سینیٹرروبینہ خالد کے ادارے نے طلبا کا مستقبل تباہ کر دیا

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹرروبینہ خالد کے ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کلچرل سٹڈیز نے 40سے زائد طلبا و طالبات کا تعلیمی و پروفیشنل کیریئر دا پر لگا دیا،اصل اسناد ادارے نے غیرقانونی طورپراپنے پاس رکھے ہوئے ہیں نہ تعلیم آگے جاری رکھ سکتے ہیں اورنہ ہی گورنمنٹ ملازمت کیلئے اپلائی کر سکتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی خاتون سینیٹر روبینہ خالد کے‌خلاف ریفرنس دائر

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب سکل ڈویلپمنٹ کے تحت گزشتہ سال ستمبر 2018 میں پرنٹ میڈیا گرافکس ڈیزائنینگ اور فیشن ڈیزائنینگ کے دو کورسز شروع کروائے گے،جن کا مقصد نوجوانوں کو ہنر مند بنانا اور بہتر روزگار مہیا کرنا تھا، مگر بدقسمتی سے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کلچرل سٹڈیز میں روزگار اور ہنر مند بننے کے خواہشمند طلبا نہ تو ہنر مند بن سکے اور نہ ہی ملازمت پا سکے،

لوک ورثہ میں واقع نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کلچرل سٹڈیز پچھلے چھے ماہ سے سیل ہے، پرنٹ میڈیا گرافکس ڈیزائنینگ کی متاثرہ طالبہ عائزہ مغل نے بتایا کہ داخلے کے وقت اس سمیت تمام سٹوڈنٹس کی اصل تعلیمی اسناد اور ڈومیسائل اس شرط پر جمع کر لئے گے کہ کورس کے اختتام پر انہیں ڈاکومنٹس واپس کر دئے جائیں گے مزید برآں اگر دوران کورس بھی کسی کو اصل ڈاکومنٹس کی ضرورت پیش آئے تو وہ لے سکتا ہے، تقریبا دو ماہ کلاسز چلیں کہ پروگرام کوآرڈینیٹرز میڈم ندا کی جانب سے کلاس کے واٹس ایپ گروپ میں یہ مسج موصول ہوا کہ ادارہ کل بند رہے گا اور ہمارے اگلے پیغام کے آنے تک آپ کی کلاسز عارضی طور پر بند ہیں،اس کے بعد چھے ماہ گزر چکے ہیں کسی کا کوئی میسج نہیں آیا سٹوڈنٹس کی جانب سے ادارے کی انتظامیہ سے بار بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گی مگر کوئی رسپانس نہیں دیا گیا اور نہ ہی کوئی معقول وجہ بتائی گی البتہ میڈیا کے ذریعے اب معلوم ہو رہا ہے کہ سینیٹر روبینہ خالد جو اس ادارے کی سربراہ ہیں ان پر کرپشن اور تجاوزات کے کیسز ہیں جسکی وجہ سے انکے کیریئر کا نقصان ہو رہا ہے ، ماریہ،خنسا، عائشہ، مرزا خبیب، اویس ودیگر نے بتایا کہ اصل اسناد ادارے کے پاس جمع ہونے کی وجہ سے وہ نہ تو اپنی تعلیم آگے جاری رکھ پا رہے ہیں اور نا ہی گورنمنٹ ملازمت کیلئے اپلائی کر سکتے ہیں،اصل اسناد جمع کروانا پی ایس ڈی ایف کی ریکوائرمنٹ بھی نہیں تھی اور نہ ہی پہلے کبھی ایسا ہوا ہے کہ طلبا کے اصل ڈاکومنٹس جمع کئے جائیں، نیکس انتظامیہ نے یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی پلاننگ کے تحت کیا اور اصل ڈاکومنٹس جمع نا کروانے والے طلبا کو کورس سے نکالنی کی دھمکی دی،

متاثرہ طلبا و طالبات نے وزیراعظم عمران خان اور وزیر تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ ناصرف انکی اصل تعلیمی اسناد واپس لے کر دی جائیں بلکہ انہیں وعدہ کے مطابق ہنر اور ملازمت بھی دی جائے اور جو وقت کا ضیاع ہوا ہے اس پر ادارے کے خلاف سخت ترین قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے تا کہ آئندہ کوئی ادارہ طلبا کے مستقبل کے ساتھ ایسا کھیل نا کھیل سکے .

محمد اویس

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.