fbpx

آر ایس ایس اور بے جی پی کا گھناؤنا منصوبہ بے نقاب،مودی کا بچھایا بارود پھٹ پڑا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اس وقت آرایس ایس کی حمایت سے بی جے پی کی حکومت بھارت کے اندر انسانی تاریخ کا ایسا المناک کھیل کھیل رہی ہے جس کی بارے لکھتے ہوئے بھی مورخ یقینا شرمندگی محسوس کرے گا۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اگر دیکھا جائے تو آر ایس ایس کی صف اول کی قیادت میں محض نریندر مودی ، جنرل بپن راوت، اجیت ڈووال، موہن بھاگوت ، راج ناتھ سنگھ اور امت شاہ شامل ہے۔ یہ ٹولہ گذشتہ کافی عرصے سے سب کچھ منظم انداز میں کر رہا ہے ۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ آر ایس ایس کے زیر اہتمام 2009 میں ایک تھنک ٹینک وجود میں آتا ہے جس کا بنیادی ہدف یہ قرار دیا جاتا ہے کہ 2025
تک ہندو ازم کو سرکاری طور پر باقاعدہ بھارت کا ریاستی مذہب قرار دیا جا سکے۔ اس کے بانی سربراہ اجیت ڈووال مقرر کئے جاتے ہیں۔ اور اسی سال موہن بھاگوت آر ایس ایس کی باگ ڈور سنبھالتے ہیں اور اس کے پانچ سال کے بعد مودی کی قیادت میں بی جے پی بھارت میں بھاری اکثریت سے الیکشن جیت جاتی ہے اور اس کے بعد مودی وزیر اعظم بننے کے بعد جو سب سے پہلا کام کرتا ہے وہ اجیت ڈول کی تقرری کرتا ہے ۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر بعد کی کہانی آپکو معلوم ہے کہ شہریت قانون ، بابری مسجد ، مقبوضہ کشمیر کو ضم کرنا ، سکھوں کو نکیل ڈالنا ۔ مسلمانوں کو دیوار کے ساتھ لگنا ، دلتوں کو سبق سکھنا ۔ سب کچھ ہنگامی بنیادوں پر کیا جاتا ہے ۔ اور ایسے نہ ختم ہونے والے کا سلسلہ اب بھی تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ حقیقت میں بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی کا جو لوگوں کے ساتھ سلوک ہے اس سے بھارت کا ایک بڑا طبقہ بہت مایوس ہے۔ میں آپکو بتاوں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمون کے سربراہ اسد الدین اویسی تو بارہا کہہ چکے ہیں کہ
گوڈسے نے تو صرف ایک گاندھی کو قتل کیا تھا لیکن موجودہ گوڈسے (نریندر مودی) نے پورے بھارت کو قتل کر دیا ہے۔ BJP کی زبان پر تو گاندھی کا نام ہوتا ہے مگر ذہن پر ان کا قاتل ناتھورام گوڈسے سوار ہے، BJP گاندھی کے نام کی دکان کھولے پورے بھارت کو بیوقوف بنا رہی ہے ۔ اس کے جو نتائج ہندوستان پر مرتب ہو رہے ہیں اور مزید ہونگے۔ ان کو آنے والا وقت مستقبل قریب میں واضح کر دے گا۔ یہ صرف اسد الدین اویسی ہی نہیں راہول گاندھی بھی شور مچا رہے ہیں کہ بی جے پی اداروں پر قابض امریکہ کیوں خاموش ہے۔ مگر یہاں اصل بات یہ ہے کہ بھارت میں یہ سب کچھ اچانک تو نہیں ہوا بلکہ اس کے آثار بہت حد تک نمایاں تھے ۔۔ 2005 میں انڈین انٹیلی بیورو کے چیف کی حیثیت سے ریٹائرمنٹ کے بعد ڈووال نے آر ایس ایس میں نہ صرف باقاعدہ شمولیت اختیار کر لی بلکہ عہد کیا کہ وہ اپنی تمام توانائیاں آر ایس ایس اور ہندو ازم کے فروغ میں صرف کر دے گا ۔ اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر آر ایس ایس اور ’’را ‘‘کی مشترکہ تحریک Vivekananda International Foundation (وی آئی ایف) کے نام سے ایک ادارہ وجود میں آیا جو بادی النظر میں تو ایک تھنک ٹینک تھا لیکن در حقیقت اس میں ۔۔۔ را ۔۔۔ کا سابق چیف اروند گپتا، سابق ڈپٹی چیف آف آرمی سٹاف لیفٹینٹ جنرل (ر) آر کے ساہنی، ڈاکٹر شری رادھا دت، لیفٹیننٹ جنرل (ر) گوتم بینر جی، بریگیڈیئر (ر) ونود آنند، آر این پی سنگھ، ڈاکٹر وجے شکوجا، میجر جنرل (ر) پی کے ملک، تلک دویشر، سابق سفارتکار پربھات شکلا، سابق سیکرٹری خارجہ کنول سبل،سمیت بھارت کے صف اول کے دفاعی، ثقافتی، خارجی ، داخلی اور سفارتی امور کے ماہر اور ماہرین لسانیات شامل ہیں۔ یوں در حقیقت اس انتہا پسند مگر پر اسرار ادارے کو سپر راء کا نام دیا جائے تو غلط نہ ہو گا ۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بات خاصی اہم اور توجہ طلب ہے کہ آر ایس ایس کی اس تنظیم نو کے دوسرے مرحلے میں آر ایس ایس سے وابستہ زیادہ شدت پسند عناصر نے دانستہ طور پر واجپائی ، جسونت سنگھ، یشونت سنہا، مرلی منوہر جوشی اور ایل کے ایڈوانی کو موثر ڈھنگ سے عملاً بے اثر کر دیا۔ بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق واجپائی اور جسونت سنگھ کو تو باقاعدہ ذہنی اور جسمانی طور پر مفلوج کر دیا گیا تا کہ یہ نسبتاً اعتدال پسند سمجھی جانے والی شخصیات وی آئی ایف Vivekananda International Foundation پر انگلی نہ اٹھا سکیں۔ بہت سے لوگ تو یہ بھی مانتے ہیں کہ سشما سوراج اور ارون جیٹلی کے ساتھ بھی درحقیقت یہی کیا گیا کیونکہ دونوں افراد ایک سے زائد جگہ پر اس super raw کے بڑھتے اثر و رسوخ پر انگلی اٹھا چکے تھے۔ ۔ آپ بھارت کی سرکاری ٹی وی دور درشن نے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت کے سالانہ خطاب کو براہِ راست نشر کیا۔۔ آپکو بتاوں آر ایس ایس 1925 میں قائم کی گئی تھی جس پر آزادی کے بعد تین دفعہ پابندی عائد کی گئی ۔ پر اس وقت اس کا جادو پورے بھارت پر سرچڑھ کر بول رہا ہے ۔۔ آر ایس ایس کے نظریات سے متاثر مودی انڈیا کو ایک ہندو راشٹریا میں تبدیل کرکے مذہبی اقلیتوں کو دیوار سے لگانا چاہتے ہیں۔ یہ دراصل غیر ہندوؤں کو ہندوتوا کے لیے خطرہ مانتے ہیں۔آر ایس ایس بی جے پی کی ’ماں‘ ہے ۔ آر ایس ایس کئی تھنک ٹینک بھی چلاتی ہے۔ ان میں سے چند نامی گرامی صنعت کاروں اور کاروباری افراد کے فراہم کردہ سرمائے سے چلائے جاتے ہیں۔ آر ایس ایس نے کبھی انڈیا کے آئین کو دل سے قبول نہیں کیا اور بار بار مختلف حلقے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کی ہمنوا پارٹی جب دو تہائی اکثریت سے حکومت میں آئے گی تو وہ اسے بدل دیں گے۔ ۔ اس کی ہمنوا تنظیموں کی ایک لمبی فہرست ہے جسے ۔۔۔ سنگھ پریوار۔۔۔ یعنی آر ایس ایس کا خاندان کہا جاتا ہے اور یہ دو درجن سے زیادہ پارٹیوں پر مشتمل ہے۔ ان میں بی جے پی یعنی بھارتیہ جنتا پارٹی ان کا سیاسی چہرہ ہے جبکہ اسی طرز پر بھارتیہ کسان سنگھ، بھارتیہ مزدور سنگھ وغیرہ ہیں۔ وہ پورے ملک میں شاکھا لگاتے ہیں جہاں لوگوں کو لاٹھی، تلوار، بھالے وغیرہ سے تربیت دی جاتی ہے۔ فی الحال ان کی تازہ رپورٹ کے مطابق پورے ملک میں 84 ہزار شاکھائیں لگتی ہیں جن میں سے تقریبا 60 ہزار روزانہ لگتی ہیں۔ ان میں انھیں جہاں عسکری تربیت دی جاتی ہے وہیں انھیں حالات حاضرہ سے باخبر رکھا جاتا ہے۔ ۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی تنظیم کہلاتی ہے اس کے کارکنوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ یہ بھارت میں ابتدائی تعلیم کے لیے سرسوتی ششو مندر کے طور پر تقریبا
12000 سکول چلاتے ہیں جبکہ اتنے ہی سکول ودیا بھارتی کے نام سے ثانوی سطح کے چلاتے ہیں جہاں تقریبا 40 لاکھ بچے زیر تعلیم ہیں۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس لیے میں آپکو بغیر کسی شک و شبہے کے بتارہا ہوں کہ آر ایس ایس کو بھارتیہ جنتا پارٹی اپنی نظریاتی اساس یا بنیاد مانتی ہے۔ بی جے پی کے تمام پالیسیاں آر ایس ایس کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں۔ اور ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ دوسری جانب یہ بھی ایک کھلا راز ہے کہ بھارت میں علیحدگی کی تحریکیں ہر آنے والے دن کے ساتھ زور پکڑتی جا رہی ہیں اور خصوصاً شمال مشرقی بھارت کے صوبوں یعنی ناگا لینڈ، میزورام، میگھالیہ، منی پور، تری پورہ ، ارونا چل پردیش ،سکم اور آسام میں تویہ باقاعدہ آزادی کی تحریکیں بن چکی ہیں۔ ۔ ماہرین کے مطابق ہندوستان کے چھ سو اضلاع میں سے 240 سے زائد ضلعوں میں نکسلائٹ تحریک زوروں پر ہے اور ہزاروں افراد اس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی سطح پر اس جانب توجہ دی جائے کیونکہ انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں جلد یا بدیر خطے میں کسی بڑے حادثے یا سانحے کا باعث بن سکتی ہیں۔ ابھی حال ہی میں چھتیس گڑھ میں ماؤ نواز باغیوں کے خلاف ہونے والے آپریشن میں 22 انڈین فوجیوں کی ہلاکت ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے ۔ اتنی زیادہ تعداد میں فوجیوں کی ہلاکت کے باعث یہ پوچھا جا رہا ہے کیا یہ سٹریٹیجک غلطی تھی یا اسے انٹلیجنس سسٹم کی ناکامی سمجھا جانا چاہیے۔ کیا فوجیوں کے مابین باہمی رابطے کا فقدان تھا جس کی وجہ سے جدید ترین اسلحوں سے لیس دو ہزار سے زیادہ جوان چند سو ماؤ نوازوں کا مقابلہ نہیں کر سکے؟ ۔ تو نہ سٹریٹجک غلطی تھی نہ ہی انٹیلی جنس کی ناکام ۔ بھارتی فوج کی اہلیت ہی یہ ہے وہ صرف نہتے لوگوں پر ظلم وستم ہی کر سکتی ہے ۔ ویسے ہمیشہ بھارتی فوج ایسے ہی مار کھاتی ہے ۔ یہ کوئی نیا واقعہ نہیں اس علاقے میں ہمیشہ بھارتی فوج کو مار ہی پڑی ہے اور بہت سے فوجی تو یہاں ڈیوٹی لگ جانے سے فوج ہی چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.