روز ویلٹ ہوٹل کی بندش،اسلام آباد ہائیکورٹ نے بڑا حکم دے دیا

روز ویلٹ ہوٹل کی بندش،اسلام آباد ہائیکورٹ نے بڑا حکم دے دیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی آئی اے کے نیویارک میں واقع روز ویلٹ ہوٹل کی بندش کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی

حکومت کی روز ویلٹ ہوٹل سے متعلق پالیسی کیا ہے؟ اسلام آباد ہائیکورٹ نے جواب طلب کرلیا،عدالت نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کو حکومت سے ہدایات لیکر آیندہ سماعت پر آگاہ کرنے کی ہدایت کی

وکیل نے کہا کہ نیویارک میں قائم قومی عمارت روزویلٹ ہوٹل کو اپارٹمنٹس اوردفاترمیں تبدیل کیا جا رہا ہے،جس پر عدالت نے کہا کہ پہلے بھی اس سےمتعلق درخواست آئی تھی، حکومت کے بیان کے بعد نمٹا دی تھی،

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل حکومت سے پالیسی سے متعلق ہدایات لیکر آگاہ کریں،عدالت نے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردی

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کہ کہ عدالت روزویلٹ ہوٹل کی بندش روکنے اور کاروبار جاری رکھنے کا حکم دے

واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس جاوید اقبال نے بعض میڈیا رپورٹس جن میں امریکہ کے شہر نیویارک میں گزشتہ تقریباََ (100) سالو ں سے انتہائی مرکزی جگہ پرقائم پاکستان کے مشہور زمانہ روز و یلٹ ہوٹل کو 31اکتوبر 2020سے بند کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی نیب راولپنڈی کو تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

تحقیقات میں اس با ت کا جائزہ لیا جائے گا کہ امریکہ کے شہر نیو یارک میں انتہائی مرکزی جگہ پر قائم پاکستان کے قومی اثاثہ روز ویلٹ ہوٹل کو بند کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی خصوصاََ ان وجوہات کا جائزہ لیا جائے گا جن کی وجہ سے حکومت پاکستان کو مبینہ طور پر لاکھوں ڈالر ز کا نقصان ہوا۔

اس کے علاوہ ان ذمہ داران کا بھی تعین کیا جائے گا جنہوں نے اپنے قومی فرائض کی انجام دہی میں مبینہ طور پر کوتاہی برتی اورامریکہ کے شہر نیو یارک میں انتہائی مرکزی جگہ پر قائم روز ویلٹ ہوٹل کو منافع بخش بنانے میں اپنا کردار ادا نہیں کیا۔

نیویارک میں پی آئی اے کی ملکیت روز ویلٹ ہوٹل بند کرنے کا اعلان کیا تھا انتظامیہ کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی صورتحال کے باعث 31 اکتوبر سے ہوٹل بند کر رہے ہیں۔ انتظامیہ نے ہوٹل بند کرنے کا اعلان چند گھنٹے بعد ویب سائٹ سے ہٹالیا۔ پی آئی اے نے نوے کی دہائی میں ہوٹل روز ویلٹ 3 کروڑ 60 لاکھ ڈالر میں خریدا تھا۔

امریکی صدر تھیوڈور روز ویلٹ کے نام پر بنائے گئے ہوٹل کا افتتاح 23 ستمبر 1924 کو ہوا، اس وقت ہوٹل کی مالیت ایک بلین ڈالر کے قریب ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے بھی ہوٹل کی خریداری کی پیشکش کی خبریں سوشل میڈیا کی زینت بنی رہی ہیں۔ہوٹل کو جوائنٹ وینچر میں چلانے کا جائزہ لینے کے لئے ایک کنسلٹنٹ کی خدمات بھی حاصل کی گئی تھیں

روزویلٹ ہوٹل کی فروخت پر غور کے لیے سی سی او پی اجلاس سے متعلق رپورٹس سامنے آنے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے اس اقدام کو ‘غلط وقت’ پر شروع کرنے کی مخالفت کی تھی۔

پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کے ساتھ روزویلٹ ہوٹل بھی حکومت کے نشانے پر ہے، حکومت آئی ایم ایف کے کہنے پر پورے ملک کی نجکاری کرنے کو تیار ہے،انقلابی سرکار ادارے ٹھیک کرنے کا دعوہ کرتی تھی اب ادارے بیچ رہی ہے،

قبل ازیں مسلم لیگ ن کے 6 ارکان نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو خط لکھا ہے،مسلم لیگ (ن) نے روز ویلٹ ہوٹل کی نجکاری پر آئینی اعتراضات اٹھا دئیے

مسلم لیگ (ن) نے روز ویلٹ ہوٹل کی نجکاری پر آئینی اعتراضات اٹھا دئیے

پی آئی اے کی ملکیت روز ویلٹ ہوٹل بارے حکومت کیا کرنے جا رہی؟ بتا دیا

پی آئی اے کی ملکیت روز ویلٹ ہوٹل بارے حکومت کیا کرنے جا رہی؟ بتا دیا

خواجہ آصف اورمحسن نواز رانجھا کے دستخط سے خط ا سپیکر اسدقیصر کو ارسال کیا گیا ہے،ن لیگی اراکین نے خط میں کہا ہے کہ روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری پرکابینہ کمیٹی کی تشکیل غیرآئینی ہے ،روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری دستور کے منافی اور عوامی سرمائے کا ضیاع ہے، مجلس قائمہ نے سوال اٹھایا ہے کہ پی آئی اے کا یہ ہوٹل اس وقت کیوں بیچا جارہا ہے؟

خط میں مزید کہا گیا کہ آئین کی رو سے ایسا کوئی بھی اقدام دستور وقانون کی خلاف ورزی ہے، کورونا کی وجہ سے پروازوں کی طرح سیاحت اور ہوٹل کا شعبہ بھی بدترین متاثر ہوا ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.