوستی کا متبادل روس کے لئے تباہی ہوگی۔۔ یہ بات سمجھ میں بھی آتی ہے کیونکہ ایک دفعہ مغرب نے چین والا معاملہ حل کرلیا تو اس کا اگلاٹارگٹ یقینی طور پر روس ہی ہوگا ۔۔ اسی لیے پچھلے کئی سالوں میں ماسکو اور بیجنگ اپنے تعلقات کو ایک اعلی سطح پر لے گئے ہیں ۔ روس اپنا جدید ترین ہتھیار جیسے سکھوئی 35 جیٹ لڑاکا۔ ایس 400 میزائل سسٹم چین کو فروخت کررہا ہے۔ یہ چین اور روس کے تعلقات کی قربت کا علامتی ڈسپلے ہے۔ مزید یہ کہ دونوں نئے محاذوں میں داخل ہو رہے ہیں ۔ جن میں مشترکہ ہائی ٹیک منصوبے شامل ہیں ۔ اس میں Tianwan میں روسی فرم Rosatom کے ذریعہ ایٹمی ری ایکٹرز کی تعمیر اور Xudapu
جوہری بجلی گھر شامل ہیں۔ دونوں ممالک مشترکہ طور پر ایک نیا مسافر طیارہ ، CR929 بھی تیار کریں گے اور قمری خلائی اسٹیشن بنانے کا ہدف رکھیں گے۔ ان پیش رفتوں کے اچانک الٹ جانے کا تصور کرنا مشکل ہے ، جس کو حاصل کرنے میں برسوں لگے۔

۔ پر سازش اور مغرب ان دوںوں کا پرانا ساتھ ہے ۔ میرے حساب سے امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے سازشوں کا جال بننا شروع کر دیا ہوگا ۔ اور جیسے کواڈ گروپ ، جی سیون اور اب نیٹو کے ذریعے چین پر پریشر بڑھا رہا ہے اس سے تو لگتا کیا ہے بلکہ صاف دیکھائی دے رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکہ کا اگلا وار یہ ہو گا کہ کسی طرح عالمی سطح پر چین پر sanctions لگوائی جائیں چاہے ۔ پھر چاہے شکنکیانگ والا معاملہ ہو ، تائیوان والا معاملہ ہو ، وباء والا معاملہ یا انسانی حقوق والا معاملہ ہے ۔ کسی بھی ایشو کا اٹھایا جاسکتا ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جس زور اور شد ومد سے جوبائیڈن اس پر توجہ دے رہے ہیں کہ یہ وائرس کہاں سے اور کیسے شروع ہوا ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جلد دنیا کو بتایا جائے کہ یہ انسان کا بنایا ہوا وائرس ہے اور اسکے پیچھے چین تھا یا اسکی لیبارٹری تھی ۔ اور اس کو بنیاد بنا کر چین کھڈے لائن لگایا جا ئے ۔ پر جو بھی اقدام چین کے خلاف اٹھایا گیا اس پر اگر روس خاموش رہا ہے یا چین کے دوست ممالک خاموش رہے تو چین سے نبٹانا آسان نظر آتا ہے ۔ کیونکہ آپ دیکھیں ابھی تک نیٹو ، جی سیون یا کواڈ گروپ کی طرف سے جو بھی بیانات آئے ہیں اس پر چین کے حق میں ابھی تک کسی بھی جانب سے کوئی بیان نہیں آیا ہے ۔ امریکہ کا پلان بھی یہ ہی دیکھائی دیتا ہے کہ اتنا گرد اور جھوٹ پھیلاؤ ۔ ساتھ ہی سب کو چپ رکھو ۔ پھر جو چاہے ۔ جیسے مرضی چین سے ڈیل کرو ۔ اس پر پابندیاں لگاؤ یا اس کے خلاف اقدامات کرو ۔ تو اس تمام صورتحال میں امریکہ اور مغرب کے ساتھ ساتھ چین اور روس کے تعلقات پر بھی بڑی گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔