fbpx

روسی وزیر خارجہ بھارت کو کس بات پر آمادہ کر سکتے ہیں؟ قریشی نے امیدیں لگا لیں

روسی وزیر خارجہ بھارت کو کس بات پر آمادہ کر سکتے ہیں؟ قریشی نے امیدیں لگا لیں

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے روس کے وزیر خارجہ سرگئ لیوروف کے دورہ ء پاکستان کے حوالے سے اہم ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ روس کے وزیر خارجہ جناب سرگئ لیوروف آج پاکستان تشریف لا رہے ہیں

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یہ کسی روسی وزیر خارجہ کا نو سال کے بعد پاکستان کا دورہ ہے اس بات سے کوئی اختلاف نہیں کر سکتا کہ روس اس خطے کا انتہائی اہم ملک ہے یہ دورہ اس بات کی عکاسی کر رہا ہے کہ روس کے ساتھ ہمارے دو طرفہ تعلقات ایک نیا رخ اختیار کر رہے ہیں ہمارے دو طرفہ تعلقات میں بہتری آ رہی ہے ہم ایک دوسرے کے ساتھ خطے میں تعاون کا ارادہ رکھتے ہیں ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے معاشی اور دفاعی تعلقات کیسے آگے بڑھ رہے ہیں نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن منصوبے کو ہم دونوں آگے بڑھانا چاہتے ہیں ہمارے ہاں جب آٹے کا بحران پیدا ہوا تو روس نے ہمیں بروقت گندم فراہم کی تاکہ ہماری قیمتیں مستحکم رہیں

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ روسی وزیر خارجہ کے ساتھ دو طرفہ تجارت کے فروغ کے حوالے سے بات چیت ہو گی اسٹیل مل انہوں نے لگائی تھی اگر اس کی بحالی کیلئے سرمایہ کاری کی صورت نکل آئے یا کوئی اور سرمایہ کاری کی سبیل نکلتی ہے تو دو طرفہ تعاون بڑھانے کے اچھے مواقع ہمیں میسر آ سکتے ہیں پاکستان اور روس، مل کر افغان امن عمل میں کردار ادا کر رہے ہیں 18 مارچ کو ماسکو میں ایک سہ فریقی اجلاس ہوا جس میں پاکستان نے شرکت کی دشنبے میں میری ایمبیسڈر ضمیر کابلوف کے ساتھ ملاقات ہوئی ایمبیسڈر ضمیر کابلوف کے ساتھ افغان امن عمل میں ابھرتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا روس کے وزیر خارجہ دہلی سے ہو کر آ رہے ہیں ہندوستان کے ساتھ روس کے دیرینہ تعلقات ہیں روس بھارت کو افغانستان میں قیام امن کیلئے مثبت کردار ادا کرنے پر آمادہ کر سکتا ہے مجھے خوشی ہے کہ روسی وزیر خارجہ پاکستان تشریف لا رہے ہیں میں ان کے خیر مقدم کیلئے خود ائرپورٹ جاؤں گا ان کا دورہ دو روز پر مشتمل ہے روسی وزیر خارجہ وزارت خارجہ میں وفود کی سطح پر مذاکرات میں شریک ہوں گے ان کی وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات ہو گی روسی وزیر خارجہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کریں گے میرے نزدیک روسی وزیر خارجہ کا دورہ ء پاکستان ،دو طرفہ تعلقات کے فروغ کے حوالے سے انتہائی اہم دورہ ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.